متحدہ عرب امارات نے ایسا اعلان کر دیا کہ انڈیا اور افغانستان کی سٹی گم ہو گئی !

news-

اسلام آباد، دبئی سٹی ۔ افغان صوبے کندھار میں بم دھماکے کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات کے پانچ سفارتکاروں کی شہادت کے بعد افغانستان اور بھار ت نے پاکستان کو موردالزام ٹھہراتے ہوئے پراپیگنڈا شروع کردیاتھا جس سے پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات متاثر ہونے کاخدشہ پیدا ہوگیا تھا لیکن اب یواے ای نے واضح اعلان کردیا اور متحدہ عرب امارات کے سینئر پولیس حکام نے کندھار میں بم دھماکے کا ذمہ دار افغان حکومت کو قراردیاہے ۔
ایکسپریس ٹربیون کے مطابق یہ دھماکہ قندھار کے گورنر کے ہائی سیکیورٹی گیسٹ ہاﺅس کے اندر ہوا جہاں یواے ای کے سفیر جمعہ محمد عبداللہ الکابی سمیت سفارتکار مدعو تھے ، اس حملے کی کسی گروپ نے ذمہ داری قبول نہیں کی جبکہ طالبان نے ملوث ہونے کی تردید کی تھی ۔ یواے ای کے سفارتکار کے بیٹھنے کے لیے موجود صوفے کے نیچے نصب بم کے دھماکے سے ایک منٹ قبل ٹیلی فون سننے کے بہانے باہر چلے جانیوالے قندھار پولیس کے چیف جنرل عبدالرازق نے حقانی نیٹ ورک پر الزام لگایاجبکہ افغان نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر نے حنیف نے دعویٰ کیاتھاکہ حملے کی منصوبہ بندی بیرون ملک ہوئی تاہم دبئی پولیس کے ڈپٹی چیف لیفٹیننٹ جنرل داہی خلفان تمیم نے ان دعوﺅں کو مسترد کردیا اور کہاکہ افغان حکام ذمہ دار ہیں۔ ٹوئیٹر پر جنرل تمیم نے واضح کیاکہ ’ یواے ای کے سفارتکاروں اور سفیر کیساتھ جوکچھ ہوا اس کے ذمہ دار افغان سیکیورٹی حکام ہیں کیونکہ بارودی مواد گیسٹ ہاﺅس کے اندر ہی نصب کیاگیاتھا جہاں صرف سیکیورٹی کلیئرنس کے بعد ہی داخل ہوا جاسکتاہے ‘اگر حملہ باہر سے ہوتاتویہ اور بات تھی‘۔ اُن کاکہناتھاکہ افغانستان کیلئے امداد صرف اقوام متحدہ کے ذریعے ہی تقسیم ہونی چاہیے کیونکہ غیرملکی امدادی ایجنسیاں افغان حکام کے درمیان آپسی اختلافات کا باعث بنتی ہیں اور آپس میں ہی غیرملکی امداد پر لڑتے ہیں۔ یادرہے کہ کندھار میں ہونیوالے بم دھماکے میں افغانستان نے پاکستان کے ملوث ہونے کاالزام لگایاتھا جبکہ بھارتی میڈیا نے تو حد کردی تھی اوردعویٰ کیا تھاکہ امارات نے پاکستان سے تعلقات پر نظرثانی کردی ، پاکستان اگر تعلقات چاہتاہے تو اسے سرزمین پر موجود دہشتگردوں کیخلاف کارروائی کرے لیکن اب متحدہ عرب امارات کا موقف سامنے آنے کے بعد افغانستان اور اس کے نئے آقا یعنی بھارت کی عقل بھی ٹھکانے آجانے چاہیے :۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *