Site icon DUNYA PAKISTAN

’پٹھان‘ کا پہلے ہی روز 106 کروڑ کا بزنس مگر جعلی ریویوز میں فلم ’ایک دم بکواس‘

Share

بالی وڈ کے ’بادشاہ‘ شاہ رخ خان کی نئی فلم ’پٹھان‘ اس وقت فینز اور نقادوں کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے جس کا ایک روز میں ریکارڈ کاروبار اور مختلف آرا پر مبنی ریویوز زیر بحث ہیں۔

شاہ رُخ چار سال بعد انڈین فلموں میں واپسی کی ہے اور اس فلم کے کئی پہلوؤں کو لے کر ان کے حوالے سے بات کی جا رہی ہے۔ بڑے پردے پر دکھائے جانے سے پہلے سے ہی یہ فلم بحث کا موضوع بن گئی تھی۔

فلم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس کا شمار 2023 کی سپر ہِٹ فلموں میں ہو سکتا ہے۔

اگرچہ بعض ناقدین نے فلم کی کہانی پر اعتراضات اٹھائے ہیں تاہم کئی فینز نے کہا ہے کہ سینما گھروں میں ایک بار پھر شاہ رُخ چھا گئے ہیں۔

فلم تجزیہ کار شبھرا گپتا نے انڈین ایکسپریس میں لکھا کہ ’بالی وڈ اِز بیک۔ شاہ رُخ از بیک۔‘ یعنی بالی اور شاہ رُخ خان دونوں کی اس فلم سے واپسی ہوئی ہے۔

فلم میں دیپیکا پڈوکون اور جان ابراہیم بھی نمایاں کرداروں میں ہیں مگر پٹھان کا مرکزی کردار شاہ رُخ نبھاتے ہیں جو انڈیا کے خلاف شدت پسندی کا حملہ روکنے کے لیے انٹیلیجنس مشن پر ہے۔

فلم کا ٹریلر ہی یوٹیوب پر پانچ کروڑ سے زیادہ بار دیکھا جا چکا ہے۔

فلم تجزیہ کار ترن آدرش نے بتایا ہے کہ فلم کو دنیا بھر کی آٹھ ہزار سکینز پر ریلیز کیا گیا۔ یہ کسی بالی وڈ فلم کے لیے سب سے بڑی اوپننگ ہے۔

یش راج فلمز کے مطابق پٹھان نے پہلے روز ہندی، تمل اور تیلگو زبانوں میں ریلیز ہو کر 106 کروڑ روپے کمائے جو کہ ’ہندی سینما کی تاریخ میں سب سے بڑی اوپننگ ہے۔‘

انھوں نے ایک ٹویٹ میں لکھا کہ یہ ’کسی بھی ہندی فلم کے لیے سب سے بڑی اوپننگ ہے۔ وہ بھی تب جب اس روز کوئی چھٹی نہیں تھی اور نہ ہی یہ کسی بڑی فلم کا سیکوول تھا۔‘

فلم دیکھنے والوں کی اکثریت نے اسے پسند کیا ہے۔ ایک فین نے بی بی سی کو بتایا کہ ’شاہ رخ خان کی ایکٹنگ، سلمان خان (جن کی اس فلم میں گیسٹ اپیئرنس ہے) کی انٹری اور دیپیکا کا کمال کا ڈانس، یہ سب بہت اچھا رہا۔ یہ پوری طرح ایک فیملی فلم ہے جسے آپ بچوں اور بوڑھوں کے ساتھ بھی دیکھ سکتے ہیں۔‘

تاہم کچھ لوگوں کو فلم کی کہانی اور ڈائیلاگ پسند نہیں آئے۔ ایک شخص نے کہا ’یہ اوسط درجے کی فلم ہے۔ لوگ خوبصورت ہیں لیکن فلم اتنی خوبصورت نہیں۔ کہانی، سکرین پلے اس قدر اچھے نہیں۔ یہ بہت تیز چلنے والی فلم ہے۔‘

سینما مالکان نے کہا ہے کہ فلم کی مانگ اس قدر زیادہ تھی کہ انھیں اضافی شوز کا بندوبست کرنا پڑا ہے جبکہ پری بکنگ کے باعث بہت سے شائقین بدستور ٹکٹوں سے محروم ہیں۔

بدھ کو شاہ رخ نے خود ٹویٹ میں کہا کہ شمالی انڈیا میں پٹھان کی سکریننگ کے لیے 25 سنگل سکرین سینما گھر کھولے گئے ہیں جو کووڈ 19 کے دوران بند ہوئے تھے۔

نہ صرف یہ بلکہ پٹھان نے ایڈوانس بُکنگ میں بھی اپنی نوعیت کا نیا ریکارڈ بنایا ہے۔ ٹکٹنگ پلیٹ فارم بُک مائی شو نے خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کو بتایا کہ فلم پر عوام کا ردعمل بے مثال ہے اور انھوں نے پیر تک ہی 10 لاکھ سے زیادہ ٹکٹ کی ایڈوانس بکنگ کر دی تھی۔

فلمی نقاد کیا کہتے ہیں؟

شبھرا گپتا نے کہا ہے کہ فلم میں نان سٹاپ ایکشن اور دلکش ستاروں کے ساتھ ساتھ ایک ہیرو ہے جو دنیا کو بچانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس کے عمدہ گانے اور جذبات سے بھرے سینز نے لوگوں کو متاثر کیا ہے۔

جبکہ دیپنجنا پال نے کہا کہ آج انڈین سینما کے لیے پٹھان وہ ہیرو ہے جس کی اسے ضرورت ہے۔ انھوں نے لکھا کہ ’رومانوی ہیرو کی جگہ ایک سمجھدار اور سخت انسان نے لی ہے جو ہر صورت اپنی ذمہ داری نبھانا چاہتا ہے۔‘

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ فلم کے کچھ حصہ ناقابل سمجھ افسانہ ہیں۔ اخبار منٹ لانج کے لیے اودے بھاٹیا نے لکھا کہ فلم میں تفریح اور جاسوسی کے پہلو بہت زیادہ ہے، وہ بھی احمقانہ حد تک۔

نندنی رامنتھا نے کہا کہ فلم میں ایک موقع پر سٹنٹس اور سکرین پلے ناظرین کو بور کر دیتے ہیں۔ انھوں نے ویب سائٹ سکرول کے لیے لکھا کہ ’مگر جب بھی پٹھان کے ایکشن سینز اور عباس ٹائر والا کے عمدہ ڈائیلاگ آتے ہیں اور ہیرو بولتا ہے تو فلم ٹریک پر واپس آتی ہے۔‘

فینز نے سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز بھی شیئر کی ہیں جن میں لوگ سینما ہال میں شاہ رخ اور دیپیکا کے ساتھ ’جھومے جو پٹھان‘ اور ’بے شرم رنگ‘ پر ڈانس کر رہے ہیں۔

پہلے روز ہی سو کروڑ کا ریکارڈ کاروبار اور بعض جگہوں پر ہنگامے

فلم کے پروڈکشن ہاؤس ہش راج فلمز نے کہا ہے کہ انڈیا میں فلم کے ہندی ورژن نے پہلے دن 55 کروڑ جبکہ دیگر زبانوں نے دو کروڑ کمائے۔ جبکہ غیر ملکی سکرینز پر اس نے قریب 36 کروڑ کمائے۔

یوں پہلے روز 106 کروڑ کی کمائی سے اس نے ماضی کی تمام ہندی فلموں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

شاہ رخ خان کے قریبی سمجھے جانے والے فلمساز کرن جوہر نے 100 کروڑ عبور کرنے پر پٹھان کی پوری ٹیم کی تعریف کی ہے۔ انھوں نے شاہ رخ، دیپیکا، جان ابراہیم اور یش راج فلمز کو مبارکباد دی۔ اسی طرح کمل حسن نے بھی پٹھان کی ٹیم کو داد دی ہے۔

فلم کا ٹریلر اور گانے آنے کے بعد سے ہی اس پر تنازع شروع ہو گیا تھا اور بدھ کو سکریننگ کے دوران بھی بعض مقامات پر ہنگامے ہوئے۔

کرناٹک میں فلم کی سکریننگ روکنے اور پبلک پراپرٹی کو نقصان پہنچانے کے الزام میں 30 افراد کے خلاف مقدمہ دائر کیا گیا۔

ہریانہ میں بھی ایک دائیں بازو کے گروہ کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا جس نے مال میں پٹھان کے پوسٹر پھاڑے تھے۔

انتہا پسند ہندو گروہوں نے ریلیز سے پہلے بھی پٹھان کے خلاف احتجاجی مظاہر کیے تھے۔ ’بے شرم رنگ‘ نامی گانے میں دیپیکا پر تنقید کی گئی کیونکہ انھوں نے زعفران رنگ کی بِکنی پہنی تھی۔ انھوں نے شاہ رخ پر ہندوؤں کی توہین کا الزام لگایا کیونکہ وہ زعفران رنگ کو مقدس سمجھتے ہیں۔

تاہم سینما میں اس گانے سے وہ سینز حذف نہیں کیے گئے جن پر اعتراض کیا جا رہا تھا۔

جعلی ریویوز کا معاملہ

انڈیا میں بعض فیکٹ چیکرز نے اس بات کی بھی نشاندہی کی ہے کہ سوشل میڈیا پر پرانے فلموں کے ریویوز کو جعلی طریقے سے پٹھان کا ریویو بنا کر شیئر کیا جا رہا ہے جس میں لوگ کسی دوسری فلم پر منفی ردعمل دے رہے ہیں۔

آلٹ نیوز کے شریک بانی محمد زبیر نے ٹوئٹر پر بتایا ہے کہ اس کام کے لیے شاہ رخ کی پرانی فلمیں ’زیرو‘ اور ’جب ہیری میٹ سیجل‘ پر ناظرین کا ردعمل دوبارہ کیا جا رہا ہے جس میں لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ بُری فلم ہے۔

ایک جعلی ٹویٹ میں لکھا گیا کہ ’ایس آر کے کے بڑے فین نے پٹھان کا ریویو کیا‘ تاہم یہ دراصل روحی کا ریویو تھا جس میں ایک شخص کہتا ہے کہ یہ بیکار فلم ہے۔

اسی طرح ایک ویڈّیو میں فلم دیکھ کر لوٹنے والی خاتون کیمرے پر بتاتی ہیں ’بکواس، ایک دم بکواس۔ فلم میں کچھ تھا ہی نہیں۔‘ مگر بعد میں محمد زبیر نے بتایا کہ دراصل اس خاتون کی ویڈیو اس وقت بنائی گئی تھی جب وہ رنبیر کپور اور عالیہ بھٹ کی فلم براہمسترا دیکھ  کر لوٹ رہی تھیں۔

Exit mobile version