اوم پوری کی کہانی

hussain-javed-afroz

انتھونی کوئن نے ایک بار کہا کہ اگر آپ منفرد اداکار بننا چاہتے ہیں تو اپنے اندر کی راست گوئی کبھی نہ مرنے دیں اگر آپ نے ایسا نہیں کیا توآپ وقتی کامیابی تو حاصل کر لیں گے لیکن آخر میں آپ کے حصے میں ناکامی ہی آ ئے گی۔ بالی وڈ نے ہر دور میں باکمال اداکار پیدا کئے ہیں۔جنہوں نے اپنی جاندار اداکاری ،کے ساتھ کامیابی سے اپنا سکہ جمایا ۔عظیم دلیپ کمار سے لے کر راج کپور ،دیو آنند ،اشوک کمار ،سنیل دت ،راجیش کھنہ ،امتیابھ بچن تک ایک طویل فہرست ہمارے سامنے آتی ہے ۔جہاں ہندوستان میں کمرشل سنیما میں بڑے بڑے نام سامنے آئے وہاں متوازی سنیما نے بھی کئی ایسے انمٹ نقوش چھوڑنے والے اداکار پیدا کئے جنہوں نے معمولی شکل و صورت ہونے کے باوجود اپنے تاثرات ،مکالموں کی جاندار ادائیگی کے ذریعے ایک عالم کو اپنے سحر میں جکڑے رکھا۔ایسے ہی ایک نہایت سادہ لیکن سنجیدہ اداکار اوم پوری بھی تھے جو حال ہی میں یہ جگ چھوڑ گئے ۔لیکن اپنی فلموں اور شخصیت کے ذریعے فلم بینوں پر ایک گہری اثرات مرتب کر گئے ۔بظاہر معمولی شکل و صورت کے حامل اوم پوری ایک معمولی خاندان سے تعلق رکھتے تھے ۔ان کا تعلق انبالہ سے تھا ۔چھ بہن بھائیوں کے ساتھ ان کے لئے ابتدائی زندگی ہرگز آسودہ نہیں رہی ۔Image result for om puri

محض چھ برس کی عمر میں ان کو چائے کے ڈھابے پر کام کرنا پڑا ۔اس وقت ان کی زندگی کا سب سے بڑا رومانس ریل گاڑی تھی۔ اکثر فارغ وقت وہ ریل کے خالی ڈبوں میں سویا رہتا اور ریلوے ڈرائیور بننے کی دھن اس میں سمائی رہتی ۔لیکن اس کی اس دور کی زندگی ریل گاڑی کی سی تیزی سے یکسر محروم رہی ۔خیر اسی طرح چھوٹی چھوٹی نوکریاں کرتے کرتے جیسے تیسے اوم نے بی اے کا امتحان پاس کیا ۔اوم نے وکیلوں کے منشی کی حیثیت سے بھی کام کیا بعد ازاں کیمسڑی لیب میں بھی نوکری جاری رکھی ۔رفتہ رفتہ وہ اداکاری کے سحر میں ایسے گرفتار ہوئے کہ اسی کو اپنی منزل بنانے کی ٹھان لی اور سٹیج پر کام شروع کردیا ۔اوم کی زندگی میں اہم موڑ تب آیا جب ستر کی دہائی کے آخر میں اس نے دلی میں NSD نیشنل سکول آف ڈرامہ جوائن کرلیا ۔یہاں اوم کو پیسے بھی ملنے لگے اور بطور اداکار بھی اس کی تربیت ہوتی رہی ۔یوں زندگی قدرے آسان ہوگئی لیکن ایک مسئلہ اوم کے ساتھ ہی چلتا رہا ۔اس کے اندر کا شرمیلا انسان ،جھجک ختم نہ ہوسکی ۔لیکن ایک دن بھرے کلاس روم میں اس کے اندر جوار بھاٹا باہر آ ہی گیا جب اس نے اپنے استاد سے ایک رول کرنے کی خواہش کا کھلے عام اظہار کر دیا ۔مزے کی بات یہ تھی کہ اوم نے یہ درخواست انگریزی میں کی جس سے اس کی جان جاتی تھی اور یوں اوم کو وہ کردار مل گیا ۔اس کے کلاس فیلو نصیر الدین شاہ تھے جن کی شاندار اداکاری نے ایک عالم کو اپنا گرویدہ بنا رکھا ہے ۔نصیر الدین شاہ اور اوم پوری کے درمیان دوستی کی بنیاد NSD میں ہی پروان چڑھی۔اکثر نصیر اوم کو پہننے کیلئے اپنے کپڑے دے دیا کرتے ۔نصیر نے کہا جس جرات سے اوم پوری نے اپنے استاد سے وہ کردار مانگا میں بے اختیار کہہ اٹھا OM I know one day you will speak ۔جب نیشنل سکول آف ڈرامہ کے دو سال ختم ہونے کو آئے تو نصیرکے مطابق اوم پوری کی شخصیت اور اداکاری میں زمین و آسمان کا فرق تھا ۔اور مجھے خود اپنے آپ سے سوال کرنا پڑا کہ اوم کے مقابلے میں میں نے کیا سیکھا ہے ؟اس کے بعد ان دونوں نے پونا فلم انسٹی ٹیوٹ میں بھی داخلہ لیا جہاں سے ان کے اندر تخلیقی صلاحتیں مزید نکھر کر سامنے آئیں۔نصیر نے اپنی کتاب’’ پھر ایک روز ‘‘ میں لکھا کہ ایک بار ساتھی اداکار جسپال ، نصیر سے الجھ پڑا جس کے نتیجے میں نصیر شدید زخمی ہوگیا۔اس وقت یہ اوم ہی تھا جس نے بیچ میں پڑھ کر جھگڑا ختم کرایا ۔اور نصیر کو ہسپتال بروقت پہنچا کر اس کی جان بچا لی ۔یہی وجہ ہے کہ نصیر اور اوم پوری کی دوستی جو جدوجہد کے دور سے شروع ہوئی-عروج کے دور میں بھی ہر طرح کے تکلف سے آزاد رہی ۔اب اوم پوری کی منزل فلم تھی ۔1972 میں اگرچہ اس نے ایک مراٹھی فلم گھاسی رام کوتوال سے فلمی کیرئیر کا آغاز کیا۔لیکن یہ 1980 کی فلم ’’آکروش ‘‘ہی تھی جس نے دنیا کو اوم پوری سے روشناس کرایا ۔یاد رہے یہ فلم اسے نصیر الدین شاہ کی سفارش سے مل پائی ۔اس فلم میں اوم نے ایک بے بس لیکن غصے بھرے شخص کا رول کیا جو اپنی بیوی کا قتل کرتا ہے اور منفرد بات یہ تھی کہ اوم نے یہ غصہ مکالموں کے بجائے اپنی آنکھوں سے دکھایا ۔گویا اس رول میں اوم نے اپنے بچپن کی محرومیاں ،آزمائشیں سب کا اظہار کر ڈالا ۔اس کی سلگتی لیکن خاموش آنکھوں کا ایسا جادوچلا کہ کہ وہ فلم فیئر ایوارڈ کا حقدار بن گیا ۔Image result for om puri

یہ اب اوم پوری کا آغاز تھا ۔اس کے بعد فلم’’ اردھ ستیہ‘‘ پر کام شروع کیا گیا ۔یہ ایک پولیس افسر کی کہانی تھی جو سماج میں پھیلی کرپشن اور پولیس سسٹم کی کمزوریوں پر کڑھتا رہتا تھا ۔پہلے پہل یہ رول امتیابھ بچن کو آفر ہوا جو کسی وجہ سے یہ فلم نہیں کرسکا ۔یوں یہ رول اوم پوری کے جھولی میں آگرا ۔اور اپنی بے مثال اداکاری اور کرپشن کے خلاف اوم کی کڑواہٹ کو اتنا سراہا گیا کہ کہ اسے نیشنل ایوارڈ سے نوازا گیا ۔ اب ہر طرف اوم پوری کی باغیانہ تیور کی دھوم مچ گئی تھی ۔یہ وہی اوم تھا جس کے کھردرے چہرے اور کھردری آواز کا نیشنل سکول آف ڈرامہ میں مذاق اڑایا گیا۔یہاں تک کہ شبانہ اعظمیٰ نے اس دور میں نصیر اور اوم پوری کو کھل کر کھری کھری سنائی کہ ان معمولی شکلوں کے ساتھ تم کیا سوچ کر اداکاری سیکھنے آئے ہو جاؤ گھر جاؤ ۔اب وہی شبانہ اوم کے متعلق کہا کرتی کہ اوم پوری وہ درخت ہے جس کی جڑ تو پنجاب میں ہے لیکن اس کی شاخیں مغرب تک پھیلی ہوئی ہیں۔فلم’ اروہن‘‘ میں اوم پوری نے ایک مجبور کسان کا کردار نبھایا اور ایک بار پھر نیشنل ایوارڈ جیت لیا ۔اسی طرح عظیم فلم ساز ستیہ جیت رائے کی شارٹ فلم ’’ سد گیتی ‘‘کوئی کیسے بھول سکتا ہے جس میں ایک بار پھر اوم پوری نے ایک غربت کے مارے کسان کا رول نبھایا جو زمیندار کے گھر کے سامنے شدید بارش میں تڑپ تڑپ کر جان دے دیتا ہے ۔اسی طرح پنجابی فلموں میں بھی اوم پوری نے اپنا لوہا منوایا جیسے فلم ’’چن پردیسی‘‘ میں ایک زمیندار کے مکار اور گھاگ منشی تلسی کا کردا رتھا ۔اس منفی کردار میں بھی اوم کامیاب رہا۔1990 میں اوم پوری کو بھارت کا سب سے بڑا سول ایوارڈ پدم شری دیا گیا ۔فلم ’’کرنٹ ‘‘کا غریب مزدور جس کو بجلی کا بل جمع کرانے کیلئے اپنی زندگی حرام کرنی پڑتی ہے فلم ’’دشا‘‘ کا جنونی شخص جو کدال لے کر اپنی زمین میں کنواں کھودنے کی تگ و دو میں لگا ہوتا ہے دنیا اسے پاگل قرار دیتی ہے لیکن آخر میں وہ اپنی زمین میں پانی کا ذخیرہ نکال ہی لیتا ہے ۔فلم ’’مرچ مصالحہ‘‘ کا بوڑھا چوکیدار جو گاؤں کی غریب عورتوں کو ظالم داروغہ سے بچانے خود میدان میں آ کر پکارتا ہے کہ ’’ابھی گاؤں میں ایک مرد باقی ہے‘‘ ۔اوم نے غریب کسان ،مزدور کے کردار کو خوب نبھایا کیونکہ یہی غربت اس کی زندگی کو متاثرکر چکی تھی ۔فلم ’’City of Joy’’ میں اوم نے بڑے شوق سے ایک سائیکل رکشہ والے کا رول نبھایا اور کلکتہ کی سڑکوں پر رکشہ کھینچتا رہا۔اسی طرح فلم ’’جانے بھی دو یارو ‘‘میں ایک بد عنوان شرابی بلڈر کا رول بھی خوب نبھایا۔اوم پوری نے زندگی میں ہمیشہ چیلنجز قبول کئے جیسے اس کی انگریزی آٖغاز میں بہت کمزور تھی لیکن مستقبل میں اس نے بیس ہالی وڈ فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے اور برطانیہ سے آرڈر آف برٹش ایمپائر وصول کیا۔Image result for om puri

اسی طرح بھارتی ڈرامہ’’ تمس‘‘ میں ایک مفلوک الحال شخص کا کردار جو تقسیم کے پس منظر میں لکھا گیا۔اس کردار میں بھی اوم نے تقسیم کے خوف ، وہشت اپنے تاثرات کے ذریعے کامیابی سے اجاگرکی۔گلزار کی فلم ماچس جو پنجاب میں خالصتان تحریک پر سامنے آئی،اس میں ایک علحیدگی پسند کے کردار میں اوم نے خالصتان تحریک کے کرب کو عمدگی سے پیش کیا۔بقول نصیر الدین شاہ، اوم پوری نے ارد ھ ستیہ میں جو کردار نبھایا وہ مجھ میں کرنے کی قابلیت نہیں ہے۔ جبکہ فلم ’’منڈی‘‘ میں ایک فوٹو گرافر کا کردار جو خود بھی بازار حسن کی گہما گہمی کا حصہ بن چکا ہے۔متوازی سنیما کے ساتھ اوم نے کمرشل سنیما میں بھی اپنی اداکاری کے نئے زاوئیے دکھائے۔ اس ضمن میں مالا مال ویکلی، بجرنگی بھائی جان ،کروکشیتر، رنگ دے بستنی میں بطور باپ، بطور کرپٹ چیف منسٹر ،بطور مولوی ،بطور کامیڈین فلم بینوں کو بہت لطف اندوز کیا۔کمرشل سنیما کرنا اوم کی مجبوری بھی تھی کیونکہ زیاد ہ پیسہ اسی طرح سے کمایا جاسکتا تھا ۔اوم پوری نے دیہاتی پس منظر پر مبنی بننے والی فلموں میں اپنے کام سے خوب لطف حاصل کیا اور درست معنوں میں اپنے کردار سے انصاف کیا۔سماج کے پسے طبقوں کے جذبات کو سمجھنا اور ان کے کرب کو اجاگر کرنا اس کام میں اوم پوری یدطولیٰ رکھتا تھا۔جیسے فلم’’ اگھاٹ‘‘ میں مزدور لیڈر کے کردار میں یوں گمان ہوتا رہا جیسے اوم نے مزدوروں کی عظمت ، ان کی محنت کی اہمیت کو گویا گھول کر پی رکھا ہے۔اوم پوری کی گھریلو زندگی خاصی تلخ رہی جب اس کی بیوی نندتا نے اپنی کتاب میں اوم کے کئی کمزور پہلو اجاگر کئے۔یہی وجہ تھی اس نے کثرت سے شراب نوشی شروع کی اور اپنی پہلی بیوی اداکارہ سیما کپور کی طرف لوٹ گیا۔اوم پوری نے سرجیکل سٹرائیک کے ایشو پر بھارتی فوج کے اوپر کھل کرتنقید کی ۔یوں سارے ہندوستان میں کہرام مچ گیا اور اوم پوری پر لعن طن کی گئی۔اس پر ستم یہ کہ اوم نے پاکستانی فلموں میں کام کرنے کے حوالے سے ہر طرح کے دباؤ کو مسترد کیا اور پاکستان کے متواتر دورے بھی کئے ۔بعد ازاں اوم نے بھارتی فوج کے حوالے سے اپنے بیان کی معافی بھی مانگی۔کہیں نہ کہیں اوم پوری اس سارے عمل میں شدید ذہنی دباؤ سے گزرا اور شائد اسی کرب نے اوم کو جنوری 2017 میں اپنے لاکھوں پرستاروں سے ہمیشہ کیلئے جدا کردیا۔اوم پوری چلا گیا ۔لیکن جاتے جاتے یہ ضرور بتا گیاکہ کامیابی کا حصول کسی خوبصورت چہرے ،دلکش آواز ،مسحور کن شخصیت کی محتاج نہیں ہو ا کرتا۔انسان میں اصل طاقت سچائی ہو نی چائیے۔ منزل خود اسے تلاش کر لیتی ہے ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *