اسلامی پاکستان ‘خوشحال پاکستان

سجادمیرsajjad mir

جماعت اسلامی بھی مینا رپاکستان تک آ پہنچی ہے۔ میرے لئے یہ اہم واقعہ اور خبر ہے۔ اس لئے کہ عین انتخابات کے ہنگام جب دھڑا دھڑ جلسے ہو رہے تھے‘ تو جماعت کے بہی خواہوں نے جماعت کی قیادت کو بھی اس کا مشورہ دیا۔ جماعت کی پارسا اور نیک دل قیادت نے تخمینہ لگانے کے لئے کہا۔ جو تخمینہ دیا گیا‘ وہ ظاہر ہے جماعت کے دیانتدار کارکنوں کو سامنے رکھ کر لگایا گیا ہوگا۔ پھر بھی یہ اتنا زیادہ تھا کہ فیصلہ کیا گیا کہ کار فضول میں عوام کی امانتیں لٹانے سے کیا حاصل ہوگا۔ ان دنوں مجھے خیال آیا کہ جماعت اسلامی کو جو دنیا بھر میں پھیلے ہوئے لوگ چندہ اور عطیات دیتے تھے شاید وہ موجودہ سیاست کے تناظر میں بہت کم ہیں۔ نئی جماعتیں اربوں روپے خرچ کرنے اور اکٹھا کرنے کی استطاعت رکھتی ہیں۔ شاید عالمی کارپوریٹ سیکٹر ان کی مدد کرتا ہے یا عطیہ دینے والوں کی ایک ایسی کلاس تیار ہو چکی ہے جو دنیاوی معاملات میں پیسہ لگاتی ہے تاکہ وقت آنے پر اس کا فائدہ اٹھایا جائے۔
یہ بات بھی درست ہوگی‘ مگر جب میں نے ایک واقف حال سے یہ بات کہی‘ تو اس نے بتایا کہ جماعت اب بھی بے پناہ عطیات اکٹھا کرنے کی استطاعت رکھتی ہے اور اکٹھا بھی کرتی ہے‘ مگر وہ عوام کی یہ امانت دوسرے اہم اور ضروری کاموں پر صرف کرتی ہے‘ وہ اسے سیاست میں لٹانا نہیں چاہتی۔ اور یہ دوسرا کام لوگوں کو نظر نہیں آتا۔ تعلیم‘ صحت‘ ترویج دین اس کے سامنے بہت سے کام ہیں جو وہ ضروری سمجھتی ہے۔ اب جو جماعت نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ مینار پاکستان جائے گی تو غالباً اس کے پیش نظر یہ خیال ہے کہ اس مد میں پیسہ خرچ کرنا بھی ضروری ہے تاکہ لوگ جان سکیں کہ ان کی ہمدردیاں جس جماعت سے ہیں یا ہو سکتی ہیں‘ وہ ملک کے اندر کوئی مردہ قوت نہیں ہے۔
بات یوں سمجھئے جماعت کے اندر ایک احساس پیدا ہوا ہے کہ اس کے شریفانہ اور فقیرانہ طرز عمل نے لوگوں کو شاید یہ پیام دیا ہے کہ جماعت اب سیاسی قوت نہیں رہی۔ یہ ایک اصلاحی‘ فلاحی اور دعوتی ادارہ بن کر رہ گئی ہے۔ اس میں از سر نو قوت پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک زمانہ تھا جماعت اسلامی کو تیسرا آپشن کہا جاتا تھا۔ وہ ملک کے اندر ایک طاقت گنی جاتی تھی۔ کوئی اسے نظر انداز کرنے کا سوچ نہیں سکتا تھا۔ پتا نہیں حالات بدل گئے‘ یا میدان میں نئی قوتیںآگئیں کہ ملک کی سیاست ایسے رخ چل پڑی جس میں ایسے مرحلے بھی آئے جس میں جماعت بے معنی ہوتی دکھائی دی۔ یہ بہت مشکل مرحلہ تھا۔ لوگ پوچھتے کیا جماعت اسلامی اپنا کردار ادا کرکے قصہ پارینہ ہو چکی۔ بعض یہ کہتے تھے‘ ایسا نہیں ملک کے اندر اور باہر کی طاغوتی طاقتوں نے پیسے کے زور پر اور میڈیا کی طاقت سے حالات کا رخ بدل دیا ہے۔
ابھی کل ہی ایک صاحب کہہ رہے تھے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ میڈیا میں اس جلسے کا اتنا تذکرہ نہیں جتنا دوسری جماعتوں کے جلسوں کا ہوتا ہے۔ کیا جماعت کی اتنی تیاری نہیں ہے یا کسی عالمی ایجنڈے نے میڈیا کے ہاتھ باندھ رکھے ہیں یا میڈیا ویسے ہی اسے اتنا اہم نہیں سمجھ رہا۔ یہ لائیو کوریج کرے گا‘ کتنی کرے گا‘ کیمروں کے ٹرک دکھائے گا یا کیا کرے گا۔ یہ سب باتیں عالمی تناطر میں سمجھنے کی ہیں۔ میڈیا جس پر عالمی طاقتوں کے اثرات کے شواہد ہیں‘ مذہبی رجحانات کے حوالے سے اس پر کئی باتوں پر قدغن بھی لگائی جاتی ہے۔ خیر میں بات کو اس طرف لے جانا نہیں چاہتا۔ پہلے ہی میں نے خاصا معذرت خواہانہ مو¿قف اختیار کر رکھا ہے۔
بات دراصل یہ ہے کہ اس وقت پوری دنیا میں احیائے اسلام کی تحریکیں احیائے نو کے عمل سے گزر رہی ہیں۔ میں کہا کرتا ہوں کہ بیسویں صدی کے آغاز سے بھی پہلے عالم اسلام میں ایک لہر اٹھی تھی جس نے مسلمانوں کو ہیئت اجتماعیہ پر غور کرنے کی دعوت دی تھی اور اپنی توجہ اجتماعی مسائل کی طرف متوجہ کی۔ وجہ اس کی ظاہر ہے‘ پورا عالم اسلام غیروں کے زیر تسلط تھا۔ جہاں آزادی تھی‘ وہ بھی غلامی سے کم نہ تھی۔ قویٰ مضمحل ہو چکے تھے۔ جمال الدین افغانی سے گویا جو آواز اٹھی‘ وہ پھیلتے پھیلتے ایک قوت بن گئی۔ اقبال نے تو یہاں تک کہا کہ اسلام اپنی عبادات میں بھی اجتماعی رنگ رکھتا ہے۔ اس اجتماعی سوچ کو ایک منظم فکر کے طور پر جس شخص نے برصغیر میں مدوّن کیا‘ اس کا نام سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ تھا۔ کئی لحاظ سے وہ دنیا بھر کی اسلامی تحریکوں کی فکر کا اصل سرچشمہ تھے۔ اخوان المسلمین کی اپنی طاقت ہے۔ ترکی میں نور الدین سعید نورسی کی اپنی ادا ہے۔ مگر اس میں کوئی شک نہیں کہ برصغیر سے فکر کا جو چراغ روشن ہوا تھا‘ اس نے دنیا کو متاثر کیا۔ میں جسے احیائے اسلام کی تحریک کہہ رہا ہوں‘ اسے بہت سے نام دیئے گئے‘ ہم اسے تحریک اسلامی کہہ لیتے ہیں۔ مغرب میں اسے اسلام ازم بھی کہا گیا‘ گویا یہ اسلام سے ہٹ کر کوئی بات ہے یا یہ کہ اس میں اسلام کے سوا بھی کچھ ہے جس سے مغرب خوف زدہ ہے۔ آخر میں اسے پولیٹیکل اسلام یا سیاسی اسلام کا نام دے دیا گیا۔ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد اسلام کی اس تعبیر کے خلاف ایک جنگ شروع کر دی گئی۔ مغرب نے اسے پہلے بنیاد پرستی کہا۔ پھر خیال آیا کہ بنیاد پرستی تو ہر مذہب میں ہو سکتی ہے۔ خود امریکہ کی شکاگو یونیورسٹی میں اس حوالے سے خاصا وقیع کام ہوا تھا۔ بالآخر اسے پولیٹیکل اسلام سے تعبیر کر دیا گیا۔ گویا انہیں اسلام کی اس تعبیر پر اعتراض تھا جو سیاست کی راہ سے اقتدار میں آکر عوام کے مقدر اور مزاج کو بدلنے کا عزم رکھتی ہے۔ اس لڑائی میں مغرب گزشتہ ربع صدی سے مبتلا ہے۔ ہر جگہ اس کی وجہ سے الگ الگ مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ کہیں کہیں اسے دہشت گردی کے ساتھ جوڑا گیا۔ پھر بتایا گیا‘ نہیں ایسا تو نہیں اس کی معتدل شکلیں بھی ہیں۔ ترکی کے ماڈل کا حوالہ دیا گیا۔ خوشی کا اظہار ہوا کہ القاعدہ کی سوچ مسلمانوں میں پٹتی جا رہی ہے اور لوگ انتخابات کے ذریعے جن اسلامی پارٹیوں کو منتخب کر رہے ہیں‘ وہ گویا انتخابات پر یقین رکھتی ہیں۔ مصر‘ تیونس‘ ہر جگہ انہیں الگ الگ معاملات درپیش آئے۔ انہیں کسی پل چین نہیں کہ اونٹ کو کس کروٹ بٹھائیں۔ اس سے خود تحریک اسلامی کی روح سے سرشار جماعتوں کو بھی ایک نئے چیلنج کا سامنا ہے۔ ہر جگہ اس کی شکل الگ ہے۔
پاکستان میں اس کی شکل کوئی منفرد تو نہیں مگر اہم ہے۔ جماعت اسلامی شاید وہ واحد جماعت ہے جو جمہوری طریقے سے اسلامی انقلاب پر یقین رکھتی ہے۔ اس کی مجبوری یہ ہے کہ اس طریقِ کار کے ذریعے وہ متوقع نتائج حاصل نہ کرسکی۔ اس حوالے سے بہت گفتگوئیں ہوئیں۔متناسب نمائندگی کا بھی سوچا گیا‘ کیونکہ جماعت کو ووٹ زیادہ ملتے تھے‘ مگر پارلیمنٹ میں نشستیں کم آتی تھیں۔ بہرحال میں اس وقت یہ تاریخ بیاں نہیں کر رہا۔ لوگ سوال کرتے ہیں کہ ہم سچے ہیں تو انتخابات کیوں نہیں جیتتے‘ نصرت ہمارے حصے میں کیوں نہیں آتی۔ کیا ہماری حکمت عملی میں خرابی ہے یا حالات بدل چکے ہیں۔ دنیا بھر میں اب تحریک اسلامی کی اصل اور بنیادی جماعتیں دوسرے ناموں سے سیاست میںآتی ہیں۔ ترکی کی مثال خاص طور پر دی جاتی ہے۔ اس سب پر غور ہوتا رہا ہے۔
اب لگتا ہے‘ جماعت نے طے کر لیا ہے کہ اسے صرف ایک دعوتی جماعت بن کر تاریخ کے صفحات پر زندہ نہیں رہنا‘ بلکہ عمل کے میدان میں وہ مقصد بھی حاصل کرنا ہے جس کے لئے اس کے سیاسی مقاصد کی تشکیل کی گئی۔ اس کے پیام کو لوگوں تک پہنچانے کے لئے اسے عوامی بنانا ہے۔ سیاسی اسلام کا طعنہ بھی سنا اور سیاست ہی میں پٹ گئے‘ یہ کیا بات ہوئی۔ اسی حوالے سے شاید ان کا خیال ہے کہ جب تک غریب آدمی کے مسائل پر توجہ نہ دی جائے گی‘ اس وقت تک لوگوں کو ہماری دعوت بھی قبول نہ ہوگی۔ اسلامی پاکستان‘ خوشحال پاکستان کا نعرہ اسی ذہنی سوچ کی پیداوار ہے۔ اور مینار پاکستان پر جانے کا فیصلہ مروجہ انداز میں عوام تک پہنچنے کی سعی ہے۔ میں اسے احیائے اسلام کی تحریک نو کہتا ہوں جس کی بہت ضرورت ہے۔ دنیا بھر میں تو ہے ہی‘ پاکستان میں خاص طور پر اس کی بہت اہمیت ہے۔ جس طرح بعض لوگ کہتے ہیں کہ ایک نئی تحریک پاکستان کی ضرورت ہے اور بالکل درست کہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں نظریہ پاکستان کو زندہ کرنا ہوگا‘ اگر اس ملک کو بچانا ہے۔ اس طرح یہ بات بھی غلط نہیں کہ نظریہ¿ پاکستان کے سوتے احیائے اسلام کی حیات نو سے پھوٹتے ہیں۔ سو میں اس جلسے کو بہت اہمیت دے رہا ہوں۔ میرے دوست مجھے معاف کریں‘ خوش فہم کہنا چاہیں تو ضرور کہہ لیں‘ مگر میں اپنی رائے سے باز نہیں آﺅں گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *