خواتین لکھاریوں کے ساتھ یہ سلوک کیوں؟

بشکریہ : شزف فاطمہ حیدر:

shazaf fatima haider

تین سال قبل کراچی کے ایک کلچرل سینٹر میں مجھے ارینج میریج کے بارے میں اپنے ناول پر گفتگو کرنے کو کہا گیا۔ میرے سامنے ہجوم میں ایک شخص بیٹھا اپنے بریف کیس پربے صبری سے انگلیاں بجا رہا تھا۔ سوال و جواب کے سیشن کے بعد وہ میرے پاس آیا اور ایک بڑا فولڈر کھول کے دکھایا جس میں اخباری تراشے، تحریری نوٹ اور کچھ تصاویر تھیں۔ اس نے بتایا کہ وہ آدھا جرمن ہے اور اس کے خاندان نے ایک تاریخی زندگی گزاری ہے۔ اس کی تفاصیل اس نے اس مواد کے ذریعے پیش کی۔

اس نے بتایا کہ وہ چاہتا ہے کہ میں اس تاریخی زندگی کے بارے میں لکھوں۔ اس نے کہا کہ وہ مجھے کچھ وقت دے گا اور دیکھے گا کہ آیا میری تحریر کتابی شکل میں چھپنے کے قابل ہے یا نہیں۔ جب میں نے انکار کیا تو وہ مصنفہ عورتوں او ر ان کے مغرور رویہ پر طنزیہ انداز میں کچھ جملے بول کر رخصت ہو گیا۔ مجھےوہ شخص آج بھی یاد ہے کیونکہ جو رویہ اس نے اپنایا وہ آج بھی پاکستان کی مصنفہ عورتوں کی طرف تما مردوں نے روا رکھا ہوا ہے۔ ایک بار میں ایک مرد مصنف سے گفتگو کرتے ہوئے بتا رہی تھی کہ کتنے زیادہ لوگوں نے مجھ سے اپنے ناول 'How It Happened' کی ایک دستخط شدہ کاپی کی درخواست کی۔ وہ میری بات سن کر حیران ہوا کیونکہ اس طرح کی بات اس سے بہت کم لوگ کرتے تھے۔

جب ایک مرد لکھتا ہے تو یہ اس کا کیریر کہلاتا ہے لیکن جب عورت ناول لکھتی ہے تو یہ اس کا مشغلہ قرار دیا جاتا ہے۔ مرد کو سنجیدگی سے لیا جاتا اور عورت کو سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا۔ عورت کو مصنفہ بننا ہو تو کچھ اہم تنقیدی سوالات اور شکایات کے لیے اسے تیار رہنا چاہیے۔ مثلا ہوسکتا ہے کہ لوگ آپ کو کہیں: اچھا تو آپ نے کتاب لکھی ہے، بہت اچھی بات ہے کہ آپ کو ایک تخلیقی کام کے لیے فرصت ملی۔" "بہت اچھی بات ہے۔ کیا کوئی اس کتاب کو پڑھتا بھی ہے؟ " "بہت اچھے۔ آپ نے کتاب لکھ ڈالی؟ یہ فروخت بھی ہوئی؟ آپ نے اس سے کل کتنے پیسے کمائے؟" "السلام علیکم۔ مجھے آپ کا ناول بہت پسند آیا۔ پلیز بتائیں کہ میں اس ناول کو ڈاون لوڈ کیسے کر سکتا ہوں؟"

مجھےبہت جلد احساس ہو گیا کہ ایک عورت کی ذاتی زندگی اور اس کی تحریریں سب کے لیے ایک عام چیز بن جاتی ہیں۔ تمام انٹرویوز میں مجھ سے پہلا سوال یہی پوچھا گیا کہ کیا میں شادی شدہ ہوں۔ جب میں نے جواب دیا تو لوگوں کو زیادہ تجسس ہونے لگا۔ سچائی یہ ہے کہ میں نے دنیا کو نہیں بتایا کہ میں طلاق یافتہ عورت ہوں۔ مجھے ڈر تھا کہ کتاب میں لکھی جانے والی کہانی میری شادی سےتعلق رکھتی تھی۔ یہی مسئلہ تمام خواتین کو بھی درپیش ہوتا ہے۔ اگر میں بتا دیتی کہ میں طلاق یافتہ ہوں تو لوگ میری کتاب کو ایک تنگدست عورت کی دہائیوں سے تعبیر کر لیتے۔ ایک ایسا انٹرویو بھی آیا جب میں ہوسٹ کو بتانا بھول گئی کہ میری ذاتی زندگی کے بارے میں سوال نہ پوچھے جائیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ تھوڑی دیر بعد مجھ سے پوچھا جانے لگا کہ میری کہانی میں کون سا کردار میرے سابقہ خاوند کی شخصیت کو بیان کرتا ہے۔ یہ کسی صورت ایک اچھا سوال نہیں تھا اور ایک لٹریری انٹرویو میں اس طرح کا سوال توہین آمیز تھا۔

میری ذاتی زندگی پر حملے کرنے کے خواہشمند لوگوں کے سوشل میڈیا پر بھی مجھے بہت تنگ کیا اور یہ حال پاکستان کی تمام عورتوں کا ہوتا ہے چاہے وہ مصنف نہ بھی ہوں۔ مجھے فینز کی طرف سے جو ابتدائی پیغامات موصول ہوئے وہ کچھ یوں تھے: ہیلو ڈئیر ، تم کتنی خوبصورت ہو، واؤ آپ کتنی خوبصورت ہو میں آپ سے وقت لینا چاہتا ہوں۔ میرا دل بے قابو ہوا چاہتا ہے۔ پھر ایک مرد نے پیغام بھیجا کہ "مجھے آپ کا ناول بہت پسند آیا ۔ کیا آپ مجھ سے شادی کریں گی؟ " جب میں نے انکار کیا تو اس نے مجھے اپنے جسمانی اعضا کی تصاویر کےساتھ ایک فحش پیغام بھیج دیا۔ میں نے اسے بلاک کیا وہ اس نے تین دوسرے اکاونٹس بنا لیے اور اپنے اعضائے مخصوصہ کی تصاویر بھیجنے لگا۔

اصلی زندگی میں پیچھا کرنے والوں سے جان چھڑانا اور بھی مشکل ہوتا ہے۔ جب ایک مشہور پینٹر نے میرے ناول کی 300 کاپیاں خرید کر مجھے اپنے دوستوں میں تقسیم کرنے کا کہا تو مجھے بہت الجھن ہوئی۔ پھر وہ میرے گھر پہنچ گیا اور 100 کےقریب مِس کالز کے علاوہ میسیج بھیجے کہ تم کتنی خوبصورت ہو اور میں تمہیں اپنے آپ کو واپس حاصل کرنے میں مدد کرنا چاہتا ہوں۔ کسی بھی مصنفہ کی تحریر پڑھ کر اس کی جسمانی خوبصورتی کا اندازہ لگانا کتنی عجیب اور مضحکہ خیز بات ہے۔

عورت ہو کر مصنف بننا بھی ایک مصیبت سے کم نہیں ہوتا۔ ایک لوکل مرد ایجنٹ نے مجھے کہا کہ محبت کی کہانیاں تو بے شمار لکھی جا چکی ہیں۔ آپ اس میں کچھ فحش رومانس کا استعمال کریں تا کہ پبلشرز آپ کی کتاب کو اہمیت دیں۔ آج کل کے پبلشرز اسی طرح کے مواد کو اہم سمجھتے ہیں۔ ایک شاعر کے گھر میں موجود ایک مصنف نے کہا کہ اس کا ناول پورا کرنے میرےناول لکھنے سےکہیں زیادہ مشکل کام تھا۔ اس نے کہا کہ اگر فیملی کی اندرونی شادیوں پر کتابیں لکھنا شروع کر دیں تو میں ہر سال ایک نئی کتاب لکھ ڈالوں۔ ایک بُک سیلر نے بتایا کہ میری کتاب اس لیے زیادہ فروخت نہیں ہو گی کہ میں ایک مشہور شخصیت نہیں ہوں اس لیے وہ پہلے صرف 50 کاپیاں منگوائیں گے۔

میں نے اس کے ساتھ ملاقات کا موقع تلاش کیا تا کہ وہ مجھے سنجیدگی سے لے۔ لیکن اس کا بھی کوئی فائدہ نہ ہوا۔ جب میں نے کہا کہ جو کاپیاں بچ جائیں گی میں خود خرید لوں گی تب وہ مزید 50 کاپیاں چھپوانے پر راضی ہوا۔ جب بُک لانچ پر ساری کاپیاں صرف پانچ منٹ میں فروخت ہو گئیں تو اس نے کندھے جھٹکاتے ہوئے کہا: ہم نے آپ کی قابلیت کا صحیح اندازہ نہیں کیا۔ کیا آپ اگلے ہفتے ہمارے سٹور میں' فری ریڈنگ فار چلڈرن 'میں شامل ہونا پسند کریں گی؟

سب سے زیادہ پریشانی کی بات یہ ہے کہ ہماری تحریروں پر کوئی توجہ دی ہی نہیں جاتی۔ ہمارے کام پر نہ ہی کوئی ریویو لکھتا ہے نہ کوئی اسے اتنی اہمیت دیتا ہے جس کا یہ حقدار ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسے خواتین کی تحریروں میں ڈال دیا جاتا ہے جس کا معنی ہی یہی لیا جائے کہ یہ کسی طرح بھی اہمیت کا حامل نہیں ہے۔ کچھ عرصہ قبل قر ۃ العین حیدر کے آرٹیکل کےبارے میں ایم اسد الدین نے کہا کہ اس میں کوئی نسوانیت نہیں ہے کیونکہ اس کے خیالات ، عام تاریخی اور عالمگیر ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ایک عورت کو مردوں کی طرح لکھنا چاہیے تا کہ اسے پوری توجہ مل سکے۔ یا پھر اسے اپنی شناخت چھپائے رکھنی چاہیےاور اپنے آپ کو مرد ظاہر کرنا چاہیے۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتی تو بہت کم چانس ہے کہ اس کی تحریروں کو سنجیدگی سے پڑھا جائے۔

خواتین لکھاریوں کے ساتھ یہ سلوک کیوں؟” پر ایک تبصرہ

  • جنوری 20, 2017 at 4:33 PM
    Permalink

    مردوں کے معاشرے میں آپ کی ان تمام باتوں کے جواب میں ایک ہی بات کہوں گا۔
    آپ اپنے حصے کاکردار ادا کیجیے۔ جو کہ آپ کی تحریر سے نمایاں بھی ہے کہ آپ کررہی ہیں۔
    میں آپ کی یہ لکھی ہوئی کتاب آرڈرکرنا چاہوں گا۔
    جواب کا انتظاررہےگا۔

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *