Site icon DUNYA PAKISTAN

ایران میں سڑک پر ڈانس کرنے والے جوڑے کو 10 سال قید کی سزا

Share

ایک نوجوان ایرانی جوڑے کو سڑک پر ڈانس کرنے کی ویڈیو پوسٹ کرنے پر 10 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

مبینہ طور پر انھیں بدعنوانی، جسم فروشی اور پروپیگنڈے کو فروغ دینے کے جرم میں سزا سنائی گئی ہے۔

ویڈیو میں انھیں تہران کے آزادی ٹاور پر رقص کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

ایران کی اخلاقی پولیس کے ہاتھوں حراست میں لی گئی ایک خاتون مہسا امینی کی ہلاکت کے بعد ہونے والے احتجاج میں شامل افراد کو حکام سخت سزائیں دے رہے ہیں۔

اس جوڑے نے اپنے ڈانس کو ایران میں جاری احتجاج سے منسلک نہیں کیا۔

بی بی سی مانیٹرنگ کے مطابق جوڑے کی گرفتاری اس وقت عمل میں آئی جب انھوں نے اس ویڈیو کو اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹس پر پوسٹ کیا جہاں ان کے فالوورز کی تعداد تقریباً 20 لاکھ ہے۔

گذشتہ برس ستمبر میں 22 سالہ مہسا امینی کی پولیس حراست میں ہلاکت کے بعد پورے ملک میں حکومت مخالف مظاہرے پھیل گئے تھے۔ ایرانی حکومت نے ان مظاہروں کو ’فساد‘ کا نام دیا ہے۔

تہران پولیس کے مطابق انھوں نے امینی کو حجاب کے بارے میں ’جواز اور تعلیم‘ دینے کے لیے گرفتار کیا تھا جو کہ تمام خواتین کے لیے پہننا لازمی ہے۔

،تصویر کا کیپشنمہسا امینی کی موت کے بعد ہونے والے مظاہروں کے دوران سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے اور ہزاروں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

21 سالہ اسطیازۃ حقی اور ان کے 22 سالہ منگیتر امیر محمد احمدی کو ’بدعنوانی اور جسم فروشی کو فروغ دینے، قومی سلامتی کے خلاف ملی بھگت اور اسٹیبلشمنٹ کے خلاف پروپیگنڈہ‘ کے جرم میں سزا سنائی گئی ہے۔

اسطیازۃ حقی خود کو ایک فیشن ڈیزاینر کہتی ہیں۔ گرفتاری سے قبل ان کے گھر پر چھاپہ بھی مارا گیا۔

یہ واضح نہیں ہے کہ انھیں جن الگ الگ جرائم کے لیے سزا سنائی گئی ہے ان میں سے ہر ایک جرم کی سزا کتنی طویل ہے۔ جوڑے میں سے ہر ایک کو مجموعی طور پر ساڑھے 10 سال کی مشترکہ سزا سنائی گئی ہے۔

اگر انھیں دی گئی سزاؤں کے فیصلے کو برقرار رکھا جاتا ہے، تو انھیں لمبے عرصے تک جیل میں رہنا ہو گا۔

رپورٹس کے مطابق ان دونوں پر سوشل میڈیا استعمال کرنے اور ملک چھوڑنے پر بھی دو سال تک کی پابندی لگائی گئی ہے۔

،تصویر کا کیپشنتہران پولیس کے مطابق انھوں نے امینی کو حجاب کے بارے میں ’جواز اور تعلیم‘ دینے کے لیے گرفتار کیا تھا جو کہ تمام خواتین کے لیے پہننا لازمی ہے۔

ستمبر میں شروع ہونے والے مظاہرے ایران کی حکومت کے لیے سنہ 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد کا سب سے بڑا چیلنج بن چکے ہیں۔

مظاہروں کو روکنے کے لیے ریاست بدامنی میں ملوث لوگوں کو سخت سزائیں دے رہی ہے، جس میں کم از کم چار مظاہرین کو پھانسی دینا بھی شامل ہے۔

جہاں مہسا امینی کی موت کے بعد ایران میں وسیع پیمانے پر مظاہرے شروع ہوئے، وہیں ان کی وجوہات میں غربت، بے روزگاری، عدم مساوات، ناانصافی اور بدعنوانی پر طویل عرصے سے جاری بے اطمینانی بھی شامل ہیں۔

امینی کی موت کے بعد ہونے والے مظاہروں کے دوران سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے اور ہزاروں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

Exit mobile version