Site icon DUNYA PAKISTAN

پاکستان میں شدت پسندی کی تازہ لہر: 2014 میں کامیاب فوجی آپریشن کے بعد شدت پسندی واپس کیسے آئی؟

Share

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں پولیس لائن کی ایک مسجد میں پیر کو ہونے والے خودکش حملے کی شدت نے ایک بار پھر بہت سے پاکستانیوں کو شدت پسندی کے پرانے دور کی یاد دلا دی ہے۔

اس دھماکے میں اب تک 100 کے لگ بھگ ہلاکتیں ہو چکی ہیں جبکہ درجنوں زخمی اب بھی زیرِعلاج ہیں۔

اس حملے میں بظاہر صوبے کی پولیس فورس کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

خیبرپختونخوا میں پولیس پر ہونے والا یہ کوئی پہلا حملہ نہیں ہے کیونکہ گذشتہ چند ماہ کے دوران صوبے کے مختلف علاقوں میں شدت پسندوں نے کامیابی سے بہت سے پولیس اہلکاروں، تھانوں اور چوکیوں کو نشانہ بنایا جن میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا۔

گذشتہ روز ہوئے حملے کے بعد ملک میں تقریباً ایک دہائی تک لڑی جانے والی دہشت گردی کی جنگ اور شدت پسندوں کے خلاف ماضی میں کیے جانے والی متعدد فوجی آپریشنز پر بھی بات کی جا رہی ہیں۔

ایسے میں سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر شدت پسندی کی نئی لہر سے متعلق چند بنیادی سوالات بھی پوچھے جا رہے ہیں۔

اس سوالوں کا جائزہ لینے کے لیے بی بی سی نے کچھ ماہرین سے بات کرکے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ آخر دہشت گردی کی نئی لہر میں اتنی تیزی کیوں آئی ہے۔

سنہ 2014 میں کامیاب فوجی آپریشن کے بعد شدت پسندی واپس کیسے آئی؟

سنہ 2014 میں جب پاکستان کی فوج نے افغانستان سے متصل ملک کے قبائلی اضلاع میں فوجی کارروائی کی تو کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے منسلک بہت سے شدت پسند مارے گئے اور زیادہ تر سرحد پار کرکے افغانستان چلے گئے۔

ماہرین کے مطابق افغانستان میں صدر اشرف غنی کے دورِ حکومت میں ٹی ٹی پی کے خلاف افغانستان میں بھی کارروائیاں کی گئی جن کے باعث پاکستان میں اس کالعدم جماعت کے سلیپنگ سیلز اور نیٹ ورک کمزور ہوا۔

مگر پھر سنہ 2021 میں افغانستان میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد ٹی ٹی پی ایک بار دوبارہ سرگرم ہوئی۔ اس دوران تحریک انصاف کے دور حکومت میں سول و عسکری قیادت نے یہ پالیسی اپنائی کہ اگر افغانستان میں موجود ٹی ٹی پی کے افراد غیر مسلح ہو کر پاکستان آنا چاہیں تو آ جائیں۔

’ٹی ٹی پی کو غیر مسلح ہو کر آنے کی اجازت دینا ایک بلنڈر تھا‘

سکیورٹی تجزیہ کار عامر رانا کا کہنا ہے کہ ملک میں شدت پسند کبھی ختم نہیں ہوئی تھی تاہم اس میں کمی ضرور واقع ہوئی تھی۔

انھوں نے کہا کہ ٹی ٹی پی 2014 کے بعد بھی خیبرپختونخوا کے قبائلی اضلاع میں معمولی نوعیت کی کارروائیاں کرتی رہی ہے جن میں طالبان کے افغانستان میں برسرِاقتدار آنے کے بعد تیزی آئی ہے اور اب یہ کالعدم جماعت بڑے حملے بھی کر رہی ہے۔

عمران خان کے دور حکومت میں سول و عسکری قیادت کی جانب سے ٹی ٹی پی کو غیر مسلح ہو کر پاکستان آنے کی اجازت دینے کے فیصلے پر اُن کا کہنا تھا کہ ’ملک میں حالیہ لہر میں شدت کی اہم وجہ یہ پالیسی ہے، میرے خیال میں ان کو ملک میں آنے کی اجازت دینا ایک سٹیرٹیجک بلنڈر تھا اور انھوں نے یہاں آ کر دوبارہ دہشتگرد کارروائیوں کا آغاز کیا۔‘

تاہم ماضی قریب میں ٹی ٹی پی سے مذاکرات کرنے والی حکومتی کمیٹی کے کوآرڈینیٹر بیرسٹر سیف اس سے مختلف رائے رکھتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ سنہ 2021 میں افغان طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد اُن کی ترجیحات تبدیل ہو گئی ہیں کیونکہ اس سے قبل وہ امریکی افواج پر حملے کر رہے تھے لیکن امریکہ کے انخلا کے بعد انھوں نے پاکستان سے کہا کہ آپ اپنے لوگوں کو واپس لیں اور آباد کریں۔

سابقہ دور حکومت میں ٹی ٹی پی کے غیر مسلح ہو کر واپس آنے پر ان کا کہنا تھا کہ ’یہ تصویر کا ایک رخ دیکھنے کی وجہ ہے، کیونکہ ملک میں شدت پسندی کے واپس آنے کی صرف یہ وجہ نہیں ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’پاکستان دنیا میں پہلا ملک نہیں جو لڑائی لڑ رہا ہے، دنیا کے بہت سے ممالک کے تجربے کو دیکھا جائے تو فریقین میں جنگ بھی ہوتی ہے اور مذاکرات کے دور بھی ہوتے ہیں۔‘

ماضی میں حکومتوں نے آپریشن ضربِ عضب سے بہت پہلے بھی شدت پسندوں کے ساتھ تحریری معاہدے کیے، سیز فائر اور فائر بندی کے اعلانات ہوئے اور ٹوٹے۔

سنہ 2014 کے بعد ٹی ٹی پی کہاں تھی اور وہ کب اور کیسے ملک میں واپس آئی؟

سنہ 2014 میں ٹی ٹی پی کے شدت پسندوں کے خلاف فوجی آپریشن کے بعد ان کی مرکزی قیادت افغانستان فرار ہو گئی تھی جس کے باعث پاکستان میں اس تنظیم کا نیٹ ورک کچھ وقت کے لیے کمزور ہو گیا تھا۔

اس دوران ٹی ٹی پی قیادت پر افغانستان میں بھی چند حملے ہوئے جن کا الزام انھوں نے پاکستان کی سکیورٹی فورسز پر عائد کیا اور اس دوران یہ تنظیم خیبر پختونخوا کے سرحدی علاقوں میں اغوا برائے تاوان جیسے جرائم کی وارداتوں میں ملوث رہی اور ماہرین کے مطابق ایسی کارروائیاں افغانستان میں بیٹھ کر کی جا رہی تھیں۔

اس بارے میں سکیورٹی امور کے ماہر عامر رانا کہتے ہیں ٹی ٹی پی کے سربراہ ملا فضل اللہ کے مارے جانے کے بعد نور ولی محسود نے گروہ کی قیادت سنبھالنے کے بعد سب سے پہلا کام یہ کیا کہ اس نے تمام گروہوں کو اکٹھا اور متحرک کیا اور اسی دوران افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد یہ دونوں عوامل اس کی قوت میں اضافے کا سبب بنے۔

طالبان شدت پسندوں کے ساتھ حکومت کے حالیہ مذاکرات کیوں ناکام ہوئے اور جنگ بندی کیوں ختم ہوئی؟

اس کی بہت سے توجیحات پیش کی جاتی ہیں۔ کبھی اسے سیاسی عدم دلچسپی کا نتیجہ کہا گیا تو کبھی داخلہ اور خارجہ پالیسی کو اس کی وجہ قرار دیا گیا۔ مگر جو بات واضح ہے وہ یہ کہ ٹی ٹی پی کے کچھ ایسے مطالبات تھے جو سویلین اور عسکری قیادت کو قبول نہیں تھے جبکہ طالبان بھی اُن شرائط پر بضد رہے۔

عمران خان کے دور حکومت میں جب ٹی ٹی پی سے منسلک افراد کو غیر مسلح ہو کر آنے کا کہا گیا تو وہ ملک میں آئے تو ضرور مگر وہ مکمل طور پر غیر مسلح نہیں ہوئے اور نئی حکومت نے بھی ان سے اس کا مطالبہ کیا کہ وہ آئین پاکستان کو تسلیم کریں اور قانون کے تحت غیر مسلح ہوں مگر ٹی ٹی پی نے ایسا نہیں کیا اور ملک میں شریعت کے نفاذ کا مطالبہ جاری رکھا۔

عامر رانا کہتے ہیں کہ ان مذاکرات کو ناکام ہونا ہی تھا کیونکہ ’ان کے فاٹا کی سابقہ حیثیت کو بحال کرنے، عام معافی کا اعلان کرنے، ہتھیار نہ ڈالنے سمیت بہت سے ایسے مطالبات تھے جو قابل قبول نہیں تھے کیونکہ اس کا مطلب یہ لیا جانا تھا کہ ’ریاست پاکستان نے ٹی ٹی پی کے آگے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔‘‘

بیرسٹر سیف مذاکرات کی ناکامی اور جنگ بندی کے خاتمے کے متعلق کہتے ہیں کہ اس کی دو بنیادی وجوہات تھیں، ایک خارجی اور ایک داخلی۔

مذاکرات کی ناکامی کی خارجی وجہ یہ تھی کہ ان مذاکرات میں افغان طالبان حکومت ثالث اور مصالحت کا کردار ادا کر رہے تھے مگر اس دوران افغانستان میں ایمن الظواہری پر ڈرون حملے سمیت بدقسمتی سے کچھ ایسے واقعات ہوئے جنھوں نے بلواسطہ اس عمل کو متاثر کیا اور افغان طالبان حکومت کا پاکستان پر اعتبار کم ہو گیا۔

’اس حملے کے وقت ہمارا مذاکراتی وفد کابل میں موجود تھا، اور حملے کے بعد پاکستان کی وفاقی حکومت کو افغانستان کے ساتھ جس طرح کا رابطہ کرنا چاہیے تھا وہ نہیں کیا گیا۔‘

بیرسٹر سیف کہتے ہیں کہ اس حملے کے بعد افغانستان کے وزیر دفاع ملا یعقوب نے پاکستان پر اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دینے کا الزام بھی عائد کیا تھا۔

وہ کہتے ہیں کہ دوحہ معاہدے میں افغان طالبان نے یقین دہانی کروائی تھی کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے مگر ایسے واقعات سے انھیں یہ جواز مل گیا کہ اب (پاکستان کی جانب سے) ان سے گلہ نہ کیا جائے۔

بیرسٹر سیف کے مطابق گذشتہ مذاکرات کے عمل کے دوران سیلاب اور سیاسی عدم استحکام وہ داخلی وجوہات تھیں جس نے اس عمل کو صرفِ نظر کیا اور مذاکرات کے تعطل کے نتیجے میں دونوں جانب غلط فہمیاں بڑھیں اور حالات اس نہج پر پہنچ گئے کہ جنگ بندی کا خاتمہ ہوا اور دونوں جانب سے کارروائیاں اور جوابی کارروائیاں شروع ہو گئیں۔

وہ کہتے ہیں ’ان مذاکرات کی ناکامی کی ایک وجہ سیاسی جماعتوں کی جانب سے اس مسئلے کو ہینڈل کرنے کی بجائے اسے سیاسی طور پر ایکسپولائٹ کیا گیا۔‘

’مرکز کی سیاسی جماعتوں نے ان مذاکرات پر دوہرا معیار اپنائے رکھا، عوامی سطح پر ان مذاکرات پر تنقید کرتے اور قومی سلامتی کے اجلاسوں میں اس کی حمایت کرتے۔‘

ٹی ٹی پی شدت پسند کون ہیں اور کیا چاہتے ہیں؟

پاکستان تحریک طالبان پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے قبائل اضلاع خصوصاً شمالی و جنوبی وزیرستان میں دہائیوں سے متحرک جرائم پیشہ اور شدت پسند افراد کو پناہ دینے والی ایک تنظیم ہے۔

ان کا مطالبہ ہے کہ قبائلی اضلاع سمیت ملک بھر میں شریعت کا نفاذ کیا جائے، فوج ان علاقوں سے واپس نکل جائے اور قبائلی اضلاع کی سابقہ حیثیت (فاٹا) کو بحال کیا جائے۔

عامر رانا کہتے ہیں کہ یہ پاکستان میں افغانستان کی طالبان حکومت کی طرح کا اسلامی نظام چاہتے ہیں مگر اس کے سربراہ ولی محسود کا ایک خاکہ ہے جس کا ذکر اس نے اپنی کتاب میں بھی کیا ہے کہ وہ ملک کے قبائلی اضلاع میں افغانستان کی طرز پر ایک اسلامی امارات قائم کرنا چاہتے ہیں۔

بیرسٹر سیف کا کہنا ہے کہ سب سے پہلے تو ٹی ٹی پی شدت پسند کیا چاہتے ہیں یہ ہمارا مسئلہ نہیں ہونا چاہیے بلکہ ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ کیا ہم یہ جنگ مزید لڑنا چاہتے ہیں یا اس مسئلے کا حل چاہتے ہیں۔

’سوال یہ ہے کہ اگر ممکن ہو تو کیا ہم پرامن طریقے سے اس مسئلے کو کسی طرح حل کر سکیں گے، اگر ہمارا جواب ہاں ہے تو ان کے مطالبات کی بات آتی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ان کے چند مطالبات تھے جن میں سے کچھ ہمارے لیے بالکل قابل قبول نہیں تھے جن میں سابقہ فاٹا کی حیثیت کو بحال کرنا شامل ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’یہ مطالبہ پاکستان اور عوام کو شاید اس انداز میں قبول نہ ہو کیونکہ اس کو ملکی پارلیمنٹ نے آئینی ترمیم سے منظور کیا ہے۔‘

بیرسٹر سیف کا کہنا تھا کہ ان کے باقی مطالبات میں یہ تھا کہ اگر وہ واپس آتے ہیں تو ان کے ساتھ کیا سلوک روا رکھا جائے گا، کیا ان باعزت واپسی ہو گی اور انھیں تحفظ فراہم کیا جائے گا؟

ان کا کہنا ہے کہ یہ ایسے مطالبات تھے جن پر مشروط مذاکرات ہو سکتے تھے۔

بیرسٹر سیف کا کہنا تھا کہ ہم نے یہ مطالبہ کیا تھا کہ اگر وہ واپس آئیں گے تو ٹی ٹی پی کے بینر تلے ایک گروہ یا جتھے کے طور پر نہیں بلکہ آئین پاکستان کے تحت ایک عام پاکستانی کی طرح غیر مسلح ہو کر آئیں گے اور عام شہریوں کی طرح رہیں گے۔

پولیس خاص طور پر ان شدت پسندوں کے نشانے پر ہے، اس کی کیا وجہ ہے؟

بنوں میں محکمہ انسداد دہشت گردی کے کمپاؤنڈ پر حملہ ہو یا سوات اور لکی مروت میں پولیس اہلکاروں کو یرغمال بنانے کے واقعات ٹی ٹی پی کے شدت پسندوں کی جانب سے پولیس فورس کو ایک آسان ہدف سمجھتے ہوئے نشانہ بنایا گیا۔ اگرچہ ماضی میں ان شدت پسندوں کا اصل ہدف تو پاکستانی فوج رہی ہے اور انھوں نے متعدد حملوں میں سیکورٹی فورسز کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔

مگر حال ہی میں فوج نے افغانستان کی سرحد سے متصل قبائلی اضلاع میں اپنی تعداد کم کرنے کے ساتھ ساتھ وہاں موجود اپنے اڈوں اور چوکیوں کے دفاع کو بہت مضبوط بنایا ہے جبکہ دوسری جانب فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام کے بعد پولیس اور ایف سی کو بہت سے سابقہ قبائلی علاقوں میں سکیورٹی اور امن و امان کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

چنانچہ پولیس فورس فوج کی طرح جدید دفاع اسلحہ و بارود سے لیس نہیں ہے اور ان کی تربیت سازی بھی نہیں ہے اس لیے وہ شدت پسندوں کے لیے ایک آسان ہدف ہیں۔

عامر رانا اس بارے میں کہتے ہیں کہ ٹی ٹی پی کے لیے ہمیشہ سے پولیس ایک آسان ہدف رہا ہے کیونکہ ان کے پاس زیادہ تربیت اور سہولیات نہیں ہیں۔

دوسری وجہ ریاستی سطح پر جتنی بھی گرفتاریاں ہوتی ہے پولیس اور محکمہ انسداد دہشت گردی ہی ان کو دیکھتا ہے اس لیے بھی پولیس کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔

دہشت گردی کی اس تازە لہر کو روکنے کے لیے حکومت کو کیا کرنا چاہیے؟

بیرسٹر سیف کا کہنا ہے کہ حکومت کو سب سے پہلے یہ فیصلہ کرنا چاہیے کہ انھوں نے اس کا مقابلہ کرنا ہے یا اس کو اپنے سیاسی فائدے کے لیے استعمال کرنا ہے۔

وہ کہتے ہیں ’اگر اس سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی گئی تو دھماکے بھی ہوں گے اور حالات خراب ہو گے لیکن اگر مقابلہ کرنا ہے تو حکومت کو ’سٹک اینڈ کیرٹ‘ کا استعمال کرنا ہو گا۔ جہاں وہ کوئی شدت پسند کارروائی کرتے ہیں وہاں بھرپور جواب دینا چاہیے، اور جہاں پر مذاکرات کی بات ہو وہاں نرم پالیسی اختیار کی جا سکتی ہے۔ اس کے لیے قوم کو ایک پیج پر ہونا ہو گا اور نیشنل ایکشن پلان میں وضع کردہ نکات پر مکمل عمل پیرا ہونا ہو گا۔‘

جبکہ عامر رانا کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کی اس تازہ لہر کو روکنے کے لیے اس وقت حکومت کے پاس دو طریقے ہیں ایک وہ افغان طالبان سے اس بارے میں بات کریں۔ اور دوسرا یہ کہ پاکستان میں اس وقت انسداد دہشتگردی کے جو میکنزم موجود ہیں انھیں مؤثر طریقے سے فعال اور استعمال کرنا چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ ’اب وقت کی ضرورت ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اور پاکستان کی سیاسی قیادت ملک میں شدت پسندی کے خلاف نرم گوشہ رکھنے والوں کی نہ صرف نشاندہی کرکے حوصلہ شکنی کرے بلکہ ان کو ختم کرنا ہو گا۔ اب ملک میں ’گڈ طالبان اور بیڈ طالبان‘ کی تفریق کو ختم کرنا ہو گا۔‘

Exit mobile version