ہماری کم علمی کی بڑی وجوہات

Afshan Huma

ایک وقت آئے گا جب پاکستان میں سائنس و تحقیق عام ہو جائیں گے۔ یہ فقرہ پڑھتے ہی آپ میں سے بہت لوگوں نے سوچا ہو گا کہ یہ وقت تو پہلے ہی آ چکا ہے۔ لیکن سچ مانئے ابھی صرف سائنس کے بارے میں جانکاری اور تحقیق کے بارے میں معلومات بھی عام نہیں ہوئی۔ ابھی تک تو ہم صرف یہ جانتے ہیں کہ کونسا فارمولہ کس نے دیا اور کہا استعمال ہونا ہے۔ پاکستان کی یونیورسٹیز سے فارغ ہونے والے طلبہ فارغ اسی لیے پھرتے ہیں کہ ابھی تک انہیں صرف معلومات کے زخائر دیے جا رہے ہیں۔ تحقیق اور تدوین کے لیے ضروری مہارتیں چند گنی چنی یونیورسٹیز کے علاوہ کوئی پروان نہیں چڑھاتا۔ اور جب بھی ہمارے سامنے کوئی جدت پسندی کی بات کی جائے تو پہلے ہی جملے پر یہ کہہ دینا کہ یہ تو ہمیں پتہ ہے یا یہ تو ہم جانتے ہیں یا یہ تو کوئی نئی بات نہیں؛ یا اسی قسم کے دیگر تمام فقرے جو آپ اور ہم فورا" بول دیتے ہیں ، ہماری کم علمی کی بہت سی وجوہات میں سے ایک ہے۔ مجھے اکثر علمی گفتگو کے دوران یہ دقعت محسوس ہوتی ہے جب پہلے ایک دو جملے سنتے ہی لوگ اس بات کا زبان سے نہیں تو چہرے کے تاثرات سے اظہار کرنے لگتے ہیں کہ "یہ تو ہمیں پتہ ہے"۔

ایک اور رویہ جو ہماری حصول علم کی راہ میں رکاوٹ ہے وہ ہے ہماری جھوٹی انا اور عزت نفس۔ ابھی آدھ گھنٹہ قبل میں اپنے کزن کے ہاں چائے پی رہی تھی اور ان کی بڑی بیٹی جو ماشاءاللہ گرافکس میں بی ایس کر کے آجکل ایک ادارے سے منسلک ہے کہنے لگی پھوپھو ان اداروں میں ابھی تک کورل ڈرا پر ہی کیوں کام کیا جاتا ہے، جبکہ گرافکس کے اس سے کہیں ذیادہ اور اچھے سافٹ وئر موجود ہیں۔ میں کچھ لمحے کے لیے رکی اور میں نے اس سے پوچھا کہ کہیں وہ بھی مجبور تو نہیں ہو گئی اپنی صلاحیتوں کو پس پشت ڈالنے اور پرانی طرز پر کام کرنے کے تو اس نے بتایا نہیں مجھے لوگوں نے کہا تھا لیکن جب مجھے ایک بہتر چیز کا علم ہے تو میں کیوں نہ اس کو استعمال کروں۔ میری اٹکی ہوئی سانس واپس آگئی کیونکہ میں اس دور سے گزر چکی ہوں جب مجھے جدید ترین تصورات، ٹیکنالوجی اور طریق ہائے کار کا علم ہوتے ہوئے بھی میرے اعلی افسران کے آگے گھٹنے ٹیکنے پڑتے تھے۔ یہ خالصتا" اس لیے کرنا ہوتا تھا کہ اعلی افسران کی انا کی تسکین اسی میں تھی کہ ان کے ماتحت کام کرنے والے سب لوگ اپنے علم کو وہیں محدود رکھیں جہاں پر انہوں نے تعلیم حاصل کرنا تکر کر دیا تھا۔

تیسری اور بہت بڑی وجہ ہے ہماری طبیت کی تیزی اور لا پرواہی۔ ہم کوئی کام بھی مستقل مزاجی سے نہیں کر پاتے۔ تحقیق اور علمی کاوشیں تو لوگوں کی پوری پوری زندگی پر محیط تھی۔ یہاں یہ حال ہے کہ لوگ کہتے ہیں آپ پی ایچ ڈی کے لیے ایک سال سے ذیادہ کا عرصہ کیوں دیتے ہیں۔ اور جن کو ہم کم از کم ڈیڑھ سال کی مدت دیتے ہیں وہ بھی اسی رویے کا شکار ہوتے ہوئے ایک سال خواب خرگوش سوتے ہیں، پھر جاگتے ہی سپروائزر کو ایک چٹھی لکھتے ہیں اور اسے باور کرواتے ہیں کہ آئندہ چھ ماہ میں اگر ان کی پی ایچ ڈی کا کام مکمل نہ ہوا تو نہ صرف یہ کہ ان کی ناک کٹ جائے گی بلکہ اس کا تمام ترذمہ سپروائزر ہی کا ہوگا۔ اس چٹھی کے بعد پھر دو چار ماہ کی خاموشی رہتی ہے اور پھر ایک دن اچانک وہ اپنے تحقیقی مکالہ کے ساتھ آن پہنچتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ پلیز ایک دو دن میں اسے پڑھ کراپنی قیمتی رائے سے نوازیں اور یقین کریں آپ جو بھی تبدیلیاں کہیں گے وہ کر دی جائیں گی۔ اول تو میری طبیت کے سپروائزر یہیں پر معزرت کر لیتے ہیں اور اگر نرم طبیت، ہمدردانہ رویہ، سہولت کاری وغیرہ وغیرہ ان کی گھٹی میں ہوں تو وہ پڑھ کر رائے بھی دے ڈالتے ہیں۔ پھر آخری ایک ماہ شروع ہو جاتا ہے اور اس ماہ کے آکر میں آ کر پی ایچ ڈی کے طلبہ جو کہ خود کو پہلے ہی سکالرز لکھنا اور جاننا شروع کر چکتے ہیں فرماتے ہیں بس اب ٹائم نہیں ہے پلیز آپ سائن کر دیں۔۔۔

میری ناقص رائے میں جب تک ہم اپنے دماغوں سے یہ نہیں نکال دیتے کہ ہمیں سب معلوم نہیں ہے۔  تحقیق و تدوین کا سلسلہ مسلسل جاری ہے؛ ہمیں بے حد ضرورت ہے نئے علوم سے شناسائی کی اور اپنے ہاں اصل تحقیق کا رواج ڈالنے کی، نہ کہ یہاں وہاں کیے گئے کام کے جوڑ توڑ سے مکالہ جات بناتے چلے جائیں۔ ہمیں تحقیق کے لیے ضروری رویے اپنانے ہوں گے، ہمیں اپنے آپ کو خالص اور اصل تحقیق پر آمادہ کرنا ہو گا۔ ہمیں اپنے اداروں میں ان تمام لوگوں کے رویے بدلنے ہوں گے جو اپنے محدود علم کے خوف میں مبتلا ہیں اور نئے آنے والوں کو بھی وہیں روکے رکھنا چاہتے ہیں۔ ہمیں شاید ایک دو سال تک بہت سے پی ایچ ڈی سکالرز کو روکے رکھنا ہو گا جب تک وہ کوالٹی ریسرچ کر کے نہیں لاتے۔۔۔

یقین مانئے اگرہم نے ایسا نہ کیا تو دس سال بعد بھی  کسی یونیرسٹی کے ہوسٹل میں بیٹھ کر کوئی یہ سوچ رہا ہو گا کہ ایک وقت آئے گا جب پاکستان میں سائنس و تحقیق عام ہو جائیں گے۔۔۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *