اک یادگار ملاقات

rizwan ullah pishawri

محبوب کے ساتھ ایک یادگار ملاقات تھی،سمجھ نہیں آتا کہ کہاں سے شروع کروں،اپنے اس ملاقات کو کیسے الفاظ کا لبادہ پہناؤں؟بس سابق وزیر اوقاف مولانا امان اللہ اور ان کے ساتھی فضل ربی کے ہمراہ مملکت خداداد پاکستان کے دارالخلافہ اسلام آباد کا رخت سفر باندھا،یوں ہی ہم اسلام آباد منسٹر کالونی پہنچ گئے،چند ہی لمحوں میں اپنے پیارے محبوب کے گھر میں انتظار فرما رہے تھے،کہ مہمانوں کا ایک ہجوم سا ہوا،یہ ہجوم دیکھ کر طبیعت بوجھل سی ہو گئی،یہ تو ایک عام بات ہے کہ جب کوئی اپنے محبوب کے ساتھ ملتا ہے،تو یہ ملاقات ون ٹو ون مزہ کرتی ہے،طبیعت کی خرابی کے باعث ہم دوبارہ وہاں سے نکل پڑے،کھانے کا وقت تھا،تو ہم نے کہاں کہ چلو باہر نکلیں،کھانے بھی کھا لیں گے تب تک یہ مہان بھی کچھ کم ہو جائیں گے،اتنے میں ہم سفر سابق وزیر اوقاف کے فون آیا کہ عثمانیہ ریسٹورنٹ تشریف لائیں،وہی پر کھانا کھائیں گے،میں بھی ساتھ ہو لیا،چند ہی منٹوں میں ہم عثمانیہ ریسٹورنٹ پہنچ گئے،کیا دیکھا کہ سابق وزیر اوقاف کو وہ فون ماہنامہ الجمعیۃ کے ایڈیٹر مفتی زاہد شاہ نے کیا تھا،اسی بہانے ان سے بھی ملاقات ہو گئی،ٹیبل کے اردگردکرسیوں پر بیٹھ گئے،کھانے کی فہرست دیکھ کر آرڈر دیدیا گیا،کھانا تیار ہونے تک سیاسی اور مذہبی امور زبردست بات چیت ہوئی،ہم نے بھی موقع کو غنیمت سمجھ کر دماغ کی کھڑکیاں کھول دی اور سنتے رہے،ایک اہم بات اس مجلس میں یہ ہوئی کہ بارگاہ لایزال کے دربار میں ہم جتنا بھی شکر ادا کریں کم ہیں کہ مملکت خداداد کے ایوان پر الحمد اللہ علمائے کرام موجود ہیں اور ہر قسم کے فتنے کی سرکوبی کرتے رہتے ہیں،آج کل پشاور یونیورسٹی میں بھی کئی قسم کے فتنے اٹھ رہے ہیں شکر ہے کہ حقانی صاحب انہی فتنوں کی سرکوبی کے لئے سرگرم ہے،بات کہاں سے کہاں نکل گئی، کھانا کھانے کے بعد ہم وہاں سے نکل بیت اللہ کی طرف متوجہ ہوئے اور سفرانہ نماز ظہر ادا کر کے اپنے منزل مقصود کی طرف رواں ہو گئے،منسٹر کالونی میں انٹری کی تو تب جان میں جان پیدا ہونے لگی،کیونکہ آدمی جب اپنے محبوب کے سامنے جاتا ہے تو اس میں نئی زندگی اور نئی جاودانی آتی ہے،یہی کیفیت راقم کی بھی تھی کہ جب ہی اپنے محبوب کے گھر داخل ہوئے تو محبوب کے سیکرٹری نے کہا کہ حضرت تشریف فرما ہے،ہم بھی انہی کےپیچھے ہو لیے اور محبوب کے کمرے میں داخل ہوئے کیا دیکھتا ہوں کہ سامنے صوفے پر ایک وجیہ ،سفیدداڑھی والے،اپنے محبوب نبی کریم ﷺ کی سنت عمامہ اپنے سر پر سجاچکے تھے اور صرف یہی نہیں بلکہ سردی سے بچنے والی ایک عجیب قسم کا جبہ زیب تن تھا۔
قارئین کرام آپ جان چکے ہوں گے کہ میرا مراد کون ہے،چلو آپ کی شوق کو مزید بڑھانے کے لئے یہ بعدمیں بتاؤں گا کہ یہ کون تھے،کمرے میں داخل ہوئے علیک سلیک ہو گئی،محبوب نے میری طرف دیکھ کر حال احول پوچھ لئے ،سابق وزیر اوقاف نے جب راقم کا تعارف کرایا تو اچھا وہ آپ ہے؟حیرت سے میرے محبوب نے مجھے سیکھ کر کہا،جی راقم نے کہا،آپ واتس ایپ پر بھی مجھے بھیجتے ہیں محبوب نے کہا،جی ہاں راقم نے کہاں،عجیب مجلس لگی راقم چند ہی منٹ ان کی صحبت میں بیٹھامگر بہت کچھ سیکھنے کو ملا،اتنے میں کسی پریس کلب کے صدر بھی آگئے انہوں نے چند سوالات پوچھنا شروع کئے وہی سوالات میرے ذہن میں بھی تھے مگر میں شرم کے مارے اپنے محبوب کے سامنے یک لفظ بھی نہ کہ سکا،اس صدر نے ایک سوال کیا کہ حضرت پانامہ کا کیا بنا؟جواب ملا کہ میں پانامہ پر کیوں بات کروں پانامہ تو خود لیکس ہے،لیکس پر بھی کوئی بات کرتا ہے؟لیکسوں کے پیچھے پڑنا اپنی زندگی کو فضول صرف کرنا ہے،اور مزید یہ بھی بتایا کہ میں نے پرائم منسٹر کو بھی کہا تھا کہ بس کچھ بھی نہ کہو،یہ لوگ خود بخود سرد پڑ جائیں گے،میں تو پانامہ پر کچھ بولنے والا نہیں ہوں کیونکہ اگر میں بولوں گا،تو اس کو میں خود بخود آگے بڑھاؤں گا،چھوڑوں ان باتوں کو،یہ جوبات میرے محبوب کے تھے،اتنے میں آذان کی صدا کانوں لگی،آذان کے بعد ایک صاحب میرے محبوب کے سامنے آکر کہنے لگے کہ نمازعصر !محبوب نے فرمایا کہ نماز وقت ہو گیا،چلو فریضہ ادا کرتے ہیں،اقامت شروع ہو گئی اور محبوب مصلے پر کھڑے ہو کر امام بن گئے اور ہم ان کے ماموم(مقتدی)بن گئے،نماز عصر ادا کرکے میرے محبوب نے اجازت چاہی،کہا کہ عمرے کے لئے جانا ہے اب میں اپنا کچھ سازو سامان برابر کر لوں گا،اتنے میں محبوب گھر کے اندر تشریف لے گئے اور ہم نے بھی وہاں سے رخت سفر باندھا اور یوں ہی ہم پشاور پہنچ گئے،اللہ تعالی میرے محبوب ،قائد ملت اسلامیہ ،قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمن کو عمردراز نصیب فرمائے اور یہ عمرہ کی اس سفر سے بخیر وعافیت واپس اپنے وطن پہنچا لے۔(آمین)
ای دعا از من وازجانب جہاں آمین باد

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *