پاکستانی مارکہ جمہوریت

Ata ullah wadood

جمہوریت میں اکثریتی نقطعہ نظر رکھنے والوں کے مؤقف کو اہمیت حاصل ہوتی ہے پاکستان میں پائی جانے والی لولی لنگڑی جمہوریت کے حق میں بعض صاحبان بڑے شد و مد سے دلائل دینے کی سعی فرماتے رہتے ہیں اور اگر غلطی سے کوئی شخص سیاستدانوں کی کرپشن کو واضح کرتے ہوئے اسے ختم کرنے کا مطالبہ کرے یا وطن عزیز میں موجود جمہوریت کے حوالے سے استفسار کرے اور دھاندلی زدہ انتخابی نظام کی شفافیت پر سوال اٹھائے تو اس لولی لنگڑی جمہوریت کے جانشین اور نام نہاد جمہوری روایات کے علمبردار فورا آمریت پسند ہونے کا فتوی صادر فرماتے ہیں ، جمہوریت جمہوریت کی مالا رات دن جپنے والوں سے عاجزانہ سوال ہے کہ حضور یہ کیسی جمہوریت ہے جس میں آپ سے اختلاف رائے بھی برداشت نہیں ہوتا؟؟
گزشتہ دنوں سندھ اسمبلی کی کاروائی قومی میڈیا کی زینت بنی رہی جس میں امداد پتافی نامی وزیر انتہائی ڈھٹائی سے نصرت سحر عباسی پر معنی خیز جملے کستے رہے اور انھیں’’ ڈراما کوئین‘‘ کے لقب سے سرفراز فرمایا ،انگریزی میں جواب پڑھنے کی فرمائش پر موصوف نے جواب صادر فرمایا کہ اگر انگریزی میں جواب درکار ہے تو موصوفہ ان کے چیمبر میں تشریف لے آئیں تو یہ ہیں وہ پارلیمانی روایات جس میں ایک خاتون ڈپٹی اسپیکر کے زیر صدارت اجلاس کے دوران وزیر موصوف بازاری زبان کا شوق ببانگ دہل فرماتے رہے اور اس کے خلاف ایکشن لینا تو دور ساتھی پارلیمانی ممبرز اور خاتون صدر محظوظ ہوتی رہیں اگر یہی وہ جمہوریت کی معراج ہے جس کی شان میں صبح و شام قصیدہ خواں اپنے کلام پیش کرتے ہیں موقع بے موقع ان کے پیٹ میں درد اٹھتا رہتا ہے اور اس کے دفاع کی خاطر ہر لحظہ وہ بے چین رہتے ہیں تو اس عاجز کی رائے میں ہم آمریت پسند ہی بھلے ہیں قصیدہ خواہوں کو ہی یہ جمہوریت مبارک ہو ۔
جمہوریت کے ثمرات سے صرف اس وقت عوام الناس مستفیذ ہو سکتے ہیں جب شفاف انتخابی نظام لاگو کیاجائے 2013 ء کے انتخابات کے دوران یہ عاجز خود اس امر کا شاہد ہے کہ کئی حلقوں میں ’’فرشتوں‘‘ کی مدد سے ایسے امیدوار کامیاب ہو کر اپنے حلقے کی نمائندگی کے فرائض بجا لانے کے لئے ’’مقدس ایوان‘‘ کی زینت بنے جن کے کامیاب ہونے کا شائبہ تک نہیں تھا اگر وطن عزیز میں شفاف انتخابات ہوں گے اور ’’فرشتوں‘‘ کی مداخلت بھی کم سے کم بلکہ نا ہو تو زیادہ بہتر ہے اس وقت تک حقیقی جمہوریت کا قیام نا ممکنات میں سے ہے ، امداد پتافی ایسے ’’تعلیم یافتہ ‘‘ ضرور اسمبلی کی زینت بنتے رہیں گے جن کی دراصل کوالیفیکیشن ’’مذاق رات‘‘ پروگرام میں شامل ہونے کی ہے بہرحال امداد پتافی اپنی لاجواب انگریزی اور بے مثال جگت بازی پر انعام کے مستحق ہیں ان کے لازوال انگریزی جواب نے اراکین اسمبلی کے علاوہ شاہ سرکار کو بھی زیر لب مسکرانے پر مجبور کر دیا ضرور وہ انھیں اپنی کابینہ کا وزیر بنانے پر بھی خوش ہوں گے اور ان کا ضمیر بھی اس فیصلے سے مطمئن ہو گا ۔
ہمارا انحصار صرف الزامات لگانے یا غلطیوں کو اجاگر کرنا نہیں بلکہ پاکستان میں پائی جانے والی معاشرتی بے چینی کو رفع کرنے کے لئے اور جمہوری اقدار کو مضبوط و توانا کرنے کے لئے سعی کرنا بھی ہمارے فرائض میں شامل ہے چند واقعات گہرے غور و فکر اور تدبر کی دعوت دے رہے ہیں ان واقعات کا رونما ہونا جہاں والدین کے لئے پریشانی کا باعث ہے وہیں اہل دانش کے لئے بھی لمحہ فکریہ ہیں کہ آخر تربیت میں کوتاہی کہاں رہی ؟گھریلو ملازمہ طیبہ پر ہونے والے ہولناک تشدد اور اس کے بعد بے شمار جوڑوں کا اس کے والدین ہونے کا جھوٹا دعوی کرنے کے علاوہ اسلام آباد سے ہی الم ناک خبر ایک طالب علم کی خودکشی کا واقعہ ہے مبینہ طور پر ساتویں جماعت کا طالب علم اپنی ٹیچر کے عشق میں گرفتار تھا اور لگاتارتین سال تک ایک ہی کلاس میں محض اس وجہ سے فیل ہوتا رہا کہ وہ ٹیچراسی کلاس کو پڑھاتیں تھیں تین سال تک کسی نے بھی اس امر کی طرف توجہ نہیں دی کہ آخر طالب علم کو کیا پریشانی لاحق ہے اور وہ کیوں بار بار فیل ہورہا ہے بالآخر طالب علم نے اپنے عشق کے خوفناک انجام سے ڈر کر اپنی جان لے لی ، پھر گوجرانوالہ سے خبر موصول ہوئی کہ ایک طالب علم نے استاد کی ڈانٹ پر طیش میں آکر استاد پر ہی پستول تان لی اس استاد پر جس کا درجہ روحانی باپ کا سا ہے پھر انتہائی روح فرساء اطلاع پاکستان کے معاشی حب کراچی سے موصول ہوئی کہ ایک معصوم ننھی کلی جس کی عمر محض 6سال تھی کو چند بد بختوں نے اپنی ہوس کا نشانہ بناتے ہوئے روند ڈالا یہ تمام واقعات چیخ چیخ کر ہمیں بتانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ سب اچھا سب اچھا کی گردان کرنا مسائل کا حل ہرگز نہیں ہے جب تک اپنے معاشرے کی بگڑتی ہوئی ہئیت کی نشاندہی نہیں کی جائے گی اس وقت تک مسائل کے حل کا کوئی بھی تریاق کارگر ثابت نہیں ہوگا ، مریض اگر خود کو کسی مرض کا شکار ہی نہ سمجھے اور کسی طبیب کے پاس جانے کی زحمت گوارا نہ کرے تو ایسے مریض ایڑھیاں رگڑ رگڑ کر مرتے ہیں اس وقت وطن عزیز کی حالت بھی دائمی مریض جیسی ہے جسے اپنی بیماری کا بھی علم نہیں اور وطن عزیز کی معاشرتی بنیادیں بڑے زور سے ہلتی نظر آتیں ہیں خاکم بدہن ایک ہلکا سا بھونچال بھی ان بھر بھری بنیادوں کو تہہ و بالا کر سکتا ہے ،ذرا نہیں پورا سوچئیے!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *