اسلامی فوی ا تحاد ۔۔ چند سوالات

ausaf-sheikh

ان دنوں اسلامی ممالک کے فوجی اتحاد کا بڑا تذکرہ ہے، تقریباََ 35 اسلامی ممالک کی مشترکہ فوج جس کے بارے میں پہلے 39 اسلامی ممالک کی فوج بھی سنا گیا ، فی الحال 35 اسلامی ممالک اس میں شامل ہیں، مستقبل میں مزید اسلامی ممالک بھی اس میں شامل ہو سکتے ہیں، اس پلان کو سعودی عرب کی قیادت میں 14 دسمبر 2015 ء کو حتمی شکل دی گئی، تنظیم تعاون، اسلامی رابطہ عالم اسلامی اور مجلس حکماء المسلمین نے اس فوجی اتحاد کی حمایت کی اور وقت کی ضرورت قرار دیا۔ جبکہ لبنان نے اس میں شمولیت سے انکار اور حزب اللہ نے اس کے قیام کے حوالے سے شکوک و شہبات کا اظہار کیا، جبکہ انڈونیشیا اور آذر بائیجان ممکنہ طور پر شامل ہو سکتے ہیں۔
اسلامی ممالک کی فوج جسے دنیا میں اسلامی ممالک کی نیٹو بھی کہا جا رہا ہے کے بنانے کا مقصد مذہب و مسلک اور نام سے قطع نظر اسلامی ممالک میں ہر قسم کی دہشت گردی ، حملہ کے خلاف مزاحمت اور جنگ کا محاذ قائم کرنا بھی ان کے خلاف جنگ کرنا ، فکری، نظریاتی اور ابلاغی سطح پر دہشت گردی کے خلاف بھر پور جنگ کرنا ہے، اس وقت دنیا بالخصوص اسلامی دنیا کو درپیش ایک اہم مسئلہ دہشت گردی ہے گو صرف دہشت گردی ہی اسلامی دنیا کا مسئلہ نہیں لیکن بہت سے درپیش مسائل میں سے ایک اہم اور بڑا مسئلہ ہے اور اسلامی ممالک کی افواج بنانے کامقصدسرد ست صرف دہشت گردی کے خلاف ہر قسم کی جنگ لڑنا ہے۔
دنیا میں مسلمانوں کی تعداد ایک ارب 60 کروڑ سے زائد ہے اور اسلام عیسائیت کے بعد دنیا کا دوسرا بڑا مذہب ہے اور تیزی سے پھیل رہا ہے دنیا میں تیزی سے پھیلنے کے حوالے سے پہلے نمبر پر اسلام ہے اس وقت دنیا کی تقریباََ 23 فیصد آبادی مسلمانوں پر مشتمل ہے، اوپر لکھے گئے اعدادو شمار بھی غیر مسلموں کے ہیں جبکہ ممکنہ طور پر دنیا میں مسلمانوں کی آبادی اس سے زائد ہے، مسلمان ممالک کی تنظیم میں تقریباََ 57 اسلامی ممالک اور ریاستیں شامل ہیں جسے O.I.C یعنی آرگنائزیشن آف اسلامک کنٹریز کیا جاتا ہے جبکہ عموماََ دنیا میں مسلمان ممالک کی تعداد 49 سے51 تک گنی جاتی ہے، جبکہ دنیائے اسلام میں 5 اہم ترین مسلم ممالک پاکستان ، ترکی، ایران، سعودی عرب اور ملائشیا ہیں مسلمان ممالک کی اتنی بڑی تعداد کے باوجود بہت کم ممالک اسلامی قوانین کے نفاذ کے حوالے سے اسلامی ریاستیں ہیں۔
پاکستان کے سابق چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف جن کی قیادت میں پاکستانی فوج نے دہشت گردی کے خلاف موثر جنگ لڑی اور بالخصوص پشاور میں آرمی پبلک اسکول سانحہ کے بعد دہشت گردوں اور دہشت گردی کی کمر توڑ کر رکھ دی، گو دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے ابھی وقت درکار ہے اور اسلامی ممالک کے فوجی اتحاد کا قیام بھی اسی سلسلہ کی اہم کڑی ہے، اور جنرل راحیل شریف کے پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف ہوتے ہوئے بھی اسلامی فوج کے سربراہ کی حیثیت سے ان کے نام کی بازگشت سنی جا رہی تھی ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد یہ خبریں بھی آئیں کہ انہیں اسلامی فوج کا سربراہ بنا دیا گیا جبکہ پاکستانی وزارت داخلہ نے تردید کی بہر حال یہ بات طے ہے کہ انہیں سربراہ بنا یا جا رہا ہے اس کے لیے حکومتی سطح پر جو ضروری کا روائی ہے وہ بھی ہو گی۔
لیکن سوالات یہ ہیں کہ اسلامی ممالک پر مشتمل فوجی اتحاد میں بہت سے اسلامی ممالک شامل نہیں ہیں یا انہیں دعوت نہیں دی گئی، لبنان کے بارے میں سنا گیا ہے کہ اس نے شامل ہونے سے انکار کر دیا ہے 35 ممالک اس میں شامل ہیں جبکہ 10 سے زائد دیگر مسلم ممالک نے اپنے تعاون کاا علان کیا ہے، 5 اہم اسلامی ممالک پاکستان، ترکی، ایران، سعودی عرب اور ملائشیا میں سے ایک اہم اسلامی ملک ایران اس فہرست میں ابھی تک شامل نہیں ہے جو ایک سوالیہ نشان ہے کہ ایران فوری شامل نہیں ہو رہا، یا ا سے شامل نہیں کیا جارہا مستقبل میں صورت حال کیا ہو گی، جبک انہی اہم ممالک میں سے ملائشیا اس اتحاد میں تو شامل ہے لیکن جنگی کردار کے لیے دستیاب نہیں ہے، اسلامی فوج کا صدر مقام سعودی عرب کا دارالخلافہ ریاض اور مقام افریقہ ، جنوبی ایشیا اور مشرق وسطی ہو گا۔
ایک تو سوال یہ اٹھتا ہے کہ ایران اس میں شامل کیوں نہیں اور اس کے علاوہ یہ کہ کیا یہ فوجی اتحاد جس کامقصد دہشت گردی کے خلاف ہر قسم کی جنگ لڑنا ہے دنیا کی مسلمانوں پر مسلط کی گئی دہشت گردی کے خلاف موثر ثابت ہو سکتی؟ جیسا کہ پاکستان میں دہشت گردی میں بھارت کے ملوث ہونے کے ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں اور افغانستان بھی اس کام میں بھارت کا ساتھی ہے جبکہ افغانستان اور تاجکستان بھی اس میں ممکنہ طور پر شامل ہونے والے ہیں، یا افغانستان سے کوئی گارنٹی اور وعدہ حاصل کیا جا رہا ہے ؟ دنیا میں تو یہ کھیل چل رہا ہے کہ مسلم ممالک میں دہشت گردی کروا کے وہیں اپنامحاذ جنگ قائم کر لیا جاتا ہے بہت سے ممالک کو تباہ کر دیا گیا ، نئے ابھرنے والے فتنہ داعش کی کیا تشریخ کی گئی ہے ؟ اسی طرح اور بھی بہت سی تنظمیں جو اسلام اور مسلمانوں کے بھیس میں مسلمانوں کی تباہی کا سبب بن رہی ہیں یا یہ فوجی اتحاد مسلم ممالک کو دہشت گردی کے نام پر غیر اسلامی ممالک کا میدان جنگ بننے سے روک پائے گا؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *