غامدی ہی کیوں؟(پہلاحصہ)

naeem-baloch1

اقوام وملل کے زوال کا اصل آغاز تو اسی وقت ہوجاتا ہے جب اس کے فکر میں کجی آتی ہے، لیکن وہ ظاہر وہ اس وقت ہوتا ہے جب اس کے سیاسی ڈھانچے میں اضمحلال نظر آتا ہے ۔ تب اس کا اثر معاشرے میں سرایت کرتا دکھائی دیتا ہے۔سب سے پہلے آگہی ، گمراہی میں، پھر علم ضعیف الاعتقادی اور عقیدت و تعصب میں ، اخلاق حسنہ منافقت، عدم رواداری اور ریا کاری میں اور آخر میں خوشحالی، بدحالی میں ، بدل جاتی ہیں۔اس لیے بات کا آغاز تو شاید اس دور سے کرنا چاہیے تھا جب خلافت ، بادشاہت میں تبدیل ہو رہی تھی یا اس دور سے جب خلافت عثمانیہ(-1299 1922) یورپ کا مرد بیمار ہونے کے باوجود جنگ عظیم اول میں کود پڑی اور ہزیمت کے بعد مصطفی کمال پاشا کے ہاتھوں اپنے منطقی انجام کو پہنچی۔ لیکن ہم اس کا آغاز بوجوہ اس دور سے کرنے پر مجبور ہیں جب افغانستان میں ایک طویل اور خون ریز جدوجہد کے بعد ہمارے خواب بری طرح بکھر گئے تھے۔ یہ بہت بڑا دھچکا تھا جب ’دہریے روس ‘کو شکست دینے کے بعد امریکہ اپنا مطلب نکال کر رفوچکر ہوگیا اور افغانستان خانہ جنگی کی مہیب آگ میں جلنے لگا۔اس وقت ہمارے ذہنوں میں یہ سوال پوری قوت سے پیدا ہوا کہ ایسا کیوں ہوا؟ ’جہاد‘ کے اس سارے عمل میں ہمیں یہی بتا یا گیا مجاہدین نے صحابہؓ کی یاد تازہ کردی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی خصوصی مدد کے ساتھ روس کی شکل میں طاغوتی قوتوں کو عبرت ناک شکست دے دی گئی ہے اور اب اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا دور بس شروع ہی ہونا چاہتا ہے لیکن جب انھی ’قدسیوں ‘ نے اپنے ہی مسلمان بھائیوں کا خون بہایا توہم جیسے جوشیلے سوچنے پر مجبور ہو گئے کہ یہ مجاہدین جہاد کی بھٹی میں کندن بننے کے بجائے اقتدار کے بھوکے فسادی اور قاتل کیسے نکل بن گئے ۔
تب ہمیں یاد آیا کہ ایک ’عارف‘ ہمیں یہ بتایا کرتا تھا جہاد افغانستان اگر چہ سچے جذبے سے لڑا جا رہا ہے لیکن یہ کسی اور کے مفاد میں لڑا جا رہا ہے ، اسی وجہ سے یہ ایک لیڈر کی سربراہی میں لڑے جانے کی ضروری شرعی شرط کے بغیر ہو رہا ہے۔ اس لیے خدشہ ہے کہ یہ خیر کے بجائے شر میں تبدیل ہو جائے گا۔ قبل اس کے ہم اس بات پر غور کرتے کہ اس ’عارف‘ یعنی جاوید احمد غامدی کی یہ بات کیوں ٹھیک ثابت ہوئی ، ایک اور واقعہ ہو گیا ۔
پراسرار ہاتھوں سے طالبان وجود میں آئے اور پھر خون کا ایک اور دریا عبور کرنے کے بعد طالبان کی انتہائی ’ خالص اسلامی ‘ حکومت قائم ہوگئی ۔اس اسلامی حکومت نے دورِ بادشاہت کے فہم دین کو دوصدیوں پرانی تمدن وثقافت کے ساتھ نافذ کر دیا۔ لمحہ موجود جس فکر کو ’جس کی لاٹھی اس کی بھینس سمجھتا تھا ‘اسے مذہبی رنگ میں بیان کرتے ہوئے ہمارے نمائندہ اہل علم نے اسے ہمارا بھولا ہوا سبق قرار دیا اور فرمایا گیا کہ ’دین کا سیاسی غلبہ اس ’امت خیر‘ پر فرض ہے۔مثلاًمولانا تقی عثمانی ’’ان الحکم الاللہ ‘‘ کے قرآنی حکم کی تشریح ان الفاظ میں فرماتے ہیں کہ جس خدا کا حکم آسمانوں میں قائم ہے ، اس کا حکم زمین پر بھی قائم ہونا لازمی ہے ۔ مولانا زاہد الراشدی فرماتے ہیں : مسلمانوں کے تمام فقہی مذاہب کا متفقہ فیصلہ ہے کہ خلافت اسلامیہ کا قیام ملت اسلامیہ کا اجتماعی دینی فریضہ ہے ، اس نظریے کو مولانا مودودی کے نظریہ عبادت واطاعت نے منطقی دلائل مہیا کر دیے ۔( ملاحظہ ہو ان کی کتاب ، اسلام کی چار بنیادی اصطلاحات ) انھوں نے اسلام کو ایک نظام بتایا ، دوسرے نظاموں کی اطاعت کو کفر کی اطاعت قرار دیا۔ چنانچہ اب اگر ایک مسلم حکومت اسلامی نظام نافذ نہیں کرتی تو وہ قرآن کی رو سے کافر ہے ۔ (ومن لم یحکم بما انزل اللہ فااولئک ہم الکافرون )یعنی جو اللہ کے احکام کے مطابق فیصلے نہیں کرتے وہ کافر ہیں ۔ چنانچہ اسی فکر کو آگے بڑھاتے ہوئے داعش اور القاعدہ نے اسے منطقی انجام تک پہنچایا اور کہا جو حکومتیں ا للہ کے حکم کو نافذ نہیں کرتیں وہ کافر اور مرتد ہیں اور جو مسلمان ان حکومتوں کی مدد کرتے ہیں ، ان کو ٹیکس دیتے ، ان کی پالیسیوں کی حمایت کرتے ہیں وہ بھی ان جیسے ہیں اور ان حکمرانوں کی طرح مرتد ہیں اور مرتد واجب القتل ہوتا ہے ۔( واضح رہے یہ ہماری رائے نہیں ) اب علماء لاکھ یہ کہیں کہ سزا دینا قاضی کا کام ہے ، لیکن ان تنظیموں کی لیڈر شپ نے یہ کہہ کر ان کی بات کو مسترد کردیا کہ اگر پرائیویٹ جہاد ہو سکتا ہے ، گستاخ رسول کو سزا دینا غیرت ایمانی کا تقاضا ہو سکتا ہے ، تو عالمی استعمار کی حامی حکومتوں اور ان کی حمایت کرنے والے عوام کے خلاف قتال و جہاد کیوں نہیں کیا جا سکتا؟ چنانچہ حقیقت یہی ہے کہ القاعدہ ہو یا داعش ،یا کوئی اور دہشت پسند تنظیم، اس کی فکری اساس ہماری نمائندہ مذہبی جماعتوں اور فرقوں ہی نے فراہم کی ہے ۔ اختلاف اگر ہے تو صرف اور صرف حکمت عملی اور وقت سے پہلے اقدام کا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اسامہ بن لادن ، بیت اللہ محسود، ممتاز قادری اور اس قبیل کے تمام لوگوں سے اختلاف کے باوجود انھیں شہید کہا جاتا ہے ۔
اس فہم دین سے متعدد اہل علم نے اختلاف کیا لیکن سب سے توانا ، مدلل اور موثربیانہ جناب جاویداحمد غامدی نے پیش کیا ۔ ان کا یہی بیانہ ان کی پاکستان سے ہجرت کا باعث بنا ، اسی بیانیے کے نتائجِ فکر نے انھیں روایتی علماء سے ممیز کیا ، ان سے عام علماء کی شدید ناراضی کا باعث بنا ۔یہی وجہ ہے کہ ان کے خلاف غیر اخلاقی زبان میں تنقید تو ملے گی لیکن مدلل انداز میں گفتگو کرنے والے شاید ہی کوئی اہل علم ہوں ۔ان کا نام آتے ہی اخلاق اور اعتدال دونوں رخصت ہو جاتے ہیں ، وجہ صاف ہے کہ ا نھوں نے روایتی فکرجہاد وانقلاب کے آگے دلیل برہان کا ناقابل عبور بندھ باندھ دیا ہے ورنہ ان کا تصور قرآن کوئی اجنبی بات ہے نہ تصور حدیث کوئی انوکھی رائے ، حضرت عیسٰیؑ کے بارے میں ان کا موقف کوئی نیا نہیں اور نہ ہی موسیقی ، مصوری یا اس قسم کے کے فروعی معاملات میں ان کی رائے اسلام کی علمی تاریخ کے لیے کوئی منفرد بات ہے ۔ان کا یہ بیانہ آسان لفظوں میں آخر ہے کیا ؟ یہ ہم اگلی نشست میں بیان کریں گے ! ( جاری ہے )

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *