انصاف کرنے والوں کو انصاف کون دے گا ؟

ahmer-akbar

دنیا کے مقدس ترین پیشوں میں سے ایک پیشہ قاضی کا بھی ہے جی ہاں وہی قاضی جس کو انگریزی اصطلاح میں ہم جج کہتے ہیں ۔اسلامی ریاست کا مکمل دارومدار انصاف اور قاضی پر ہوتا ہے سو جج کے لیے نہایت ایمندار ،باعلم ،سمجھدار اور قانون کی مکمل شناسائی ضروری ہے مطلب ہم جو بھی جج بھرتی کرتے ہیں ان میں یہ سب خوبیاں یقیناً موجود ہوتی ہیں اور مکمل تحقیقات کے بعد ہی ایک جج کو اس کے عہدے پر رکھا جاتا ہے ۔
اب آتے ہیں بنیادی سوال کی طرف ۔۔۔ قانون بڑا ہے یا قانون دان ۔۔۔۔۔؟ ہمارے آئین میں چودہ سو سال پہلے بنے اسلامی قوانین بھی موجود ہیں اور انگریز کے بنائے ہوے قوانین بھی موجود ہیں گویا ہمارا پاس قدیم اور جدید آئین موجود ہے ۔اب قانون کا ایک طالب علم تین یا پانچ سال میں قانون کو پڑھ کر ایک قانون دان یا وکیل بن جاتا ہے ۔مطلب ایک وکیل ہمارے آئین اور قانون کا طالبعلم ہے اور اس کا ذریعہ معاش بھی اسی قانون کی وجہ سے چلتا ہے اس سے ثابت ہوا کہ قانون دان سے ہمارا قانون بڑا ہے ۔
اب بات کرتے ہیں اس پیمانے کی جس کی بناء پر وکیل کو وکالت کا لائسنس دیا جاتا ہے ۔ معذرت کے ساتھ امتحان پاس کرنے کے بعد ایک قانون دان کو بار کا لائسنس بناء کسی بھی چھان بین کے دے دیا جاتا ہے جبکہ ایک جج کو مکمل تحقیقات کے بعد ہی اس کا عہدہ دیا جاتا ہے ۔پس ثابت ہوا کہ ہمارے ملک میں ایک جج وکیل سے زیادہ سمجھدار ،ایمندار اور دیگر خوبیوں کا مالک ہوتا ہے ۔
اب میں سیدھا  لاہور چلتا ہوں اس واقعہ کی طرف جو کچھ دن پہلے مقامی عدالت میں پیش آیا جس میں ایک ینگ اور قابل قانون دان یا وکیل  کمرہ عدالت میں آن ڈیوٹی جج کے ساتھ پہلے بحث کرتا ہے اس کو کھری کھری سناتا ہے اس کے بعد جج اپنے روم میں چلا جاتا ہے اس کے بعد کچھ وکلاء آتے ہیں اور اس جج کے روم میں جا کر ان کی پیٹائی لگاتے ہیں اتنا مارتے ہیں وہ لہولہان ہو جاتے ہیں گندی گندی گالیاں دی جاتی ہیں اور پھر وکلاء جن کی تعداد جج صاحبان سے سو گنا زیادہ ہےجج ہی کے خلاف احتجاج کرتے ہیں-
اس پورے واقعہ میں آپ کہیں بھی جج صاحب کی طرف سے مزاحمت  نہیں دیکھے گی  مطلب کیا ہمارے ملک میں ایک وکیل جج کو صرف اس لیے مارنے کا حق رکھتا ہے کیونکہ جج صاحب اس کے کلائنٹ کی ضمانت نہیں لے رہے؟ اس پورے واقعہ میں ہم کو جج صاحب کی طرف سے کوئی مزحمت نظر نہیں آئی -ایسا پاکستان میں پہلی بار نہیں ہوا پاکستان کی تاریخ میں ایسے واقعات کی بھرمار ہے اور یہ ہوتے ہی رہیں گے جب تک ہم یہ ثابت نہیں کر پائیں گے کہ قانون دان کی نسبت قانون  بڑا ہے ۔وکلاء حضرات اپنے اتفاق اور یونین کا ہمیشہ سے فائدہ اٹھاتے آتے ہیں کیونکہ آج تک کسی بھی جج نے ان کے خلاف یا ان کے نارواء سلوک کے خلاف احتجاج نہیں کیا  ۔ کرتے بھی کیسے جج صاحبان کو ایسا کوئی پلیٹ فارم نہیں جہان وہ اپنا احتجاج ہی ریکارڈ کروا سکیں ۔
آپ اندازہ کریں جج غیر جانبدار ہوتا ہے دونوں فریقین کو سننے کے بعد فیصلہ وہ اپنے علم اور قانون کے مطابق کرتا ہے اگر ایک عام سے کیس میں بھی جج کو انڈر پریشر کیا جاتا ہے اس سے بحث بد تمیزی کی جاتی ہے مار کر لہولہان کر دیا جاتا ہے اور باہر آکر میڈیا کے سامنے کہا جاتا ہے وہ کرپٹ جج ہے تو بتائیں  ججز کیسےتمام کیسوں کی پیروی کرتے کرتے گھبراتے ہونگے ۔
آج کل پاکستان کی سب سے بڑی عدالت میں سب سے اہم کیس زیر سماعت ہے جی ہاں پانامہ کیس ۔۔۔پوری دنیا کی نظریں اس کیس پر لگی ہیں اور یہ کیس حکومت وقت یا حکومتی خاندان کے خلاف ہے اب میں آپ سے سوال کرتا ہوں ہم سب چاہتے ہیں فیصلہ میرٹ پر ہو ۔قانون کے مطابق ہو ۔ جج کو کسی بھی قسم کس پریشر برداشت نہیں کرنا چاہئے ۔مان لیا ہم سب کا تقاضا جائز ہے مگر جس ملک میں ایک عام کیس میں ایک جج کو مارا جاتا ہے لہولہان کر دیا جاتا ہے اور فیصلہ اپنے خلاف آجاے تو اس کو کرپٹ اور بکاو بنا دیا جاتا ہے اس ملک میں سب سے اہم کیس پر ،وہ بھی حکمرانوں کے خلاف فیصلہ آنے پر ان کے وکلاء ان کی پارٹی ان کے جیالوں کا کیا ردعمل ہو سکتا ہے ۔آپ خود بتائیں کیا ان  جج صاحبان کو زندہ رہنے دیا جاے گا کیا ان کے خلاف اعلان جنگ نہیں ہو سکتا کیا ان کے کچھ تحفظات نہیں ہونگے یقیناً ان جج صاحبان کو ان سب باتوں کا اندازہ ہے کہ ہمارے ملک میں حملہ کورٹ پر بھی کروایا جاتا ہے وہ عام جج ہو یا سپریم کورٹ آج تک ایسا کوئی ادارہ نہیں بنا جو جج صاحبان کے تحفظات دور کر سکے ۔ان کے اوپر وکلاء کا پریشر ہمیشہ سے رہا ہے اور رہے گا جب تک ہم یہ بات ثابت نہیں کرتے کہ ہم کو
انصاف چاہیے یا اپنے من پسند فیصلے ۔.....
ہم کو قانون کی بالادستی چاہیے یا اپنی جیت ..
قانون دان ہی قانون شکنی کریں گے تو انصاف مشکل ہو جاے گا ۔ہم جن لوگوں سے انصاف کی توقع رکھتے ہیں کیا کبھی ان کو انصاف ملا ۔جب ہم کو انصاف دینے والے مجبور ہونگے کہ وہ زبان بند رکھیں فیصلہ بھی انجام کو دیکھ کر ہی کریں کیونکہ  نوکری بھی جا سکتی ہے تو آپ خود بتائیں انصاف کون کر سکتا ہے ؟ اگر ہم پانامہ کیس کا ٹھیک فیصلہ چاہتے ہیں اور چاہتے ہیں ہمارے ملک میں قانون کی بالادستی ہو تو سب پہلے ہمارے سسٹم کی خامیوں کو دور کریں ججز کو تحفظ فراہم کریں ۔عدالت سے بدمعاشی کلچر کو ختم کریں پھر شاید فیصلہ عوام  کی امنگوں کےمطابق آے ورنہ انصاف کرنے والے ایسے لہولہان ہوکر ہم کو انصاف فراہم نہیں کر سکیں گے کیونکہ انصاف کرنے والوں کو تو خود انصاف نہیں مل رہا ہم پانامہ کا رونا روتے رہیں گے ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *