Site icon DUNYA PAKISTAN

ختنے کا آپ کی جنسی طاقت سے کیا تعلق ہے اور یہ ایچ آئی وی کے خلاف مدافعت فراہم کرتی ہے؟

Share

یہ ایک ایسی سرجری ہے جو گذشتہ ہزاروں برسوں سے چلی آ رہی ہے۔

مؤرخین کا خیال ہے کہ ختنہ کرنے کا رواج 15 ہزار پہلے بھی مصر کے معاشرے میں موجود تھا اور یہ دنیا میں آج بھی جاری ہے۔

دنیا بھر میں تقریباً ہر تین مردوں میں سے ایک مرد کا ختنے کیے جاتے ہیں۔

ان ختنہ شدہ مردوں کی سب سے بڑی تعداد مسلمانوں کی ہے کیونکہ مذہب اسلام میں نوزائیدہ بچوں میں پیدائش کے وقت یا کچھ عرصے بعد ختنہ کرنا ضروری ہے۔ اس طرح یہودی مذہب کے پیروکار بھی بچوں کے ختنہ لازمی کرواتے ہیں۔

اس دونوں مذاہب کے ماننے والوں کے علاوہ دوسرے نمبر پر امریکہ میں پیدا ہونے والے مرد ہیں۔ سنہ 2016 کے اعداد و شمار کے مطابق امریکہ میں پیدا ہونے والوں میں ختنے کروانے کی شرح 80.5 فیصد ہے یعنی صرف لگ بھگ 15 فیصد لڑکوں کے ختنہ نہیں کروائے جاتے۔ امریکہ میں بچوں میں ختنہ کروانے کی شرح اس لیے بھی زیادہ ہے کیونکہ اس ملک میں ختنہ کو گذشتہ کئی دہائیوں سے ’فائدہ مند طبی عمل‘ قرار دیا جاتا ہے۔

دنیا بھر میں زیادہ تر ختنے لڑکے کی پیدائش کے فوراً بعد ہی کر دیے جاتے ہیں۔ تاہم ختنہ نہ کروانے سے پیدا ہونے والی طبی پیچیدگیوں کے باعث بعض اوقات یہ بڑی عمر میں بھی کیے جاتے ہیں۔

مگر سائنس ختنہ کے بارے میں کیا کہتی ہے۔

عضو تناسل پر موجود جھلی کا بیالوجیکل کام کیا ہے اور جب اسے کاٹا جاتا ہے تو کیا ہوتا ہے؟

،تصویر کا کیپشنروایتی طریقے سے ختنہ کا عمل سکیلپل (جراحی میں انسانی جسم پر کٹ لگانے والا آلہ جس کے آخر میں بلیڈ لگا ہوتا ہے) کی مدد سے کیا جاتا ہے

عضوِ تناسل کے آخری حصے سے باریک جھلی کو اتار دینے کی روایت کو ختنہ کہا جاتا ہے اور اس کی شروعات مذاہب سے بھی پہلے ہوئی تھی۔

یہ باریک جھلی عضو تناسل کی نرم جلد کا وہ حصہ ہے جو اس عضو کے اختتامی حصے پر ہوتی ہے۔ عضو تناسل پر موجود باقی جلد اس عضو سے مضبوطی سے جڑی ہوئی ہوتی ہے۔

اس نرم جلد کی اندرونی سطح چکنی ہوتی ہے بلکہ ویسے ہی جیسے ہمارے منھ کے اندر کی جلد یا خواتین میں اندام نہانی کی اندرونی جلد۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے امریکن کنفیڈریشن آف یورولوجی سے تعلق رکھنے والی یورولوجسٹ اینا ماریا اوٹران بتاتی ہیں کہ ’اس نرم جلد کا بنیادی کام عضو تناسل کے اختتامی حصے کو ڈھانپنا یعنی کوور فراہم کرنا ہے۔‘

ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ اس جلد کا کچھ مدافعتی فعل بھی ہو سکتا ہے کیونکہ عضوتناسل کا آخری حصہ انتہائی حساس ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ختنہ ہونے کے بعد کے ابتدائی دنوں میں اس حصے پر ہوا یا لباس کا لمس محسوس ہونے سے بھی تکلیف محسوس ہوتی ہے۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ یہ جگہ کسی حد تک سخت ہو جاتی ہے اور زیادہ تر حساسیت کھو دیتی ہے۔

ختنہ (سرجری) عام طور پر دو طریقوں سے کی جاتی ہے: روایتی طریقے سے یعنی نرم جلد کو سکیلپل (جراحی میں انسانی جسم پر کٹ لگانے والا آلہ جس کے آخر میں بلیڈ لگا ہوتا ہے) کی مدد سے کاٹنا، یا سٹیپل گن کے ذریعے۔بڑی عمر کے لڑکوں یا مردوں میں ختنہ کے عمل سے پہلے لوکل اینستھیزیا بھی استعمال کیا جاتا ہے تاکہ زیادہ تکلیف کا احساس نہ ہو۔

ختنہ کب کیا جائے؟

مذہبی وجوہات کو ایک طرف چھوڑ کر فقط صحت کے حوالے سے بات کی جائے تو اس سوال کے بہت سے جواب ہیں۔

ایک طرف امریکہ میں اکثریتی ڈاکٹروں کا موقف ہے کہ بچے کی پیدائش کے فوراً بعد ہی اس کے ختنہ کرنا زیادہ بہتر ہے۔ امریکن اکیڈمی آف پیڈیاٹرکس کے مطابق ’نوزائیدہ لڑکوں کے ختنے کرنے میں صحت کے فوائد اس سے منسلک خطرات سے کہیں زیادہ ہیں۔‘

امریکن اکیڈمی آف پیڈیاٹرکس کے مطابق ختنے کرنا پیشاب کی نالی کے انفیکشن، عضو تناسل کے کینسر اور ایڈز سمیت جنسی طور پر منتقل ہونے والی بعض بیماریوں کے پھیلاؤ کی روک تھام میں مدد کرتا ہے۔

ان کے مطابق ’نوزائیدہ بچوں کے ختنے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی طبی پیچیدگیاں بڑی عمر میں کی جانے والی پیچیدگیوں کے مقابلے میں کافی کم ہوتی ہیں۔‘

ختنے کے لیے عمر کے تعین کے بار ے میں اس تنظیم کی حتمی رائے یہ ہے کہ ’یہ ایک ایسا فیصلہ ہے جو والدین ڈاکٹر کے مشورے اور رہنمائی کی مدد سے کرنا ہوتا ہے۔‘

رائل ڈچ میڈیکل ایسوسی ایشن کی رائے اس کے برعکس ہے جس کا کہنا ہے کہ نوزائیدہ لڑکوں کے ختنہ نہیں کیے جانے چاہیں کیونکہ ’اس بات کا کوئی بڑا ثبوت نہیں ہے کہ نوزائیدہ بچوں کے ختنہ کرنا حفظان صحت کے لحاظ سے مفید یا ضروری ہے ماسوائے ان حالات میں جہاں یہ طبی وجوہات کی بنا پر ضروری ہو۔‘

اس تنظیم کا کہنا ہے کہ ’بڑے پیمانے پر قابل قبول رائے کے برعکس ختنے میں طبی اور نفسیاتی پیچیدگیوں کا خطرہ ہوتا ہے۔ سب سے عام پیچیدگیوں میں خون بہنا، انفیکشن، میٹل سٹیناسس (پیشاب کی نالی کا تنگ ہونا) اور پینک اٹیکس کا ہونا ہے۔‘

کیا اس کا جنسی زندگی اور حساسیت پر کوئی اثر پڑتا ہے؟

امریکن اکیڈمی آف پیڈیاٹرکس سے منسلک آئن شاپیرو کا کہنا ہے کہ اس سوال کا جواب بہت مشکل ہے کیونکہ اعداد و شمار کے لحاظ سے ایسے مردوں کے بہت کم کیسز ہیں جو ختنے سے پہلے اور بعد میں اپنی جنسی سرگرمیوں کا موازنہ کر سکتے ہیں اور اس حوالے سے کوئی حتمی سٹڈی موجود نہیں ہے۔

کچھ افراد، جن کی چھوٹی عمر میں ختنہ نہیں ہوئی ہوتی، بڑی عمر میں کاسمیٹک وجوہات کی بنا پر ختنہ کروانے کے لیے کلینک یا ہسپتال جاتے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ان کا عضو تناسل حفاظتی جلد کے بغیر زیادہ خوبصورت نظر آئے گا۔

تاہم اس سے متعلق چند مفروضے ہیں اور وہ یہ کہ ختنہ کروانے کے بعد عضو تناسل نہ تو اپنے اصل سائز سے زیادہ بڑا یا لمبا نظر آتا ہے اور نہ ہی ختنہ کروانے سے جنسی قوت بڑھتی ہے اور انزال میں بھی کوئی فرق نہیں پڑتا۔

کیا یہ ایچ آئی وی اور دیگر جنسی طور پر منتقل ہونے والی بیماریوں کو روکنے میں مدد کرتا ہے؟

ختنہ کے حوالے سے بعض ڈاکٹروں کا بھی یہ خیال ہے کہ یہ مرد میں جنسی طور پر منتقل ہونے والی بیماریوں اور ایچ آئی وی کی روک تھام میں مدد کرتا ہے۔

مشرقی اور جنوبی افریقہ کے ممالک میں ایچ آئی وی (ایڈز) کی شرح کافی زیادہ ہے۔ اور اسی لیے ایڈز کی روک تھام کے لیے اقوام متحدہ کی جانب سے ان ممالک میں چلائی جانے والے پروگرام میں مردوں کے ختنہ کروانے کی ضرورت پر زور دیا جاتا ہے تاکہ اس بیماری سے بچا جا سکے۔

اگر اعداد و شمار پر نظر ڈالی جائے تو وہ علاقے جہاں اقوام متحدہ کی مہم کے نتیجے میں مردوں میں ختنے کی شرح بڑھی وہاں ایچ آئی وی انفیکشن کی شرح میں کمی آئی ہے۔

یورپی ممالک کی میڈیکل ایسوسی ایشن کے مطابق ’ختنہ اور ایچ آئی وی کی منتقلی کے درمیان تعلق کہنے کی حد تک غیر واضح ہے۔‘ اس ادارے کے مطابق امریکہ میں جنسی طور پر منتقل ہونے والی بیماریوں میں کمی کو ختنہ سے جوڑا جاتا ہے کیونکہ امریکہ کی 85 فیصد سے زائد مرد آبادی کے ختنے ہیں۔ مگر نیدر لینڈ میں صورتحال اس کے بالکل برعکس ہے جہاں ان بیماریوں کا پھیلاؤ تو کم ہے مگر یہاں مردوں کی زیادہ آبادی کے ختنے نہیں ہیں۔

Exit mobile version