"را" کے نیٹ ورک کی پاکستان میں گھناؤنی سازش کا انکشاف

Image result for Raw in Pakistan

لاہور -انڈیا نے تقسیم ہند کے دن سے ہی پاکستان کے وجود کو تسلیم نہیں کیا اور ہندو بنیا تاحال اکھنڈ بھارت کے منصوبے بنا رہا ہے۔ انہی منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کیلئے بھارت کی جانب سے پاکستان کے مختلف شہروں میں دہشتگردی کی وارداتیں کرائی جا رہی ہیں جن کے ثبوت بارہا اقوام متحدہ کے حوالے کیے جا چکے ہیں اس کے علاوہ بھارتی خفیہ ایجنسی ’ را‘ بلوچستان کو پاکستان سے علیحدہ کرنے کیلئے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے اور کلبھوشن یادیو جیسے افسران کے ذریعے صوبے میں بے امنی پھیلائی جا رہی ہے۔ کلبھوشن یادیو کے پکڑے جانے کے بعد ’را‘ نے اب سوشل میڈیا پر محاذ گرم کر رکھا ہے جس کے ذریعے پاکستان کو دنیا بھر میں بدنام کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پاکستان میں گئی گھنٹوں سے (#WhenRAWwritesUrdu) کے نام سے ہیش ٹیگ چل رہا ہے جس میں پاکستانی سوشل میڈیا صارفین انڈیا کے گھناﺅنے ہتھکنڈے بے نقاب کرنے میں مصروف ہیں۔ اس ہیش ٹیگ کے ذریعے اگر مختلف ٹوئٹر اکاﺅنٹس کا جائزہ لیا جائے تو پاکستانی اپنے سر پکڑ کر بیٹھ جائیں گے کیونکہ تحقیق کرنے پر معلوم ہوا ہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ مبینہ طور پر مسلمانوں کے نام سے مختلف ٹوئٹر اکاﺅنٹس چلا رہی ہے جن کا مقصد دنیا بھر میں پاکستان کو بدنام کرنا ہے لیکن بھلا ہوپاکستانی سوشل میڈیا بریگیڈ کا جنہوں نے بروقت ’را‘ کی اس سازش کو بے نقاب کردیا اور ’را‘ کے کارندے اپنی چھوٹی سی غلطی کی وجہ سے پکڑے گئے۔
بہت سے لوگوں کو یاد ہوگا کہ پٹھان کوٹ پر جب حملہ ہوا تھا تو انڈیا کی جانب سے ایک آڈیو جاری کی گئی تھی جس میں مبینہ حملہ آور کو اپنی ماں کے ساتھ بات کرتے ہوئے سنایا گیا تھا۔ یہ آڈیو سامنے آنے پر انڈیا نے بھرپور واویلا کیا لیکن اسے جلد ہی منہ کی کھانا پڑی کیونکہ اس آڈیو سے صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ یہ پاکستانی نہیں بلکہ ہندوستانی اردو زبان میں ریکارڈ کی گئی ہے اسی طرح ٹوئٹر پر بھی ’ را‘ کے ایجنٹ کرنا تو پاکستان کو بدنام چاہتے تھے لیکن اپنی ہندی نما اردوکی وجہ سے پکڑے گئے اور پوری دنیا کے سامنے منہ دکھانے کے قابل ہی نہ رہے۔
ذیل میں ہم کچھ ایسے ہی ’ را‘ کے مبینہ ایجنٹوں کی ٹویٹس پیش کر رہے ہیں جن میں آپ کو واضح طور پر اردو لکھنے میں بنیادی غلطیوں اور ہندوستانی سازش کا پتا چل جائے گا۔

عباس علی کے نام سے مبینہ طور پر ’ را‘ کے ایجنٹ کی جانب سے اردو میں کیے جانے والے ٹویٹس دیکھ کر قارئین کو اندازہ ہوجائے گا کہ اس شخص کا تو اردو سے دور تک کا بھی واسطہ نہیں ہے اور موصوف نے گوگل ٹرانسلیٹ کے ذریعے مختلف جملوں کا ترجمہ کرکے انہیں پوسٹ کردیا ہے۔

اس اکاؤنٹ سے تو تمام حدیں ہی پار کردی گئیں اور یہ پراپیگنڈا کیا گیا کہ بلوچستان میں پاک فوج کی جانب سے بڑا آپریشن کیا جا رہا ہے جس میں خواتین اور بچوں سمیت عام شہریوں کو اغوا کرکے قتل کیا جا رہا ہے۔ قارئین خود سوچیں اور اپنے ذہن پر زور دیں تو انہیں اندازہ ہو جائے گا کہ بلوچستان میں تو کوئی آپریشن ہی نہیں ہورہا۔

اگر ان موصوف کے ٹویٹ کو اردو میں لکھا جائے تو کچھ یوں ہوگا’’ اپنے مجہب کے مطابک یہ سب لکھنا ٹھیک نہیں‘‘ قارئین موصوف کے ’’مذہب‘‘  پر خود ہی بہتر غور کر سکتے ہیں۔

اس ٹویٹ میں بھی دیکھا جاسکتا ہے کہ پاکستان کو فطری دہشتگرد قرار دیا جا رہا ہے ، اگر غور کیا جائے تو پوری دنیا میں صرف بھارت ہی ہے جو پاکستان کو دہشتگرد ملک قرار دلوانے کیلئے تگ و دو کر رہا ہے :-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *