ایک ٹرائل

زیبا ٹی ہاشمیzeba's poetry

اگر میں خدا ہوتی،

 میں سب سے پہلے اپنا امتحان لیتی،

اپنے دل کے نہ دھڑکنے کی وجہ پوچھتی،

 اپنی روح کی تکلیف کے بارے میں سوال کرتی جو انسانوں کی تکلیف کو دیکھ کر میں محسوس کرتی ،

انصاف کا مطالبہ کرتی،

 میں اپنے بندوں پر انتقام ڈھانے کا فیصلہ واپس لیتی جو میں ان کے خلاف میری نافرمانی کے نتیجہ میں  فیصلہ کیے بغیر کسی صورت تحریر نہ کر پاتی ۔

لیکن میں انہیں مشکلات میں ڈالنے کے باوجود شکر کا حکم دیتی  اور پھر انہیں جہنم میں ڈالتی ہوں۔

 بجائے اس کے میں انہیں دوسروں کو خاموش کرنے کے لیے بھیج دیتی،

باوجود اس کے کہ مجھے سب کچھ معلوم ہوتا، کیونکہ میں خدا ہوتی،

کسی کی نہ سنتی،

 تم سب کو دعائیں مانگنے کا کہتی اور بتاتی کو مردوں کو زندہ کرنے کی دعا کے علاوہ جو چاہے مانگ لو،

 میں اپنے لیے معافی مانگتی لیکن ایسا نہ کرسکتی، کیونکہ میرے اندر ضمیر تو موجود ہی نہ ہوتا،
کیونکہ میں تمہاری ضرورت کے پیش نظر وجود رکھتی،

لیکن اسے خوف اور مذہب کی دلیل مانا گیا، فروٹ ، زمین اور محبت کو ناقابل قبول ٹھہرا دیا گیا،

 لیکن مجھے ایسا کرنے پر کس نے مجبور کیا؟  

اگربات عزم  کی ہوتی، تو میں شاید مر گئی ہوتی،

 ایک بے کار پودے کی مانند ہوتی، جو مٹی میں بیج بو کر اگایا جاتا ہے۔

 تم لوگ میرے لیے اپنا خون بہاتے ہو  اس لیے میں اگر موجود ہوتی تو بھی اپنی عدالت میں تمہیں گناہ گار نہ ٹھہراتی،

 چاہے میں ایک غیر متنازعہ خدا کی حیثیت سے تمہارے دماغ میں سرایت ہوتی، 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *