جہاز میں موجود مغرور لوگ

رافعہ زکریا

rafia

میں ایک ایسے شخص کو جانتی ہوں جو اکثر بر صغیر سے امریکہ کا سفر کرتا ہے۔ جب بھی وہ سفر کرتا ہے وہ فیس بک کے ذریعے لوگوں کو بتاتا ہے کہ وہ فرسٹ کلاس میں سفر کر رہا ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ وہ لوگوں کو ڈھکے چھپے انداز میں یہ بھی دکھاتا ہے کہ وہ ٹرمینل میں بھی فرسٹ کلاس لاونج میں بیٹھا ہوتا ہے۔ پچھلے ایک یا دو سال سے اس کے بچے بھی اسی طرح کا فخریہ رویہ دکھا رہے ہیں۔ جیسا کہ آپ نے سنا ہو گا کہ سیب کا پھل درخت سے زیادہ دور نہیں گرتا، اس مغرور والد کی خصوصیات بھی اب اس کی نسل تک منتقل ہو چکی ہیں۔ اس طرح کا فخر اور تعصب پر مبنی رویہ کوئی نئی یا خاص چیز نہیں ہے۔ بہت سے جنوبی ایشیائی افراد کو یہ بیماری لاحق ہے۔ ہر روز آپ کو فیس بک اور ٹویٹر پر چیک ان کی تفصیلات نظر آتی ہیں۔ اس سے بھی زیادہ پریشان کن وہ لوگ ہوتے ہیں جو فرسٹ کلاس کی سروس کے خلاف شکایت کرتے ہوئے بھی اکانومی کلاس کے لوگوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کر کے اپنی دھونس جمانے کی کوشش کرتے ہیں۔

آخر ایک دن ایسا ہوا کہ کسی اجنبی نے اسی فورم پر اسے عوام کے سامنے لا کھڑا کیا۔ لوگوں کی طرف سے اس کا مذاق اڑائے جانے کا واقعہ اور ان کی ہنسی کا شور دور دور تک پھیل گیا۔ اگرچہ فیس بک اور دوسرے سوشل میڈیا ٹولز مغربی تہذیب کی پیداوار ہیں لیکن فرسٹ کلاس سفر کرتے ہوئے جنوبی ایشیا کے لوگ اس ٹول کا اپنے غرور و تکبر کے اظہار کے لیے بھر پور استعمال کرتے ہیں۔ یہ بات حیران کن نہیں ہے۔ ابھی کچھ صدیاں قبل سے لیکر آج تک یہ دیکھا گیا ہے کہ بچے اپنے والدین کی خوبیاں بدرجہ اتم اپنانے کی سعی کرتے ہیں چاہے وہ اچھی خوبیاں نہ بھی ہوں۔

اس پرانے سسٹم کی درجہ بندی جس میں اعلٰی اور ادنی، بہترین اور معمولی جیسے فرق نے آج کے لوگوں میں بھی اپنا ایک گہرا اثر چھوڑا ہے۔ اس کی سب سے بہترین اور واضح مثال جہاز میں سفر کرنے والوں کی ہے ۔ جو لوگ فرسٹ کلاس میں بیٹھے سفر کرتے ہیں وہ یہ محسوس کر رہے ہوتے ہیں کہ شاید وہ سیکنڈ کلاس میں بیٹھے لوگوں سے بہتر زندگی گزار رہے ہیں اور ان سے ہر لحاظ سے برتر ہیں۔ اس حقیقت کا اندازہ اس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ فرسٹ کلاس میں بیٹھ کر اکڑنے اور فرسٹ کلاس کی سہولیات کے متعلق شکایت کرنے کی عادت مغربی شہریوں کی طرف سے دیکھنے کو نہیں ملتی۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ مغرب میں امیر اور وی آئی پی لوگ موجود نہیں ہوتے بلکہ اس کا یہ مطلب ہے کہ وہ ایسی منازل حاصل کرنے پر فخر نہیں کرتے ۔

اس کے بر عکس جنوبی ایشیا کے امرا اور وی آئی پی کا رویہ ہمیشہ بہت زیادہ تعصب اور غرور سے بھر پور ہوتا ہے۔ یہ صرف درجہ بندی اور ذات پات کی وجہ سے ہی نہیں ہے کہ ساوتھ ایشیا کے لوگ فرسٹ کلاس سٹیٹس پر اتنے فخر کا اظہار کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ہوا میں سفر کرنا حرکت کرنے جیسا ہے اور حرکت کرنے کا مطلب حدودکو پار کرنا ہے، وہی حدود جو انسان کو ایک ایریا تک محدود کرتی ہیں۔ پاکستان میں جتنے بھی امرا ہیں چاہے انہوں نے اپنے والدین نے وراثت میں دولت حاصل کر رکھی ہو یا ملکی دولت پر ہاتھ صاف کیے ہوں اپنے آپ کو لائن میں کھڑے اور انتظار گاہوں میں بیٹھے لوگوں سے افضل سمجھتے ہیں اور ان کا رویہ بہت بُرا ہوتا ہے۔ وہ لائن میں کھڑا ہونا یا انتظار کرنا بلکل پسند نہیں کرتے۔

فرسٹ کلاس سیٹ پر بیٹھتے وقت بھی وہ پاس سے گزرتے عام لوگوں پر حقارت کی نظر ڈالتے ہوئے اپنے رویہ سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ تمام ایسے قوانین جو عام آدمی کو حرکت سے روکتے ہیں ان امرا کے لیے بالکل کارگر نہیں ہیں۔ امیر لوگوں کے پاس وہ لوگ بیٹھے ہوتے ہیں جو دنیا بھر میں نوکریاں کرنے یا ملٹی نیشنل کارپوریشنز کی وجہ سے فرسٹ کلاس تک پہنچے ہیں۔ اس طرح کے لوگ زیادہ پریشان کن ثابت ہو سکتے ہیں ۔ صرف ایک قدرے بڑی سیٹ پر بیٹھنا، ایک تھوڑا مہنگا کھانا کھا لینا، زیادہ جوس لے لینا ان کو یہ احساس دلاتا ہے کہ انہوں نے دنیا جیت لی ہے۔

میں نے کبھی فرسٹ کلاس میں سفر نہیں کیا۔ لیکن جن لوگوں نے سفر کیا ہے ان کو لگتا ہے کہ اکانومی کلاس میں بیٹھے لوگ ان سے جیلس ہو رہے ہوں گے اور زیادہ جوس اور کمبل کے خواہش مند ہوں گے۔ مجھے اس سے کوئی پریشانی نہیں ہوتی۔ جتنی ساوتھ ایشیا میں فرسٹ کلاس کی اہمیت ہے دوسری طرف اتنی ہی اس سے نفرت ہے جو مساوات، فضول خرچی اور ضیاع سے باز ہنے والے لوگ محسوس کرتے ہیں۔ جب ہم کسی شخص کی کیفیت کا اندازہ اس کے گھر کے سائز، اس کی کار، اس کے نوکروں کی تعداد یا فرسٹ کلاس اور اکانومی کلاس میں سفر کی عادت کو دیکھتے ہوئے کرتے ہیں تو اس کا نتیجہ اخلاقی زوال کی صورت میں نکلتا ہے۔

بہت سے لوگوں کے لیے فیس بک اور سوشل میڈیا اپنے غرور و تکبر کے اظہار کا فورم ہے تا کہ جب وہ فرسٹ کلاس ائیر پورٹ لاونج اور فرسٹ کلاس سیٹ پر بیٹھیں تو اپنے تکبر کو عوام کے سامنے دکھا سکیں لیکن انہیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ان کے آس پاس کے لوگوں کو لازمی نہیں کہ یہ بات اچھی لگتی ہو۔ فرسٹ کلاس میں سفر کرنا کسی طرح بھی انہیں برتر ثابت نہیں کرتا بلکہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ لوگ کس قدر عدم تحفظ کا شکار ہیں اور اپنی اہلیت ثابت کرنے کے لیے وہ ایک ائیر لائن کی سیٹ کا سہارا ڈھونڈ رہے ہیں۔ جو دوسرے لوگ اسی جہاز میں مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے سفر کر رہے ہیں وہ بھی یہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ وہ وہیں جائیں گے جہاں یہ متکبر لوگ پہنچیں گئے اور وقت بھی اتنا ہی لگے گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *