اوباما کے جان لیوا مخبر: پاکستان میں ڈرون کے جاسوس!(تیسری قسط)

عمر فاروق، سید فخر کاکاخیل

واپس وانا میں، نور نے مسٹر خٹک کیلئے مفتی والے علاقے کا نقشہ بنایااور فروری میں، ایک ڈرون حملے میں مفتی اور ازبک جنگجوؤں کی ایک نامعلوم تعداد ماری گئی۔
یہ کئی ڈرون حملوں میں سے پہلا تھا جو ایک مفید سائیڈ پروجیکٹ ثابت ہوا۔ اس کی مدد سے نور نے تقریباً 350ڈالر فی ٹارگٹ حاصل کئے۔لیکن پھر معاملات جنوب کی جانب بڑھنے لگے۔القاعدہ کو پیچھے دھکیلا جانے لگا۔
جیسا کہ امریکی ڈرون پروگرام میں 2009ء میں اچانک اضافہ ہوا، القاعدہ نے قابل اعتبار جہادیوں کا ایک ایلیٹ گروپ بنایا، ان کو اپنے علاقے میں کام کرنے والے ان انٹیلی جنس ہلکاروں کو تلاش اور ہلاک کرنے کا کام سونپا گیا، جو بالواسط یا بلا واسطہ طور پرامریکہ کیلئے کام کرتے تھے ۔ تقریباً 250مسلح جنگجوؤں کا ایک گروپ، جس کا نام اتحاد مجاہدینِ خراسان تھا اور ان میں سے زیادہ ترپاکستانی نہیں غیر ملکی تھے، بہت تیزی سے شمالی وزیرستان کا سب سے خطرناک گروہ بن گئے۔چند ہی سالوں میں، انہوں نے 300 سے زائد مشکوک جاسوسوں کو ہلاک کر دیا۔وہ انہیں نہایت دیدہ دلیری سے دن کی روشنی میں اغواء کرتے، اور پھر ان کی لاشوں کی تدفین کے بعد، ان کے خلاف مفصل ثبوتوں پر مبنی ویڈیو ریلیز کر دیتے۔ خراسان کا لوگو،خون بہاتے سر کے نچلے حصے میں کھبا ایک چاقو ہے۔ اس گروہ کے ارکان کے پاس ٹنٹڈ کھڑکیوں والی منفرد سفید سیڈان گاڑیوں کا ایک بیڑا ہوتا۔ان کے گروہ کا نام گاڑیوں کے پچھلے شیشوں پر کندہ ہوتا۔
(حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایران، افغانستان اور پاکستان کے علاقے کو خراسان یا خُراسان کا نام دیا جاتا تھا۔ اس گروہ سے تعلق رکھنے والے جنگجو سیاہ جھنڈے اٹھائے رکھا کرتے تھے جس کے ساتھ انہوں نے یہ فرضی بات منسوب کر رکھی تھی کہ وہ سب کچھ فتح کرلینے والے جہاد کے سپاہی بن چکے ہیں۔یہی نام شام میں لڑنے والے القاعدہ جنگجوؤں کے ایک گروہ نے بھی منتخب کر رکھا ہے۔ ان میں سے کچھ، بہت ممکن ہے کہ پہلے پاکستان اور افغانستان میں لڑتے رہے ہوں۔)
جب، رواں برس کے شروع میں شمالی وزیرستان میں، فوج اور جنگجوؤں کے مابین تصادم بڑھا تو اس علاقے سے تعلق رکھنے والے ہزاروں طلباء اپنی پڑھائی جاری رکھنے اور اسکولوں میں داخلے لینے کیلئے پشاور چلے گئے۔یہاں یہ طلباء اپنے ساتھ وہ ویڈیوز بھی لے آئے، جن سے یہ پتہ چلتا تھا کہ شمالی وزیرستان میں زندگی کس طرح کی تھی۔ان ویڈیوزمیں ایک نہایت قابل ذکر ویڈیو بھی موجود تھی جو یہ بتاتی تھی کہ خُراسان گروہ نے ان 6مخبروں کو کس طرح قتل کیا تھا، جن میں سے کچھ ایک طویل عرصہ تک پاکستانی فوج، افغان انٹیلی جینس اور امریکی ڈرون پروگرام کیلئے کام کرتے رہے تھے۔ (جاری ہے)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *