ڈرامہ سانپ سیڑھی میں LUMS کی تشہیر یا بدنامی ؟

45

ڈرامہ کی پروموشن کے دوران جو سلو موشن میوزک اور لمحات دکھائے گے وہ ڈرامے کی پہلی قسط میں بلکل برعکس نظر آئے۔ عمیرہ احمد کی زیر نگرانی یاسر شاہ کی طرف سے لکھا گیا اورمصباح خالد کی ہداتیکاری کے تحت بنایا گیا ڈرامہ سانپ سیڑھی توقعات سے کہیں زیادہ مختلف نظر آیا۔  پہلی قسط دیکھنے کے بعد لگتا ہے کہ یہ ڈرامہ جاگیرداروں اور سیاستدانوں کی طرف سے طاقت کے غلط استعمال اور صحافت کے معیار سے متعلق بنایا گیا ہے۔ سیٹھ رئیس  کا کردار ساجد حسین نبھا رہے ہیں جنہوں نے انتہائی بہترین طریقے سے ایکٹنگ کرتے ہوئے ایک اچھا سیاستدان بن کر اپنے اتحادی میڈیا کو استعمال کرتے
ہوئے اپنے مد مقابل سیاستدانوں پر کیچڑ اچھالنے کا رویہ اپنا رکھا ہے۔ انوشے اشرف کا کردار جو امریکہ سے واپس آئے ایک صحافی کا کردار نبھا رہی ہیں اور جو ڈرامے میں ریسرچ ہیڈ کے طور پر دیکھی گئی ہیں  دوسرے لوگوں کی زندگی پر نظر ڈالنے کا ناظرین کو موقع فراہم کرتا ہے جن کا سیاست کے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ انوشے اس ڈرامہ میں اپنے باس کی اخلاقی گراوٹ پر سخت پریشانی کا سامنا کرتی ہیں۔ ایک اچھی سٹوری لائن کے علاوہ بیک گراونڈ تفصیلات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ پاکستانی ڈرامہ کی صف میں ایک تازگی لائے گا۔ یہ اچھی بات ہے کہ پاکستانی ڈرامہ نگاروں کو یہ معلوم پڑ گیا ہے کہ اعلی تعلیم کے لیے کالج نہیں بلکہ یونیورسٹی ہی اصل درسگاہ ہوتی ہے۔ اب ان ڈرامہ نگاروں کو یہ بھی معلوم ہے کہ بچوں کی تعلیم کی سطح کا اندازہ لگانے کے لیے سی جی پی اے بھی ایک بہترین چیز راستہ ہے۔ اب اس بات کی ضرورت نہیں رہی کہ لڑکیاں یہ کہیں: میں اپنی کلاس میں فرسٹ آئی ہوں۔ یا 'میں نے اپنے کالج میں ٹاپ کیا تھا'۔ مجھے یہ ڈرامہ اپنے سٹوری لائن اور امیجری کی وجہ سے پسند آیا۔ اگرچہ اس ڈرامہ کی پہلی قسط بہت دلچسپ لگی لیکن ذیل میں کچھ ایسی چیزیں بتائے دیتا ہوں جو ڈرامہ کے لیے مناسب نہیں تھیں۔  پہلی چیز سیٹھ رئیس کے خاندان کی منافقت ہے۔ پورا خاندان صوفیہ کو بیرون ملک یا لمز یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے سے روکنے پر تلا ہے۔ صوفیہ کے بھائی اور باپ دونوں عورتوں پر جارحانہ انداز رکھنے والے کردار ہیں۔ یہ بوسیدہ
خیالات کا معاملہ اس لیے یہاں فٹ نہیں بیٹھتا کیونکہ صوفیا کی ماں کو ایک ماڈرن زمانے کی پڑھی لکھی عورت دکھایا گیا ہے۔۲۔ دوسری چیز  یاسر مظہر کی طرف سے کیا گیا پلے بوائے کا کردار ہے۔ یاسر مظہرنے بہت سے مواقع پر اپنی بہترین اداکاری کے جوہر دکھائے ہیں۔ لیکن اس ڈرامے میں وہ بزنس مین اوربدکردار شخص  کے کردار میں زیادہ متاثر کن دکھائی نہیں دیتے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ بیرون ملک سے آئے پڑھے لکھے شخص کا کردار بھی صحیح طرح سے نہیں نبھا پا رہے۔  ۳۔ ایک ڈائیلاگ یہ ہے: یہ سیٹھ رئیس کی بیٹی ہے۔ یہ درست نہیں ہے۔ اگر یونیورسٹی میں آپ کے پاس سے جہانگیر ترین کا بیٹا گزرے تو کتنے لوگ اسے پہچان پائیں گے؟  ہم نے بالی وڈ فلموں میں ایسے بہت سے ڈائیلاگ دیکھے ہیں جیسے 'یہ سیٹھ نندی لال کی ناک چھڑی بیٹی ہے'۔ ہمارے ڈراموں کو اس روایت سے بچنا ہو گا۔ ۴۔ پروموشن یابدنام کرنے کی کوشش ۔ اگرچہ عام طور پر کسی پاکستانی یونیورسٹی کا اصلی نام استعمال کیا جائے تو اچھا لگتا ہے لیکن اس ڈرامے میں لمز کا نام محض یونیورسٹی کو بدنام کرنے کے لیے استعمال کیا گیا دکھائی دیتا ہے۔ تین لگا تار جملوں نے مجھے بہت حیران کیا ۔ 'سارے خوبصورت لڑکے تو لمز میں ہی ہوتے ہیں۔ چلیں مان لیں کہ یہ ٹھیک جملہ تھا۔ دوسرا جملہ تھا: تمہارے پاپا اتنے بڑے آدمی ہیں۔ لمز میں تمہارا ایڈمشن آسانی سے کروا سکتے ہیں۔ تو کیا یہ وجہ سے جس کی بنیاد پر مجھے ری جیکٹ کر دیا گیا؟ سب سے احمقانہ ڈائیلاگ یہ تھا: میرے بھائی کی آدھی گرل فرینڈز تو لمز کی ہی ہوتی ہیں۔  کیا آپ کو لگتا ہے کہ لڑکیاں اتنی محنت کر کے لمز یا دوسری بڑی یونیورسٹیوں میں بڑے اور امیر خاندان کے لڑکوں سے ملنے کے لیے داخلہ لیتی ہیں؟ مجھے تو ایسا نہیں لگتا۔ پبلسٹی کسی طرح سے بھی ہو اچھی ہوتی ہے لیکن اس ڈرامے کے یہ جملے زیادہ تر لوگوں کو کنفیوز کرتے دکھائی دیتے ہیں۔  البتہ جیسا بھی ہو، اپنی خوبیوں اور خامیوں کے ساتھ یہ ڈرامہ مختلف واقعات سے بھر پور نظر آتا ہے۔ یہ 'دوسری بیوی پہلی محبت' جیسے طریقہ سے مختلف ہے اور اس کی اپنی ایک خاص کہانی ہے  جو سامعین کے دل موہ لیتی ہے:۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *