دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے

faheem-akhter-uk

جمعہ20؍ جنوری کی شام دفتر سے فارغ ہو کر میں جب گھر کی طرف روانہ ہوا تو گھڑی پر نظر پڑتے ہی پریشان ہوگیا ۔ گھڑی میں پانچ بج چکے تھے اور بی بی سی ریڈیو پر حلف بردار ی کی خبریں واشنگٹن سے براہ راست نشر ہورہی تھی۔میں نے تیز رفتار ی سے گاڑی دوڑائی تا کہ میں بھی ٹیلی ویژن پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حلف برداری کو دیکھ سکوں۔ ویسے اس تقریب کو دیکھنے کے لئے میرے علاوہ لاکھوں لوگوں نے ٹیلی ویژن اور ریڈیو آن کر رکھا تھا۔ گھر پہنچ کر ٹیلی ویژن چلایا اور امریکہ کے متنازعہ اورمنتخب صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی حلف برداری کی تقریب کو مختصر طور پر دیکھا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریر کو سن کر ایسا لگا کہ امریکہ کو شاید آج آزادی ملی ہے اور وہ ملک میں ایک نئے باب کا آغاز کریں گے۔انہوں نے اپنے مخصوص انداز میں تقریر کرتے ہوئے امریکہ کی قسمت کو بدلنے کا عزم کیا ۔ انہوں نے اپنی تقریر میں بند کارخانوں، بڑھتے ہوئے جرائم اور تعلیمی نظام کی ناکامی کا ذکر کیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ اس بربادی اور تباہی کو ابھی یہیں اور اسی وقت ختم کرنا ہوگا۔لیکن ایک بات انہوں نے اور کہی جس سے ہمیں کافی صدمہ پہنچا۔ وہ یہ کہ’ دہشت گردی ‘کے بجائے انہوں نے ’اسلامی دہشت گردی‘ کہہ کر میرے ساتھ کروڑوں امن پسند مسلمانوں کو تکلیف پہنچائی۔
امریکہ کے پینتالیسویں صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے حلف لینے کے بعد فوراً اپنی کابینہ کے نامزدگیوں کو سینٹ کی منظوری کے لئے بھیجا۔ اس کے ساتھ ساتھ حب الوطنی کے قومی دن کا بھی اعلان کیا۔اس کے علاوہ انہوں نے بارک اوباما کے صحت قانون جسے’ اوباما کیر‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے اس کو تبدیل کرنے کا حکم دیا ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ کی ان باتوں سے لوگوں کو کوئی حیرانی نہیں ہوئی کیونکہ انہوں نے اپنے الیکشن مہم کے دوران اوباما کیر کو ختم یا مسترد کرنے کا وعدہ کیا تھا۔
وائٹ ہاؤس کی ویب سائٹ پر بھی فوراً بارک اوباما کے پالیسی کو ہٹادیا گیا اور اس کی جگہ ڈونلڈ ٹرمپ کے ایجنڈا کو شائع کر دیا گیا ہے۔فی الحال توانائی، خارجہ پالیسی،روزگار اور ترقی،ملٹری،قانون نافذ اور تجارتی سودے ویب سائٹ پر شائع کئے گئے ہیں۔تاہم ناقدین نے سول حقوق ، ہم جنس پرستوں کے حقوق ، صحت کی دیکھ بھال اور موسمیاتی تبدیلی کے متعلق کوئی بات نہیں کہنے پر حیرانی کا اظہار کیا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی افتتاحی تقریر میں وعدہ کیا ہے کہ’ وہ ان لوگوں کی آواز بنیں گے جنہیں بھلا دیا گیا ہے اور جنہیں واشنگٹن کے سیاستدانوں نے نظر انداز کر دیا ہے۔آج عام لوگ اس ملک کے ایک بار پھر حکمراں بن گئے ہیں۔میں اپنی آخری سانس تک عام لوگوں کے لئے لڑوں گا اور میں کبھی امریکی عوام کو نیچا نہیں دکھاؤں گا۔امریکہ پھر ایک بار جیت رہا ہے اور ایسا جیت رہا ہے جیسا پہلے کبھی نہیں جیتا تھا۔ ہم روزگار کو واپس لائیں گے، اپنی سرحدوں کو واپس لائیں گے، اپنی دولت کو واپس لائیں گے اور اپنے ان خوابوں کو واپس لائیں گے، جنہیں امریکیوں نے دیکھا ہے۔‘
ڈونلڈ ٹرمپ کی ان باتوں کو میں اب بھی بھول نہیں پایا ہوں جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر وہ صدر منتخب ہوئے تو وہ امریکہ اور میکسیکو کی سرحدوں پر دو ہزار میل سے بھی زیادہ لمبی دیوار کھڑا کر دیں گے۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے ا لیکشن مہم کے دوران یہ بات کہی تھی ۔ زیادہ تر لوگوں کو یہ بات مضحکہ خیز لگی تھی۔لیکن اب ممکن ہے ڈونلڈ ٹرمپ اپنی بات کو سچ ثابت کریں گے۔ ریپبلیکن پارٹی کے زیادہ تر ممبر ڈونلڈ ٹرمپ کی بات کی حمایت کر رہے ہیں۔
اس کے علاوہ ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی کہا تھا کہ شام کے پناہگزینوں کو شام واپس بھیج دیں گے۔ عارضی طور پر تمام مسلمانوں کے لئے امریکہ داخلہ پر پابندی لگا دیں گے۔تاہم بعد میں ڈونالڈ ٹرمپ نے مسلمانوں کو امریکہ آنے پر پابندی لگانے کے اشتہار کو اپنے ویب سائٹ سے ہٹادیا ہے اور اس کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے عراق کی جنگ پر تنقید کی ہے اور مشرق وسطٰی میں بھی امریکہ کی مداخلت کو غلط بتایا ہے۔انہوں نے روسی صدر ولادمیر پوٹین سے قربت بنانے کو خوش آئین بات کہا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے یہ بھی کہا امریکہ کی خارجہ پالیسی میں ہمیشہ امریکہ کی بھلائی کو ترجیح دینا ضروری سمجھنا چاہئے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے میکسیکو اور کینیڈا کے ساتھ(NAFTA-The North American Free Trade Agreement)
نافٹا تجارتی معاہدے پر ازسر نوبات چیت کا حکم جاری کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے امریکی صنعت کو کافی نقصان پہنچ رہا ہے اور امریکہ کے کارخانے بند ہو رہے ہیں۔ جس سے امریکہ کے لوگ بے روزگار ہورہے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ چین سے درآمد مال پر امریکہ اب بھاری ٹیکس لگائے گا۔ اس کے علاوہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ اب خواپنا مال تیار کرے گا تا کہ امریکہ کے لوگ بے روزگار نہ رہیں۔
جس وقت ڈونلڈ ٹرمپ حلف برداری لے رہے تھے اسی وقت واشنگٹن میں کافی لوگ ان کے خلاف مظاہرہ بھی کر رہے تھے۔ان لوگوں نے اپنے ہاتھوں میں بینر اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے ۔ان پر ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں نسل پرست اور امریکہ کی تباہی کا ذمہ دار ہونے جیسے نعرے لکھے ہوئے تھے۔بعد میں یہ مظاہرہ قابو سے باہر ہوگیا اور مظاہرین نے دکانوں کے شیشوں اور دروازوں کو نقصان پہنچایا۔ پولیس نے مظاہرین کو قابومیں لانے کے لئے ان پر لاٹھی چارج کیااور کئی مظاہرین کو گرفتار بھی کیا ہے۔
ہفتہ 21 ؍ جنوری کو واشنگٹن میں لگ بھگ دو لاکھ عورتوں نے ڈونالڈ ٹرمپ کے خلاف مظاہرہ کیا۔ اس موقع پر دنیا بھرمیں لوگوں نے مظاہرہ کئے۔ اس احتجاج کا مقصد عورتوں کے حقوق کو اجاگر کرنا ہے۔ ان عورتوں کا یہ بھی ماننا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی کابینہ سے عورتوں کے حقوق کو خطرہ ہے۔لندن میں بھی لگ بھگ اسّی ہزار عورتوں نے ایسا ہی مظاہرہ کیا۔ ان عورتوں نے واشنگٹن میں عورتوں کے ساتھ یکجہتی میں امریکی سفارتخانہ سے مارچ شروع کیا اور یہ مارچ ٹرافلگر اسکوائر پر ختم ہوا۔اس مارچ میں کئی معروف ہستیوں نے شرکت کی جن میں لندن کے مئیر صادق خان بھی شامل تھے۔اس مارچ میں مظاہرین نعرہ لگا رہے تھے کہ ’ پُل بناؤ نہ کہ دیوار تعمیر کرو‘۔برطانیہ کے بیلفاسٹ، کارڈف،ایڈن برا، لنکاسٹر،لیڈس، لیور پول، مانچسٹر، برسٹل اور شپلی کے شہروں میں بھی ڈونلڈ ٹرمپ کی مخالفت میں جلوس نکالا گیا۔
70؍سالہ ڈونلڈ ٹرمپ امریکی تا ریخ میں سب سے معمرصدر منتخب ہوئے ہیں۔اس سے پہلے 1981میں 69؍ سالہ رونالڈ ریگن سب سے عمر دراز صدر منتخب ہوئے تھے۔ڈونلڈ ٹرمپ پہلے امریکی صدر ہیں جو ارب پتی ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ لگ بھگ دس ارب ڈالر کے مالک ہیں۔ڈونالڈ ٹرمپ کے کابینہ میں سات امیر ترین لوگ شامل ہیں۔
امریکہ کی ساٹھ سالہ تاریخ میں ڈونلڈ ٹرمپ پہلے صدر ہیں جو سیاست دان نہیں ہیں اور جو نہ ہی کسی اسٹیٹ کے گورنر یا سینیٹر رہیں۔ اس سے قبل زیادہ تر صدر یا تو کسی اسٹیٹ کے گورنر ہوئے ہیں یا پھر کانگریس کے ممبر رہے ہیں۔ 1953میں ڈویٹ ایسن ہوور ایک ایسے صدر تھے جو فوجی کمانڈر سے صدر بنے تھے۔اس سے قبل 1929میں ہربٹ ہوور بھی ایک ایسے صدر تھے جو پیشے کے لحاظ ے انجنئیر تھے۔
اندازہ لگایا جارہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اس صدی کے پہلے ایسے صدر ہوں گے جو وائٹ ہاؤس میں کتّا نہیں پالیں گے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی تیسری ماڈل بیوی امریکہ کی پہلی فرسٹ لیڈی ہوں گی جن کا تعلق سلووانیا (Slovenia)سے ہے۔ وہ ایک غیر مقامی انگریزی بولنے والی ہو ں گی۔ تاہم اس سے قبل 1825میں صدر جون آدم کی بیوی لوئیس آدم بھی ایسی فرسٹ لیڈی تھیں جن کی پیدائش لندن میں ہوئی تھی۔
ڈونلڈ ٹرمپ کو دنیا برسوں سے ایک کامیاب اور معروف بزنس مین کے طور پر جانتی تھی۔ لیکن 2016میں جب ڈونلڈ ٹرمپ نے ریپبلیکن پارٹی کی طرف سے امریکی الیکشن میں امیدواری کے طور پر اپنا نام درج کروایا تو زیادہ تر لوگ اور سیاسی ماہرین یہی سمجھ رہے تھے کہ ڈونلڈ ٹرمپ صدارتی امیدوار کی بحث کے پہلے ہی دور میں ہار جا ئیں گے۔کئی بار ایسا محسوس بھی ہوا لیکن جوں جوں وقت گزرتا گیا ڈونلڈ ٹرمپ کی الٹی سیدھی باتوں کا اثر لوگوں پر پڑنے لگا۔ اور دیکھتے دیکھتے تمام الزامات اور دشواریوں کے باوجود انہوں نے امریکی الیکشن جیت لیا۔
تاہم اب بھی عوام کا ایک طبقہ ڈونلڈ ٹرمپ کو صدر ماننے سے انکار کر رہا ہے۔ جس کی ایک مثال ہفتہ کو دیکھنے کو ملی جب لاکھوں کی تعداد میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے تھے۔ ڈونلڈ ٹرمپ ارب پتی ہیں اور انہیں دنیا کی ہر چیز سونا نظر آرہی ہے ۔ جس کا اندازہ ان کی باتوں اور پالیسیوں سے ہو رہا ہے۔مجھے ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر بننے سے مایوسی سے زیادہ خوف ہے ۔اس لئے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کا رویّہ کافی جارحانہ ہے اور وہ دولت کے نشے میں چور ہیں۔ دیکھتے ہیں زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *