آصف زرداری کی پیسوں کےعوض ٹرمپ کی حلف برداری میں شرکت کا حیران کن انکشاف!

Image result for trump zardari

لاہور-کالم نگار انجم نیاز نے اپنے کالم میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلد ٹرمپ نے اپنی حلف برداری اور اس سے قبل کے عشائیے کے ٹکٹس ایک ملین ڈالر(تقریباًپاکستانی 10 کروڑ روپے) کے عوض ڈونرز کو فروخت کیے تاہم اس سے یہ ظاہر ہوتاہے کہ آصف زرداری نے بھی یہ ٹکٹ ایک لیم ڈالر کے عوض ہی خریدے ہوں گے کیونکہ ٹرمپ ایک کاروباری شخصیت ہیں وہ گاٹھے کا سودا نہیں کرتے۔

تفصیلات کے مطابق کالم نگار انجم نیاز نے اپنے کالم میں لکھا کہ ایک بات واضح ہو جانی چاہئے کہ مفت کوئی بھی چیز نہیں ہوتی! نہ کوئی لنچ مفت ہوتا ہے اور نہ کوئی ڈنر، واشنگٹن میں قائم امریکہ کی قدیم ترین اور سب سے بڑی تحقیقاتی نیوز ایجنسی ‘Center for Public Integrity نے ایک بروشر حاصل کیا ہے‘ جس کے مطابق ڈونلڈٹرمپ نے اپنی حلف برداری کی تقریب اور اس سے قبل کے عشائیے کے ٹکٹ ایک ملین ڈالر کے عوض ”ڈونرز“ کو فروخت کئے۔ دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی نے پریس ریلیز میں کہا کہ آصف زرداری کو امریکی صدر کی حلف برداری کی تقریب میں بطور مہمان شریک ہونے کیلئے مدعو کیاگیا ہے جو کہ ان کیلئے باعث عزت ہے ۔اور بعد میں یہ بتایا گیا کہ اس تقریب میں شرت کیلئے شریں رحمان اور رحمان ملک کو بھی دعوت دی گئی ہے ۔ ان کا کہناتھا کہ انہیں مدعو کرنے کی بات اس لئے بھی کچھ ناقابلِ یقین ہی لگتی ہے کہ خود ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ کہنا تھا کہ تقریبِ حلف برداری میں ہر ایک کے لئے جگہ بنانا ایک چیلنج ثابت ہو رہا ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ کاروباری ذہنیت کے حامل انسان ہیں اور مفت چیزیں بانٹنے کے لئے قطعی نہیں جانے جاتے۔اس لیے یہ ماننا بھی مشکل ہے کہ تقریب کے دعوت نامے پیپلز پارٹی والوں کو مفت بانٹے ہوں گے‘ جس میں وہ خود اور ان کے نائب صدر‘ دونوں اپنی اپنی اہلیہ کے ہمراہ موجود تھے۔ کالم نگار انجم نیاز نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ زرداری صاحب نے یہ دعوت نامہ پانے کے لئے ڈونر بن کر ایک ملین ڈالر ڈونلڈ ٹرمپ کے ہاتھ تھمائے ہوں گے۔انہیں معلوم تھا کہ یہ سودا انہیں دہرا فائدہ دے گا۔ ایک یہ کہ وہ لوگوں کو بتا سکیں گے کہ اکیلے انہیں ہی یہ دعوت نامہ ملا ہے‘ لہٰذا اسٹیبلشمنٹ سمیت سبھی کو ان کے ساتھ تمیز کے دائرے میں رہنا چاہئے۔ دوسرے وہ وزیر اعظم میاں نواز شریف کو یہ تکلیف دے سکیں گے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے انہیں نظر انداز کر دیا ہے :-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *