میں سفید فام دوست کیوں نہیں بنا سکتی؟برطانوی مسلم خاتون کا استفسار

برطانوی مسلم خاتون،جویریا اکبر اعتراف کرتی ہیں کہ یہ اس تلخ صداقت کا سامنا کرنے کا وقت ہے کہ کئی مسلمان خواتین کو حقیقتاً جدیدJavariaAkbar برطانیہ میں خوش آمدید نہیں کہا جاتا۔
وہ کہتی ہیں کہ یہ با ت میری سمجھ سے بالاتر ہے کہ ہر 7 برطانوی جہادی جو عراق اور شام میں جا چکے ہیں، ان میں سے ایک خاتون ہوتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مجھے اس بات پر زور دینا چاہئے کہ میں آئی ایس آئی ایل سے خائف ہوں اور یہ اسلام کا ایک بنیاد پرست رخ ہے جو مایوسی، قتل و غارت اور وحشت کے سوا اور کچھ نہیں پھیلاتا۔حالانکہ ہمارا مذہب اسلام، جسے میں جانتی ہوں، امن، اتفاق، نفوذ اور محبت کے سوا اورکچھ نہیں پھیلاتا۔ بلاشبہ، خود کو غیر اہم محسوس کرنا، دہشت گرد ی کے اقدامات کی دلیل ہرگز نہیں ہوتا۔
تاہم، جو بات میں سمجھ سکتی ہوں، وہ یہ مایوس کن تحقیق ہے کہ اس جگہ کی تلاش کس طرح کی جائے جہاں سے آپ کا تعلق ہو۔۔ وہ انسانی خواہش، جس کو سننااور اہمیت دینا مطلوب ہو، ناقابل یقین حد تک مستحکم ہوتی ہے۔ میرے لئے اکلوتی جگہ جہاں سے، میں محسوس کرتی ہوں کہ میں تعلق رکھتی ہوں، وہ ہے جہاں میں اپنی تین مسلمان بہنوں کے ساتھ رہتی ہوں، وہ میری بہترین سہیلیاں ہیں۔جن پر میرا اعتماد ہے اور وہ میری سب سے بڑی ساتھی ہیں۔۔میرے ساتھ اہل برطانیہ کا سرد مہر رویہ مجھے صرف اپنے مسلمان دوستوں تک محدود رہنے پر مجبور کرتا ہے حالانکہ میں پیدا بھی برطانیہ میں ہوئی تھی۔ مگر اہل برطانیہ مجھے برداشت کرنے پر تیار نہیں ہوتے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *