ٹرمپ کا متنازعہ حکم نامہ اور مسیحی دنیا

sahil munir

نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے حلف برداری کے فوری بعدسات مسلمان ملکوں ایران،عراق، شام، صومالیہ، یمن،سوڈان اور لیبیا کے شہریوں کو امریکہ میں داخل ہونے سے روکنے کا ایگزیکٹیو آرڈر پوری دنیا میں ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا گیا ہے۔امریکہ کی قومی سلامتی کے نام پر جاری کردہ یہ صدارتی حکم نامہ نفرت و تعصب کا ایک ایسا اعلامیہ ہے جسے بِلا امتیاز رنگ و نسل تمام اقوامِ عالم نے رد کردیا ہے ۔کینیڈا کے وزیرِ اعظم جسٹن ٹروڈ،برطانوی وزیرِ اعظم تھریسامے،برطانوی لیبر رہنما جریمی کوریبین، وزیرِ خارجہ بورس جانسن اور سابق امریکی وزیرِ خارجہ میڈلین البرائٹ سمیت دیگرمتعدد عالمی رہنماؤں اور اداروں نے امریکی صدر کے اِس فیصلے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اپنے خدشات کا اِ ظہار کیا ہے۔میڈلین البرائٹ نے تو یہاں تک کہ دیا ہے کہ اگر مسلمانوں کے لئے امریکہ میں رجسٹریشن کا علیحدہ قانون بنایا گیا تو احتجاجاًوہ اپنا اندراج بطور مسلمان کرائیں گی۔ایک اعلیٰ سرکاری منصب پر فائز رہنے والی میڈلین البرائٹ کا یہ انسان دوست بیان یقینی طور پر انسانی تہذیب و اقدار کا اعلیٰ و ارفع نمونہ ہے جِسے کبھی بھی فراموش نہیں کیا جا سکے گا۔اِس امتیازی فیصلہ کے خلاف خود امریکی عوام کا احتجاج ایک قابلِ ستائش امر ہے ۔ کاتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس نے بھی اِس فیصلے پر اپنی گہری ناپسندیدگی کا اِ ظہار کرتے ہوئے اِسے منافقانہ طرزِ عمل قرار دیا ہے۔ویٹیکن سٹی میں زائرین سے اپنے تازہ ترین خطاب میں پوپ فرانسس نے کہا ہے کہ:

I do not like the contradiction of those who want to defend Christianity in the West, and on the other hand are against refugees and other religions.
It146s hypocrisy to call yourself a Christian and chase away a refugee or someone seeking help, someone who is hungry or thirsty, toss out someone who is in need of my help,148

مسیحی دنیا کے ایک بڑے مذہبی رہنما کی طرف سے امریکی صدر کے اِس فیصلہ پر خفگی کا اِظہار امن پسند حلقوں کے لئے باعثِ تسکین ہے۔علاوہ ازیں پوپ فرانسس اور دیگر عالمی رہنماؤں کی طرف سے ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم نامے پر پائے جانے والے تحفطات و خدشات نے دنیا پر واضح کر دیا ہے کہ قومی امن و سلامتی کے نام پر نفرت و تعصب کے بیانیے کا فروغ اب ہر گز قابلِ قبول نہیں رہا اور اِس گلوبل ویلیج میں مذہبی و نسلی تنگ نظری کی بنیاد پر نسلِ آدم کا مزیداستحصال نہیں کیا جا سکتا۔ امریکی صدر کا یہ احمقانہ اقدام اِس لحاظ سے بھی قابلِ مذمت ہے کہ مذکورہ بالا ممالک کے عوام امریکی پالیسیوں کی وجہ سے ہی آج مہاجرت اور دربدری کے عذاب سے دوچار ہیں اور اِس فیصلہ پر عمل در آمد ایک بڑے انسانی المیے کا سبب بنے گا۔مزید برآں مذہب و عقائد کی تفریق کا یہ کھیل دہشت گردی و مذہبی انتہا پسندی کے خاتمے کی بجائے اِسے مزید بڑھاوا دے گا۔اِس حوالے سے ایک امریکی عدالت کی طرف سے صدارتی فرمان پرعمل درآمد کو روک دینے کی خبر بلا شبہ حوصلہ افزاء ہے۔حالانکہ امریکی عدالتیں اِس قسم کے انتظامی احکامات و اختیارات میں عمومی طور پر مداخلت نہیں کرتیں۔اگرچہ یہ کیس ابھی زیرِ سماعت ہے لیکن امید ہے کہ امریکی نظامِ انصاف امن ورواداری ،عالمی بھائی چارے اور امریکی معاشرے کی اعلیٰ انسانی اقدارکو ہرگز فراموش نہیں کرے گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *