ڈگمگاتی ہوئی ریاست

گزشتہ ہفتے جیل ڈی آئی خان کی جیل کا ٹوٹنا سیکورٹی نظام میں خامی کا ایک غیر معمولی واقعہ تھا۔ خیبر پختونخواہ کی حکومت نے بڑی لاپرواہی سے اس محاورے کی سچائی کو نظر انداز کر دیاکہ جس کو خطرے کی پہلے اطلاع مل جائے، وہ بہتر مسلح ہوتا ہے۔ اس نے اسلام آباد کی وزارتِ داخلہ کی طرف سے اس حملے کی بھجوائی گئی تین تحریرشدہ اطلاعات ، جولگاتار تین دن بھجوائی گئیں کو عملی طور پر ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا۔ خیبر پختونخواہ کے آئی جی پولیس کی ہمت ہے کہ اُنھوں نے اس انتہائی سنگین واقعے کو کرکٹ، یعنی کھیل کود، کی اصطلاح میں بیان کرنے کی کوشش کی... ’’طالبان کی بولنگ کے خلاف ہماری بیٹنگ ناکام ہو گئی‘‘۔ اس لب و لہجے سے ان کے محکمے کی مجرمانہ غفلت کا اندازہ ہوتا ہے۔
دوسری طرف طالبان اپنی اس کامیابی کا جشن منا رہے ہیں کہ کس طرح وہ آئے، اُنھوں نے دیکھا اور اُنھوں نے فتح کر لیا۔ کسی پولیس والے یا فوجی نے ہلنے کی زحمت نہ کی، جیل کے گیٹ اور دروازے توڑے اور سینکڑوں دھشت گردوں کو لے کر چلتے بنے۔ اگر طالبان کی کامیابی لگن اور عزم کی ’’روشن مثال ‘‘ ہے تو دوسری طرف تشویش سے ہاتھ ملنا، بلکہ اس سے بھی بدتر، مایوسی اور بے حسی کے سمندر میں غوطے کھاناریاستی عملداری کے چہرے پر ایک بدنماداغ ہے۔ جیل کے قریب موجود فوجیوں کی طرف سے وضاحت میں ایک لفظ تک کہنے کی زحمت بھی نہیں کی گئی ہے کہ وہ کس طرح امن سے سوتے رہے جبکہ ان کے قریب ہی گن فائر ہورہے تھے۔ کہاں ہے وہ مشہور ’’آر ڈی ایف ‘‘(ریپڈ ڈپلائمنٹ فورس) جس کا کام فوری کاروائی کرنا ہوتا ہے؟ مذہبی جنونی انتہائی خطرناک دھشت گردوں کو لے کر چلے گئے لیکن کوئی روڈ بلاک ، کوئی پولیس ایکشن، کوئی چیک پوسٹ، اُس وقت کچھ بھی نظر نہ آیا۔ کیا سب کو بیک وقت سانپ سونگھ گیا تھا؟
کیا یہ کوئی الف لیلیٰ کی داستان کا منظر ہے کہ ایک سو پچاس کے قریب باریش مسلح افراد کھلی گاڑیوں میں ہتھیار لہراتے ہوئے جنوبی وزیرستان(کیا وہ کسی اور ملک میں ہے؟) سے ایک شہر کی جیل کی طرف رواں دواں ہوں اور سو کلومیٹر کا سفر طے کرلیں اور کسی جوان نے انہیں نہ دیکھا ہو ؟زیادہ عرصہ نہیں گزرا، یہی عمران خان، جن پر ملک کے کچھ لوگ امیدیں لگا بیٹھے ہیں، اے این پی حکومت سے طالبان کے ہاتھوں بنوں جیل ٹوٹنے پر استعفے کا مطالبہ کررہے تھے لیکن آج اُنھوں نے خیبرپختونخواہ کے وزیرِ اعلی کو فارغ کیوں نہیں کیا؟
جب تجزیہ نگاروں کی تمام تر توجہ طالبان کی اہم فتح اور ہماری پولیس کے ناقص انتظام پر مرکوز ہے، ایک اہم عامل کو نظرانداز کیا جارہا ہے۔ یہ اہم ، بلکہ فیصلہ کن عامل ہمارے معاشرے اور ریاستی اداروں میں طالبان کے ہمدردوں کی موجودگی ہے۔ اگر کچھ بہارد سیکورٹی گارڈ طالبان کے سامنے آکر مزاحمت کرتے ہوئے جان نہ دیتے تو ہم جیل کے سٹاف کو موردِ الزام ٹھہراتے کہ اُن کی ملی بھگت سے یہ کاروائی ہوئی ہے۔ یقیناًیہ بھی اطلاعات ہیں کہ جیل گیٹ کو اندر سے طالبان کے حامی گارڈز نے کھولا جبکہ جیل سٹاف کا ایک بڑا حصہ غائب ہو گیا جیسا کہ اُنہیں علم تھا کہ کیا ہونے والا ہے۔اس میں جان کا خوف بھی ہو سکتا ہے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ وہ اتنے طالبان کا مقابلہ نہیں کرسکتے لیکن طالبان کی حمایت کے پہلو کو نظرانداز کردینا بھی غلطی ہوگی کیونکہ گزشتہ دو دھائیوں سے خطے میں ہونے والی امریکی مداخلت اور ایک برادر عرب ملک کے تعاون سے ایک خاص فرقے کی پذیرائی کی جڑیں ہمارے ریاستی اداروں میں پھیل چکی ہیں۔
ہمیں اس تلخ حقیقت کا سامنا کرنا ہوگا ۔ ہمارے دفاعی ادارے بھی سرائیت کرجانے والے مذہبی اور فروحی جذبات سے مبرا نہیں ہیں۔ جنرل مشرف پر قاتلانہ حملہ کرنے والوں کو پی اے ایف کے ملازم عدنان رشید کی معاونت حاصل تھی۔ جن طالبان جنگجووں نے جی ایچ کیو اور مہران نیول بیس پر حملہ کیا، اُنھیں بھی اندر سے حمایت اور معلومات فراہم کی گئیں تھیں۔ اس ضمن میں پولیس بھی معصوم نہیں ہے... پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کو ان کے محافظ پولیس کمانڈو، جس کے سینے پر لکھا ہوتھا... "No fear"...نے ہی قتل کیا۔ اسی طرح عدلیہ بھی ان پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کرنے اور سیاست دان ان سے امن کے معاہدے کرنے اور ان سے انتخابی اتحاد قائم کرنے میں ہی عافیت گردانتے ہیں۔
ارباب اختیار میں سے کسی میں طالبان سے لڑنے کا حوصلہ نہیں ہے۔ جنرل کیانی کا کہنا ہے کہ طالبان سے ہماری بقا کو خطرہ ہے ، جنرل شجاع پاشا کا کہنا ہے کہ ان کی وجہ سے ہم ناکام ریاست بن رہے ہیں، وزیرِ اعظم نوازشریف کا کہنا ہے کہ انھوں نے معیشت اور جمہوریت کو داؤپر لگا دیا ہے، صدر زرداری کے مطابق اُنھوں نے ان کی بیوی کو ہلاک کیا تھا جبکہ الطاف بھائی اُنہیں اپنا جانی دشمن گردانتے ہیں۔ اسفند یار ولی اور مولانا فضل الرحمان کو بھی ان سے خطرہ ہے۔ یہ سب فرمودات اپنی جگہ پر، لیکن یہ کینسر ہماری ریاستی اور سیاسی زندگی کے ہر شعبے میں پھیل رہا ہے اور ہم نجات کے لیے دعائیں کررہے ہیں۔جب قیام کا وقت تھا تو قوم سجدے میں گر گئی ہے۔ اگر کوئی قوم جرم اور غفلت کا بیک وقت ارتکاب کرسکتی ہو تو وہ ہم ہیں۔ ملالہ کی طرف دیکھیں تو وہ طالبان کے خلاف مزاحمت کی قابلِ فخر عالمی علامت بن چکی ہے جبکہ ہم طالبان کے خلاف لڑنے کی بجائے اس بچی کی وجہ سے لڑرہے ہیں۔
اس وقت مسٹر سرتاج عزیز سیکورٹی ایڈوائزر ہیں۔ وہ طالبان، فرقہ واریت، جہادی کلچر اور مذہبی انتہا پسندی کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے کوئی پالیسی کب بنائیں گے اورسب سے اہم بات، اسے نافذ کب کریں گے جبکہ یہ زہریلے ناگ ملک کو پیہم ڈسنے کے درپے ہیں؟چوہدری نثار وزیرِ داخلہ ہیں۔ اُنہیں داخلی مسائل کا ادراک کرنے کے لیے ابھی مزید کتناعرصہ درکار ہے ؟کیا اُنہیں احساس ہے کہ فسادی قوتیں ریاست کو چیلنج کررہی ہیں اور ان کی ذمہ داری کیا ہے؟ مسٹر شہباز شریف خادمِ اعلیٰ پنجاب ہیں۔ وہ اپنے صوبے سے اس برائی کا خاتمہ کب کریں گے؟نواز شریف وزیرِ اعظم ہیں۔ وہ کب آگے بڑھ کر عوامی قوت سے اس ناگ کا سر کچلیں گے؟ ہم عوام کب تک بے حسی سے خاموش تماشائی بنے رہیں گے؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *