پاک ایران تعلقات

ڈاکٹر عائشہ صدیقہayesha

سوشل میڈیا پر کچھ انتہا پسندوں کی طرف سے ایران کے بارے میں کیے جانے والے تبصرے ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان میں ایک نظریاتی لابی ہے جو پاک ایران تعلقات کی مخالف ہے۔ اس سے یہ بھی تاثر ملتا ہے کہ ان تبصروں کی بنیاد نظریاتی کشمکش کے سوا اور کچھ نہیں ۔ کیا یہ صورتِ حال ہمیشہ سے ایسی ہی تھی؟
اگرچہ پاکستانی فوج کا لٹریچر سعودی عرب اور ایران کے بارے میں سکوت اختیار کرتا ہے، لیکن کبھی تہران پاکستان کی سکیورٹی کے معاملات میں اہمیت رکھتا تھا۔ ہمارے فوجی افسران جیسا کہ جنرل ایوب خان، جنرل یحییٰ خان، جنرل نور خان اور بہت سے دوسرے پاکستان کے لیے ایران کی اہمیت کے معترف تھے۔ بہت سے واقعات، خاص طور پر 1970کی دہائی میں رونما ہونے والے، پاکستان کی سکیورٹی کے لیے ایران کی اہمیت کی گواہی دیتے تھے۔ 1965کی پاک بھارت جنگ کے دوران شاہ ایران نے پاکستان کو ہرممکن امداد فراہم کی اور پاکستان کے خلاف کسی بھی مزید مہم جوئی سے باز رہنے کے لیے نئی دہلی کی سرزنش بھی کی۔ 1969میں پاکستان نے ایران کے شہنشاہ کی تخت نشینی کا دن منایا جبکہ ایران میں یومِ پاکستان منایا گیا۔ گورنر سندھ وائس ایڈمرل ایس ایم احسان نے اپنے پیغام میں کہا،’’پاکستان اور ایران جڑواں بھائی ہیں۔‘ ‘
کیا یہ سب کچھ ضیا دور میں تبدیل ہوا اور کیا اس کی وجہ صرف مخصوص مذہبی نظریہ تھا؟بے شک اس تبدیلی میں ضیا ء کے نظریات کا اہم ہاتھ تھا۔ پاکستان میں ابھرنے والے جہادی کلچرنے بھی پاکستان کی سماجی اور سیاسی حرکیات کو تبدیل کردیا۔ اس میں اہم ترین پیش رفت سپاہِ صحابہ پاکستان (ایس ایس پی)کا وجود میں آنا تھا۔ اس گروہ کی 1980کی دہائی میں نہ صرف افغان جہاد میں حصہ لینے بلکہ پاکستان میں اہلِ تشیع کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کوزائل کرنے کے لیے حوصلہ افزائی اور سرپرستی کی گئی۔ دراصل ضیا کو اہلِ تشیع کے ساتھ مسلہ تھا کیونکہ وہ اس کے نافذ کردہ اسلامی قوانین کے راستے میں م زاحم تھے۔ 1979میں انقلابِ ایران نے پاکستان کے شیعوں کو اعتماد بخشا تھا اور وہ ضیا کے قوانین کو چیلنج کرنے کے لیے میدان میں آگئے۔ اس پر ریاست نے سخت ردِ عمل ظاہر کیا۔ چنانچہ 1980 کی دہائی کے اختتام تک اہلِ تشیع کو سزا دینے کے لیے میدان میں بہت سی طاقتیں موجود تھیں۔ مثال کے طور پر گلگت بلتستان کے سکولوں میں جب علیحدہ نصاب کا مطالبہ کیا گیا تو اہلِ تشیع کو سختی سے دبانے کے لیے لشکر بھیجا گیا۔ اس لشکر کے بہت سے جنگجو گلگت بلستان میں ہی آباد ہوگئے ۔ اُن کی موجودگی نے وہاں کے معروضی حالات کو تبدیل کرنا شروع کردیا۔
سکیورٹی اسٹبلشمنٹ نے بھی ان داخلی مسائل کو آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کی پالیسی اپنائی.... چاہے یہ مشرقیِ پاکستان ہو، بلوچستان ہو ، گلگت بلتستان یا اکاڑہ ہو۔ 1979میں پاک ایران تعلقات میں کشیدگی نہیں تھی۔ درحقیقت فوجی حکومت کی حلیف جماعتِ ا سلامی کے قائد مولانا مودودی کے نظریات کا ایران کے انقلابی رہنماؤں پر اثر دکھائی دیتا ہے۔ 1978میں ضیاحکومت کے وزیر، خورشیداحمد، جن کا تعلق جماعتِ اسلامی سے تھا، نے آیت اﷲ خمینی سے پیرس میں ملاقات پر اصرار کیا۔ ان کی یہ ملاقات چودہ جنوری 1979 کو ہوئی۔ اس کا مطلب ہے کہ افغان جہاد کے لیے قائم کی گئی ’’جہاد کی مارکیٹ‘‘میں امریکی سرمایہ کاری نے سب کچھ تبدیل کردیا۔ تاہم ریاستِ پاکستان ایران کے بارے میں کوئی کھلا موقف اختیار نہ کرسکی۔ یہ تذبذب میں رہی کہ کیا ایران کو پاکستان کے داخلی حالات میں ایک مداخلت کار کے طور پر دیکھا جائے یا ایک برادر اسلامی ریاست سمجھا جائے جس کی فوجی مدد اس کے عسکری بازو کو توانا کرتی ہے۔ پاکستان کا ایٹمی پروگرام ان کی جنرلوں کے ذہن کی پیداوار تھا جو خطے میں امریکی بالادستی کو چیلنج کرنے ک لیے مختلف طاقتوں کو تیار کررہے تھے۔اسلام آباد نے میزائل پروگرام میں تہران کی مدد کی۔ 2002میں مشرف کی ٹیم مٰں شامل ایک سینئر جنرل نے خبردار کیا کہ اگر امریکہ نے ایران کے جوہری پروگرام کو نشانہ بنایا تو وہ پاکستا ن کی جوہری تنصیبات کو بھی نشانہ بناسکتا ہے۔
یقیناًدو عشروں سے جاری دیوبندی اور سلفی مسلک کے جہادی نظریات کی تبلیغ نے بھی اثر دکھایا ہے لیکن فیصلہ کن کردار پاکستان کے اہم پالیسی سازوں کا ہے۔راولپنڈی کم از کم یہ برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں افغانستان میں کسی اور ریاست، جیسا کہ ایران ، کا غالب عمل دخل ہو۔اہم معاملات ، جیسا کہ جوہری مہارت ، میں مدد کرنے کے لیے پاکستان کو توقع تھی کہ ایران اس کے دفاعی مقاصد کا احترام کرے گا۔ تاہم افغانستان میں تہران کی مداخلت نے راولپنڈی کو تاؤ دلادیا۔ 1990کی دہائی کے اختتام پر مجھے یاد ہے کہ میں نے کچھ نیول افسران کو یہ کہتے سنا تھا کہ ایران ناقابلِ ا عتبار نکلا۔
شاید پاک ایران تعلقات میں تبدیلی ناگزیر تھی۔ اس کی وجہ1970کی دہائی سے پاکستان کی دفاعی حکمتِ عملی میں رونما ہونے والی تبدیلی تھی۔ اس سے پہلے پاکستان دفاع ک لیے دوسری ریاستوں کی طرف دیکھتا تھا۔1990 کی دہائی کے اوائل تک اسلام آباد کے نزدیک خطے کے معروضات اور ریاستوں کا کردار بدل چکا تھا۔ بہرحال اسلام آباد نے دیکھا کہ شاہ ایران نے عراق سے شط عرب پر جو جنگ شروع کرلی ہے ، اس میں پاکستان ایران کے ساتھ نہیں کھڑا ہوسکتا ہے۔ اس دوران شاہ کی بھی پاکستان کے حوالے سے غلط فہمی دور ہوچکی تھی کیونکہ اس کا یہ اتحادی اُس کی مدد کرنے کی بجائے بھارت کے ساتھ محاذآرائی میں الجھا ہو ا تھا۔ 1979 کا انقلابِ ایران اورامریکہ کے ساتھ محاذآرائی نے تہران کو پاکستان کی دفاعی حکمتِ عملی کے پیمانے سے دور کردیا۔
1970کی دہائی میں پاکستان میں عسکری قوت کے لیے دو بازوں کو توانا کرنا شروع کردیا.... جوہری ہتھیار اور جہادی لشکر۔ ان جہادی لشکروں کو پہلے افغانستان اور پھر دیگر علاقوں میں استعمال کیا گیا۔ سکیورٹی اسٹبلشمنٹ بھی بھٹو کی طرح اسلامی دنیا میں سیاسی اور جغرافیائی طور پر مرکزی مقام حاصل کرنے کی خواہاں تھی۔ اس لیے پاکستان نے شاہ ایران کی غلطی نہیں دہرائی اور اپنی فوج کو طاقت دینا شروع کردی۔ شاہ نے خطے سے برطانوی افواج کے انخلا کے بعد اپنی عسکری طاقت پر توجہ نہیں دی تھی۔ 1990 کی دہائی میں سامنے آنے والی ’’جنرل بیگ اور حمید گل ڈاکٹرائن‘‘نے مشرقِ وسطیٰ سے امریکی اور دیگر طاقتوں کے انخلا کے پیدا ہونے والے خلا کو پرکرنے کا عزم کیا۔ اس میں جوہری ہتھیار وں اور پراکسی لشکروں کا کردار ہم تھا۔ 1991میں ایک ایرانی سفارت کے قتل کی قیمت ریاست چکانے کے لیے تیار تھی۔ درحقیقت اُس قتل کی پوری شہادت موجود تھی، لیکن اُس کے قاتل کے 2011میں رہا کردیا گیا۔ دوسری طرف ایٹمی ہتھیاروں نے پاکستان کو اسلامی دنیا کے محافظ کا احساس دلایا۔ تاہم اس دوران جی ایچ کیو کویہ دیکھ کر سخت مایوسی ہوئی کہ افغانستان کے معاملے میں ایران بھارت کے ساتھ تعاون کرنے کی راہ پر گامزن ہے۔ آج کوئٹہ سے سیستان جانے والی سڑک کی خستہ حالی بتارہی ہے کہ ایران کی پاکستان کے لیے کیا اہمیت ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *