تین باسکٹ

احمر بلال صوفیahmer bilal sofi

پاکستان اور بھارت کے بیچ پانی کے مسائل کو تین قانونی باسکٹ میں تقسیم کیا جا نا چاہیے۔ پہلے باسکٹ  میں کشن گنگ اور رتل ڈیم کو ڈالنا چاہیے اور اسے انڈس واٹر ٹریٹی کے مطابق حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ دوسرے باسکٹ  میں پاکستان کو ان شکوک کو رکھنا چاہیے کہ بھارت پاکستان  کے خلاف پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے اگلے چند سالوں میں  چناب، جہلم اور سندھ پر کئی ڈیم بنانے کا ارادہ رکھتا ہے ۔

 تیسرے باسکٹ  میں وہ حکمت عملی موجود ہونی چاہیے جس کے تحت بھارت کی طرف سے معاہدہ ختم کرنے کی دھمکیوں کا جواب دیا جا سکتا ہے۔ اب میں ان تینوں باسکٹ کو ایک ایک کر کے بیان کروں گا۔ کشن گنگ اور رتل ڈیم کے معاملے میں پاکستان نے ورلڈ بینک کو غیر جانبدار کورٹ کی سہولت پیش کرنے کی درخواست کر رکھی ہے۔ بھارت نے ایک غیر جانبدار عہدیدار کے انتخاب کا کہا ہے جب کہ ورلڈ بینک نے دونوں ممالک کی درخواستوں کو روک لیا ہے اور کہا ہے کہ دونوں ممالک مل کر بات چیت کے ذریعے مسئلہ حل کریں۔

میرا مشورہ ہے کہ یہ مسئلہ پہلے  باسکٹ میں رکھا جائے  اور اس ڈبے کے تمام معاملات کو معاہدے کے مطابق حل کرنے کی کوشش کی جائے۔ پاکستان کووہی طریقہ اختیار کرنا چاہیے جو اب تک پاکستان نے اپنا رکھا ہے۔ پاکستان کا انڈس واٹر کمیشن اور واٹر اینڈ پاور کی وزارت ورلڈ بینک پر دباو ڈالے کے ایک ثالثی عدالت کا تقرر کیا جائے جب تک انڈیا اپنے ڈیمز پر کام نہیں روک دیتا۔ پاکستان کے لیے مناسب یہ ہو گا کہ انڈین سائیڈ پر ھائیڈرو الیکٹرک پراجیکٹ کے انڈس واٹر ٹریٹی میں موجود شرائط کی روشنی میں ورلڈ بینک کے سامنے پیش کرے۔ اس معاملے کو مزید دو مراحل میں تقسیم کیا جائے۔ پہلے مرحلے میں سیاسی طور پر ایک ڈیم کی تعمیر کی رضا مندی ظاہر کی جائے اور جگہ کا بھی تعین کیا جائے۔ ساتھ ساتھ پراجیکٹ کے لیے خرچ ہونے والی رقم کا بھی تعین کیا جائے۔

 جگہ کے تعین کے بعد انویسٹ منٹ کا بندو بست کرنے کے بعد تجاویز پاکستان کے انڈس واٹر کمیشن کے سامنے پیش کی جائیں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بہت سے پاکستانیوں کی یہ رائے کہ انڈس واٹر ٹریٹی بھارت کو ڈیم بنانے کی اجازت دیتا ہے صحیح نہیں ہے۔ یہ فیصلہ سازی کا طریقہ آج تک انڈس واٹر ٹریٹی کے ہاتھ سے باہر رہا ہے۔ اس لیے بھارت کے مستقبل کے پراجیکٹس کو علیحدہ ایک دوسرے باسکٹ میں رکھا جانا چاہیے۔ اس باسکٹ کا سکوپ آئی ڈبلیو ٹی سے باہر رکھا جائے۔

 اگر پاکستان بھارت کے زیر قبضہ کشمیر کے علاقہ میں 40 ڈیموں کی تعمیر کے واقعہ کو چیلنج کرنا چاہتا ہے تو پھر یہ معاملہ بھی دوسری باسکٹ میں ہی رکھا جائے گا۔ ایک آپشن بھارت اور پاکستان کے پاس موجود ہے وہ یہ ہے کہ دونوں پارٹیوں کو آئی ڈبلیو ٹی سے ہٹ کر کوئی تجویز پر اتفاق کرنا چاہیے  اور اگلی ایک دو دہائیوں میں جتنے بھی ڈیم تعمیر کیے جانے ہیں ان کی تفصیلات دکھائی دیں۔ اس معاملے میں دریائے کابل پر پاکستان اور افغانستان کے بیچ پانی کے تقسیم کی کمیٹی بھی مدد گار ثابت ہو سکتی ہے۔ جب تک اس طرح کا کوئی بندوبست نہیں ہو جاتا تب تک یہ معاملہ وزارت دفاع اور وزارت داخلہ کے ہاتھ میں رہنا چاہیے۔

تیسری باسکٹ میں وہ معاملات ہونے چاہیے جو پاکستان بھارت کی طرف سے آنے والی دھمکیوں کے جوابات دینے کے لیے قابل غور سمجھتا ہے۔ اس سے پہلے کبھی بھارت نے اس معاہدے کو توڑنے کی اتنے اونچی سطح پر بات نہیں کی۔ 2016 میں پہلی بار نریندر مودی نے ریاست کے بڑے عہدیداروں کے ساتھ میٹنگ میں بیٹھ کر جہاں اجیت دوول، جے شنکر اور دوسرے بڑے وزرا موجود تھے اس معاہدے پر دوبارہ غور کرنے  اور سارا پانی بھارت کے لیے استعمال کرنے کی بات کی ہے۔ اگرچہ بھارت یکطرفہ معاہدے سے باہر نہیں نکل سکتا  لیکن اس معاہدے کو توڑنے کی کوشش بھی ایک پریشان کن بات ہوگی۔

 بھارت کی طرف سے ایسی کوئی بھی کوشش اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 2(4) کی خلاف ورزی ہو گی  جس پر بھارت کے خلاف طاقت کے استعمال کا بھی حق ہو گا کیونکہ پانی  کا معاہدہ توڑنا ایک جنگ چھیڑنے کے برابر ہو گا۔ بھارت ایسا کوئی قدم نہیں اٹھائے گا جس سے اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری کو بھارت کے خلاف کاروائی کا اختیار مل جائے۔ اس لحاظ سے تیسری باسکٹ کو بھی آئی ڈبلیو ٹی کے فریم ورک سے باہر رکھنا ہو گا۔ یہ معاملہ بھی وزارت دفاع اور وزارت خارجہ کے ہاتھ میں ہی رہنا چاہیے۔ ان معاملات کو تین مختلف باسکٹ میں رکھ کر پرکھنے سے نہ صرف آئی ڈبلیو ٹی کو بہتر طریقے سے سمجھا جا سکتا ہے بلکہ ایسے معاملات پر بھی نظر رکھی جا سکتی ہے جو اس معاہدے سے تعلق نہیں رکھتے۔

اس طرح ہر باسکٹ کو اندرونی اور بیرونی  لحاظ سے ہر فورم پر بہتر طریقے سے دیکھا  جا سکتا ہے۔ جو چیزیں ان باسکٹ سےباہر رہ جاتی ہیں ان کے معاملے میں پاکستان کو بین الاقوامی قوانین کو دیکھتے ہوئے اپنے ڈیمز اور پانی کے ذخیرے تعمیر کرنے چاہیے اور پانی کو بہتر طریقے سے استعمال کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔یہ فرض ایسا فرض ہے جو کسی معاہدے سے جڑا نہیں ہے اور 2016 کے پیرس اگریمنٹ میں داخل ہوتا ہے جس کے مطابق پاکستان نے اتفاق کیا ہے کہ انرجی کے لیے تمام قابل تجدید ذرائع استعمال کیے جائیں گے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *