ولن کی بھی سنئیے

razia syed

فلمیں دیکھنے کے تو آپ بھی ہماری طرح بے حد شوقین ہیں لیکن آپ اور ہم میں فرق محض اتنا ہے  کہ ہم ٹھہرے ولن اور آپ ہوئے ہیرو کے پرستار ۔

جی بالکل ٹھیک سمجھے آپ کہ جناب ہم ولن ہیں اور فلمی دنیا کے سب سے مظلوم کردار ہیں کیونکہ آپ سب کی ہمدردیاں تو ہیروئین کے ساتھ ہوتی ہیں ہائے بے چاری ماری گئی ، دکھیاری ہے ، ستائی ہوئی لڑکی ہے ۔

 لیکن ہم جو یہ  مار ڈھار کرتے ہیں فلموں میں ، ہیرو کو ہیروئین سے دور رکھنے کے سو جتن ہم کرتے ہیں نہ صرف ہیرو کی کٹائی کرتے ہیں بلکہ بدلے میں اسکے  سب ’’مکے‘‘ اور ’’ تھپے‘‘ بھی  ہمارا مقدر ہی بنتے ہیں  ، اسکی کوئی شنوائی نہیں ، اس کے بارے میں کوئی نہیں سوچتا  ، حالانکہ سب ایکشن ہمارے ، اسٹنٹ ہمارے اور مزے جناب ہیرو صاحب کے ۔

 پھرزیادہ افسوس یہ ہوتا ہے کہ ہیرو خواہ عامر خان کی طرح پہلوان ہو یا فردین خان کی طرح چھیل چھبیلا ، سلمان خان اور اکشے کمار کی طرح باڈی بلڈر ، جیت صرف ان کی ہی ہوتی ہے  اور کٹ صرف ہم نے ہی کھانی ہوتی ہے ۔ آپ یقین نہیں کریں گے کہ ایک مرتبہ تو میری آنکھیں نم آلود ہو گئیں جب سلمان خان نے ایک فلم میں ایک ولن اور اسکے ساتھیوں کو مارتے وقت کہا ’’ میں بہت مصروف ہوں ، بس تم آتے جائو اور باری باری مار کھاتے جائو ، میرے پاس اتنا وقت نہیں کہ تم سب کو ایک ایک کر کے کٹوں  ۔‘‘یعنی کہ دو کوڑی کی عزت نہیں ہے ولن بے چارے کی ۔

کل ہی میری ایک فلم لگی تھی سنیما میں ، میں نے سوچا کہ جناب ہم بھی بڑی سکرین پر خود کو دیکھیں گے ساتھ ہی فلم بینوں کے تبصرے بھی سننے کو ملیں گے لیکن برا ہوا کہ جیسے ہی میرا سین آیا میری بیک سیٹ سے ایک نسوانی آواز آئی ’’  شاہ رخ مار مار اور مار اسکو ، ہڈی پسلی ایک کر دو اسکی ۔ اب ختم کر دو اسکو ایسے ہی اس کے پندرہ منٹ کی مار دیکھ رہے ہیں ۔ ‘‘

اس پر ہی بس نہیں ہوا ایک باریش بزرگ یوں گویا ہوئے ’’ اوہو مار دے بھئ کب سے اس کریمنل کے نخرے دیکھ رہا ہے ، بس تیری جگہ میں ہوتا ناں تو پوری ٹیم کو ایک ہی وار میں مکا دیتا  ۔ ‘‘

ابھی میرا موڈ خراب ہو ہی رہا تھا کہ  اچانک ایک بندہ تو اپنی سیٹ پر ہی کھڑا ہوگیا ’’ یار کیا مصیبت ہے  ، ہم یہاں تفریح کرنے آتے ہیں اس ٹائپ کے ولن نہیں دیکھنے آتے ، ٹھہر جا  تو ایسے باز نہیں آنے والا  ،  اب پتا چلے گا تجھے ، ہٹ ہٹ کہتے ہوئے انھوں نے ایک ٹماٹر سیدھا سکرین پر دے مارا جو میری ستواں سی ناک پر لگا ۔یعنی آپ دیکھیں حد ہی نہیں ہوگئی ،  میرا دل چاہ رہا تھا کہ کاش سکرین میں سے ہی ہاتھ باہر نکل سکتا تو میں منہ نوچ لیتا اسکا ۔مجھے تو جو فیڈ بیک ملا سو ملا لیکن سنیما سے واپس آتے ہوئے میں یہ سوچ رہا تھا کہ ولن کے بغیر کیا فلم بن سکتی ہے ؟

بالکل بھی نہیں اب اسکے بھی بہت سے جواب ہیں میرے پاس ، ولن اگر سب ہی برے ہوتے تو آج سلطان راہی کو کون یاد کرتا ، مصطفے قریشی کا کون متوالا ہوتا ؟ا گر ولن برے ہوتے تو ’’ ایک ولن ‘‘ فلم کبھی کامیاب نہ ہوتی وہی جس کا گانا آپ صبح شام گنگناتے ہیں ’’ تیری گلیاں مجھ کو بھاویں تیری گلیاں ۔ ‘‘ وہ لڑکی بھی ولن کا ہی انتظار کر رہی تھی جو اسکی زندگی میں ہیرو بن کر آیا تھا ۔ یہ بھی نہ سوچیں جناب کہ ہماری کمائی کم ہوتی ہے ، ولن اتنا اتنا کماتے ہیں ناں کہ سوچ ہو گی آپ کی ۔

 دوسری بات اگر پوری فلم میں صرف ہیرو اور اسکی وہی میٹارن ہوتی کوئی مشکل نہ ہوتی تو محض ایک گھنٹے سے زیادہ کی فلم نہ ہوتی ۔ ولن کو آپ کبھی فلم سے نہیں نکال سکتے ، اب خواہ وہ سخت گیر والد کی صورت میں ہو ، یا کسی استاد کی شکل میں ہو ، میں ہر جگہ رہوں گا بالکل اسی طرح ، جس طرح کسی گنجے کی جیب میں کنگھی ، فرنچ فرائز کے ساتھ کیچپ ، چاولوں کے ساتھ دال ، کمپیوٹر کے ساتھ مائوس اور کی بورڈ  ،کتاب کے ساتھ قلم اور میٹھے میں چینی ۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *