موسیقی تفریح یا مقصد ِحیات

ایازا میرAyaz Amir

میں شاید کبھی بھی کنورٹیبل کار نہ خرید سکوں گا کیونکہ ایسی عمدہ گاڑی خریدنا میرے وسائل کی سکت سے باہر ہے، لیکن میں اکثر جاگتی آنکھوں سے خواب دیکھتا ہوں کہ میں ایک کھلے چھت والی مرسڈیز چلارہاہوں جبکہ ساتھ والی سیٹ پر کوئی حشر ساماں اپنی تمام تررعنائیوں سمیت جلوہا فروزہے تو سوچتا ہوں کہ ایسے میں کیسی موسیقی دل (اُس کے) دل کو نرم کرتے ہوئے دفاعی حصار کو کمزور کرتے کرتے ختم کردے گی۔ موسیقی سے کچھ بھی ممکن ہے، اور پھر ایسے عالم مایوس ہونا درست نہیں۔ سنہری سڑک پر ہوا سے باتیں کرتے ہوئے اسپ ِ تازی کی پشت پر سوا رہیرو جانتا ہے کہ اگر اُس کا ہدف موسیقی سے نابلد نہیں تو پھر ویگنرکی Prelude سے بہتر کوئی آپشن نہیں۔ اس دھن میں جب وائیلن کے سربلند ہوتے ہیں اور جب آرکسٹرا کی لہر اپنے عروج پر پہنچتی ہے تو موسیقی صوت وصدا کی حدودوقیود سے ماورا ہوکرآفاقیت کے پیرائے میں ڈھل جاتی ہے۔
چلیں جرمن موسیقی اور اوپیرا کو فی الحال ایک طرف رکھتے ہوئے صرف موسیقی کی ہی بات کرلیں۔ خدشہ ہے کہ وہ مذکورہ حشر ساماں پری زاد ، جسے موجودہ دور کی رومانوی اصطلاح میں Cool(واحسرتا)کہا جائے گا، پوچھ بیٹھے گی کہ یہ شور شرابا کیا ہے؟اگر آپ اس کی وضاحت کریںاور اگر وہ اسے سمجھنے میں کامیاب ہوجائے تو وہ کہے گی کہ یہ coolہے۔ اس کا مطلب یہ کہ بات بن گئی ہے اور آپ ، گاڑی سمیت، درست سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں، لیکن اگر وہ اس کو پسند کرنے سے بوجوہ قاصر رہے اور کہے کہ کچھ اور لگائیں توآپ اُسے اگلےا سٹاپ پر کوئی مناسب سی جگہ دیکھ کر گاڑی سے اتاردیں اور کہیں کہ آپ سے مل کر بہت خوشی ہوئی....الوداع۔گویا موسیقی سے نابلد محبوبہ بھی مخطوطہ ہی دکھائی دیتی ہے۔
جب ہم جوان ہورہے تھے تو سگریٹ پینا بلوغت کی علامت تھی۔ قیمتی لائیٹر اور اپنے پسندیدہ سگریٹ کے پیکٹ کے ساتھ آپ جوانی کی حدود میں قدم رکھتے تھے۔ ہمارا انداز کسی حد تک ہالی ووڈ کے ہیروز سے ملتا جلتا تھا۔ اُس وقت ہمیں نہ ویگنر سننے کا موقع میسر تھا اور نہ ہی بیتھون کا.... تاوقتیکہ آپ بیرونی ممالک کا سفر اختیار نہ کریں اور گراموفون ریکارڈ خرید کرلائیں۔ اُس وقت گراموفون بھی ہر گھر میں نہیں ہوتا تھا۔ کوئی کتنے ریکارڈ خرید کرلاسکتا تھا؟ جب میں ماسکو میں سفارت خانے میں فرائض سرانجام دے رہا تھا اور ایک موقع پر مجھےفرینکفرٹ جانے کا اتفاق ہوا تو میں نے بیتھون کی دھنوں کے ریکارڈ خریدے۔ میں اُنہیں اتنی احتیاط سے پاکستان لے کر آیا جیسے کوئی بہت نایاب جواہرات ہوں۔
اُس وقت ایسی اشیاء کے حصول کی تفریط کا آج کی افراط سے مقابلہ کریں اور دیکھیں کہ آج سائبر اسپیس میں آپ کے لیے کتنے بیش بہا خزانے صرف ایک کلک کے فاصلے پر ہیں اور اگر آپ کے پاس اچھا سا سائونڈ سسٹم ہے تو پھرآپ چشم زدن میں ایک دیومالائی دنیا میں داخل ہوسکتے ہیں۔ آپ صرف preludeہی نہیں بلکہ ویگنر کی تمام موسیقی سن سکتے ہیں۔ 1942کی Meistersingers کی ریکارڈنگ جبکہ Goebbels تھیٹر کی پہلی قطار میں بیٹھ کر سنا کرتا تھا، آپ کومدہوش کردے گی۔ یہ وقت تھا جب جرمن فورسز نے ا سٹالن گراڈ کا محاصرہ کیا ہوا تھا اور جنگ کا توازن اُن کے حق میں نہیں جارہا تھا لیکن German Philharmonic پورے عروج پر تھا۔ میںنے ایک مرتبہ یہ موسیقی اپنے بیٹے شہریار کو سنائی کہ کیا وہ اس کا ذوق رکھتا ہے یا نہیں۔ مجھے یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ وہ اس سے محظوظ ہورہا تھا۔ میں نے چیک کیا کہ کیا وہ دکھاوا تو نہیں کررہا لیکن وہ درحقیقت اس کا لطف لے رہا تھا۔
اگر میرے جیسا موسیقی کا طالب علم اوپیرا سے لطف لے سکتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ یہ دل کو چھو لینے والی موسیقی ہے۔ آپ کو اس کی تفہیم کے لیے موسیقی کےا سکول میں جانے کی ضرورت نہیں۔ ہو سکتا ہے کہ آپ اطالوی زبان کا ایک لفظ بھی نہ جانتے ہوںلیکن اگر آپ کی روح زندہ ہے ، یعنی اس میں موسیقی اور شاعری کا ذوق نہاں ہے، تو آپ اس کے سحر انگیز اثر سے نہیں بچ سکتے۔ مجھے اس بات کا اعتراف ہے کہ میں موسیقی کا بہت کم علم رکھتا ہوں۔ مجھے بہت سی چیزوں کا علم بھی نہیں ہوتا لیکن اتفاقاً سائبر اسپیس کی سیر کرتے ہوئے کچھ ہاتھ لگ جاتا ہے تو میں اس میں کھو جاتا ہوں۔ اس سال میں ویگنر کے گانے گانے والی عظیم ترین گلوکارہ Kirsten Flagstad ، جس کا تعلق ناروے سے ہے ، سے آشنا ہوا۔ اُس کی آواز اور ترنم اُس سے کہیں فزوں تر ہے جو آپ نے کبھی سنا ہو۔ کچھ عرصہ پہلے تک میں رچرڈ سٹراس کے آخری چار گانوں سے ناواقف تھا۔ اُس کا اصرار تھا کہ Flagstad اُنہیں گائے۔ اُس نے گایا لیکن اُس وقت تک رچرڈ کا انتقال ہوچکا تھا۔ Wilhelm Furtwangle کے ساتھ گایا ہوا گیت بے مثال ہوجاتا ہے۔
اس وقت میں کالم لکھتے ہوئے Entrance of the Gods سن رہاہوں۔ جی چاہ رہاہے کہ ویگنر کو اس ملک میں سمجھنے والوں کی تعداد زیادہ ہو۔ کیا ڈی جے بٹ اپنی دھنوں میں کچھ ویگنر کی آمیزش نہیں کرسکتا؟مثال کے طور پر Lohengrin Prelude کا کلائمکس۔ مجھے یقین ہے کہ اس سے جلسے کا ہجوم مزید وجد میں آجائے گا۔ ہمارے محترم چیف جسٹس صاحب کو یوٹیوب پر لگائی گئی احمقانہ پابندی کا نوٹس لینا چاہئے کیونکہ اس نے ہمیں اتنی عظیم تخلیقات سے محروم کررکھا ہے۔کورٹ روم میںویگنر کی موسیقی بہت اچھا سماں باندھ سکتی ہے۔ وائلن اور آرکسٹرا کی آمیزیش قانونی نکات کی تشریح کو بھی پرلطف بنا سکتی ہے۔ اس سے انسانی عقل اور دانائی کی بھی گرہیں کھلتی ہیں۔
کسی بھی قوم کے لئے دنیا میں مقام حاصل کرنے کے لئے تعلیم کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ تعلیم نہیں جو ہم نے خود پر واجب کررکھی ہے بلکہ عالمی تعلیم۔ اس کے بعد ہمیں اپنے ماحول کو شاپنگ بیگ سے پاک کرنا ہے اور تیسری ضرورت ویگنر ہے۔ حیران ہوں کہ ان لوازمات کے بغیر کوئی قوم ترقی یافتہ ،بلکہ مہذب کیسے کہلا سکتی ہے؟یہ چیزیں پہلے اور میزائل اور بم بعد میں۔ ایک قوم جو سراٹھا کر چلنے کی اہل ہواُس میں لوگوں کو یہ خوف لاحق نہیں ہوتا کہ ان کے افعال پردینی عالموںکا مزاج برہم ہوجائے گا ۔ وہ نام نہاد مذہبی جبر سے بے نیاز ہوکر زندگی بسر کرتے ہیں۔
جب ہٹلر کی افواج نے لینن گراڈ کا محاصرہ کیا ہوا تھا کہ شہر بھوک اور افلاس کا شکار تھا۔ خوفناک سردی تھی اور گرمی پہنچانے کا سامان ندارد۔ لوگ اپنے پالتو جانور تک کھا گئے تھے۔ لوگ بھوک سے مررہے تھے لیکن اس دوران یہ فیصلہ کیا گیا کہ اسکولوں میں بچوں کی تعلیم اور امتحانات متاثر نہ ہونے پائیں۔ اس کے علاوہ ارکسٹرا کی دھن بھی بجتی رہی۔ چنانچہ تعلیم اور موسیقی کسی بھی قوم کو جسمانی اور فکری قید سے رہائی دلا کر آزاد دنیا میں سانس لینے کے قابل بنا سکتی ہے۔آپ ایک مرتبہ اس کا فیصلہ کرلیں۔ یہ بہت ہی cool ہے۔ اس موسم ِ سرما میں آزمائش شرط۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *