میاں صاحب شیربنیں۔۔

Muhammad Umair

یہ 2010کی بات ہے اگست کا مہینہ تھا اور پاکستان کو اسوقت اپنی تاریخ کے بدترین سیلاب کا سامنا تھا۔ہزاروں لوگ اس سیلاب کی نذر ہوگئے جبکہ لاکھوں لوگ اپنے گھروں اور املاک سے محروم ہوگئے۔ٹی ویژن سکرین پر درد ناک مناظر دیکھ کر دل دہل جاتا تھا۔سیلاب سے متاثرہ لوگوں کو کھانے پینے کی سہولت تک میسر نہ تھی۔راشن کا بندوبست کرنے والے بہت تھے مگر مصیبت میں پھنسے ان لوگوں تک راشن پہنچانے والوں کا فقدان تھا۔ادویات دینے والے بہت تھیں مگر متاثرہ لوگوں تک ان ادویات کا پہنچنا محال تھا۔اسی دوران معلوم ہوا کہ فلاح انسانیت فاونڈیشن نامی ایک تنظیم طلباء کو سیلاب زدہ علاقوں میں لیکر جارہی ہے تاکہ سیلاب میں پھنسے لوگوں کی مدد کی جاسکے۔میں نے اس دن پہلی دفعہ فلاح انسانیت فاونڈیشن کا نام سنا تھا۔گھر والوں کو فون کرکے اپنا ارداہ بتایا اور والد صاحب نے اجازت دے دی،اسی دن شام کو میں اورشاہد نذیر جامعہ قادسیہ پہنچے جہاں لاہور کی دیگر یونیورسٹیز کے طالب علم بھی موجود تھے ۔بیس سے زائد طلباء کا گروپ بنا اور ہمیں بتایا گیا کہ ہم شام کو ٹرین سے سکھر جارہے ہیں۔
رمضان المبارک بھی شروع ہوچکا تھا۔ہم نے روزہ لاہور اسٹیشن پر کھولا جس کے بعد ٹرین کا سفر شروع ہوا اور ہم اگلے روز سکھر پہنچ گئے جہاں ہمارا قیام ایک ہائی سکول میں تھا۔اس ہائی سکول میں سیلاب سے متاثرہ 1600سے زائد لوگوں موجود تھے۔نہ تو ان لوگوں کے پاس کھانے کوکوئی سامان تھا اور نہ ہر سر ڈھانپنے کو کوئی سائبان،کچھ بیماری کے باعث موت کے منہ میں جارہے تھے تو کچھ اپنے پیاروں کے غم میں رو رو کر ہلکان تھے قیامت صغری کا منظر تھا۔سکول پہنچتے ہی فلاح انسانیت کے ایک عہدیدار نعیم بھائی سے ملاقات ہوئی،انہوں نے ہمیں کام کی ترتیب سے آگاہ کیا۔ہماری رہائش کے لئے مختص ایک کمرہ دکھایا اور فوری طور پر سب کو کام پر لگادیا۔یہ سکول سکھر بیراج کے قریب واقع تھا۔کسی کو کھانا دیتے وقت بات کرنے کے لئے کیا پوچھنا ہے اس کے لئے ہمیں سندھی بولی بھی سکھائی گئی۔سحری کے وقت ہم اٹھتے تھے سب سے پہلے سکول اسکے بعد سکھر بیران کے پار ایک کیمپ میں مقیم لوگوں میں کھانا تقسیم کرتے،واپسی پر خود کھانا کھاتے،صبح8بجے میڈیکل کیمپ میں جاتے شام کو افطاری کا سامان تقسیم کرتے،اس دوران سکول میںآنے والے سامان کی پیکنگ ،ٹرکوں سے سامان اتارنے اور چڑھانے کا کام بھی ہوتا،کچھ لوگ میڈیکل کیمپ میں تو کچھ ٹرکوں پر چڑھ کو کچے کے علاقے میں سامان تقسیم کرنے جاتے تھے۔سات روز ہمارا یہی معمول رہا۔
فلاح انسانیت والے کیا ہیں یہ ان کے ساتھ رہ کر کام کرکے پتہ چلا،جوشخص یا تنظیم بھی سامان لیکرآتی تھی وہ بغیر کسی رسید کے سامان دیکر جاتے تھے کیونکہ ان کو یقین تھا یہاں دیا ہوا سامان مستحقین تک ضرور پہنچے گا۔کچے کے دور دراز علاقوں میں جہاں کوئی نہیں پہنچتا تھا وہاں فلاح انسانیت کے لوگ گھنٹوں تیر کر پہنچتے اور لوگوں کو پانی سے نکال کرلاتے۔جیسا کہ پہلے ذکر کیا ہے سامان بہت تھا مگر اس کی تقسیم مشکل تھی۔USAIDجیسے ادارے نے متاثرین کی مدد کا سامان فلاح انسانیت فاونڈیشن سے تقسیم کروایا جس پر ایک ہنگامہ برپا ہوا۔گزشتہ سات سالوں میں یہ تنظیم بھرپور طریقے سے منظم ہوئی ،لاہور ،اسلام آباد سمیت سندھ،جنوبی پنجاب کے دور دراز علاقوں میں ان کے کارکن ہمہ وقت موجود ہوتے ہیں کوئی حادثہ ہو یا قدرتی آفت ،لوگوں کی مدد کے لئے یہ سب سے پہلے پہنچتے ہیں۔ملک کے تمام بڑے ہسپتالوں میں ان کی ایمبولینس سروس،واٹر فلٹریشن پلانٹ،فری دستر خوان سمیت دیگر کئی اہم پراجیکٹس چل رہے ہیں۔حافظ سعید صاحب کی نظر بندی کے بند اب حکومت کی جانب سے فلاح انسانیت فاونڈیشن پر بھی پابندی لگائی جارہی ہے،ہسپتالوں سے فلاح انسانیت فاونڈیشن کی ایمبولینسس کو ہٹادیا گیا اور ان کے کیمپ اکھاڑے جارہے ہیں۔
حافظ سعید صاحب کی نظر بندی اور فلاح انسانیت فاونڈیشن پر پابندی پر لاہور،تھرپارکر،مٹھی،سکھر،اسلام آباد جیسے شہروں میں مظاہرے اس بات کا اعلان ہیں کہ امریکی اشاروں پر لگنے والی یہ پابندیاں عوام کو قبول نہیں ۔فلاح انسانیت لاہور یا مریدکے کی جماعت نہیں ،اس کا دائرہ کار پورے ملک میں پھیل چکا ہے۔حکومت وقت سے سوال ہے کہ اگر ان فلاحی سرگرمیوں پر پابندی سے کسی کی جان چلی گئی تو اسکا خون کس کے سر ہوگا؟امریکہ اور یورپ کے لوگ مسلمانوں پر پابندیوں لگانے پر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مظاہرے کررہے ہیں اور ہم امریکہ صدر کے اشارے پر اپنے ہی لوگوں پر پابندیاں لگارہے ہیں۔میاں صاحب یہ وقت اپنے لوگوں کے لئے سٹینڈ لینے کا ہے،آپ الیکشن مہم کے دوران سابق صدر پرویز مشرف کو ایک کال پر امریکہ کے سامنے لیٹنے کا طعنہ دیتے تھے ،اپ ایٹمی دھماکے کرنے اور امریکہ کا دباو نہ لینے کا کریڈٹ لیتے تھے میاں صاحب یہ وقت بھی کریڈٹ لینے کاہے شیربننے کا ہے کھڑے ہونے کا ہے ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *