ڈیڈلاک کا خاتمہ

نجم سیٹھیNajam Sethi

کھٹمنڈو میں ہونے والی اٹھارویں سارک کانفرنس کسی قدردکھ کے اظہار کے ساتھ اپنے اختتام کو پہنچی۔ اس میں شریک تمام رہنمائوں نے جنوبی ایشیا سے تعلق رکھنے والے 1.6بلین افراد ، جو خط ِ غربت سے نیچے زندگی بسر کرتے ہیں ، کے دکھوں کا مداوا کرنے کے لئے باہمی علاقائی تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔ یہ خطہ عالمی پیداوار کا صرف تین فیصد اور عالمی برآمدات کا صرف دو فیصد رکھتا ہے۔ اس میں سارک ممالک کے درمیان تجارت کا حجم صرف پانچ فیصد ہے جبکہ اس کے مقابلے میں یورپی یونین کے ممالک باہمی طور پر چھیاسٹھ فیصد ، NAFTAکے ممالک 53 فیصد ، پان پیسفک ریجن 25 تجارتی روابط رکھتے ہیں۔
سارک ممالک باہمی تجارتی معاہدے، جس میں انرجی، ٹرانسپورٹ اور کامرس کے شعبے شامل ہوں، پر دستخط کرنے پر راضی نہیں ہوسکے۔ درحقیقت پاکستان اور بھارت کے رہنمائوں کا رویہ سارک کے وجود میں آنے (کم و بیش انتیس برس) سے لے کر اب تک اس کی ناکامی کا بڑی حد تک ذمہ دار ہے۔ یہ دونوں حریف ممالک اس پلیٹ فارم سے فائدہ اٹھاکرمذاکرات کرنے کے مواقع تلاش کرنے اور اپنے سنگین مسائل پر بات چیت کرنے پر بھی راضی نہیں ہوسکے۔
پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف نے کانفرنس میں شریک اپنے ہم منصب رہنمائوں پر زور دے کرکہا کہ وہ باہمی معاشی تعاون بڑھانے کے لئے اپنے سیاسی مسائل حل کریں( اس کا اشارہ اپنے بھارتی ہم منصب کی طرف تھا کہ وہ کشمیر کا مسلہ حل کرنے کی طرف بڑھیں) جبکہ بھارتی وزیر ِ اعظم نریندر مودی نے دہشت گردی کے خطرے سے نمٹنے کی ضرورت پر زور دیا(اُن کا اشارہ ممبئی حملوں کی طرف تھا جس میں بقول اُن کے ، پاکستان کا ہاتھ تھا)تاکہ تعلقات کو معمول کی سطح پر لایا جاسکے۔ اس طرح پاکستان کی پوزیشن یہ ہے کہ کسی شرط کے بغیر مربوط مذاکرات شروع کیے جائیںجبکہ بھارت کا موقف یہ ہے کہ ایسا کرنے سے پہلے پاکستان اُن دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرے جو ممبئی حملوں کے ذمہ دار ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ 1999 سے ، جب بھارت نے لاہور کانفرنس کے دوران پاکستا ن کو مربوط مذاکرات کی پیش کش کی تھی، اب تک یہ پاکستان تھا جو مذاکرات کے لئے مسلہ ٔ کشمیر کے حل کی شرط لگاتا تھا۔ اب پاکستانی پیش کش کے جواب میں بھارت ممبئی حملوں کے ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کرنے کی بات کرتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ 2004-2007کے دوران پاکستان اور بھارت کے درمیان بیک چینل ڈپلومیسی نے کافی پیش رفت دکھائی اور کشمیر کے مسئلے کا ’’آئوٹ آف باکس‘‘حل تلاش کرنے کی کوشش کی، لیکن 26/11حملوں نے اُس عمل کو پٹری سے اتاردیا۔ اس طرح 2013میں نواز شریف کے اقتدار سنبھالنے کے بعد پاکستان بھارت کو ایم ایف این دینے کا سوچ رہا تھا لیکن وزیر ِ اعظم مودی نے اس سال اگست میں سیکرٹری خارجہ کی سطح پر ہونیو الی بات چیت منسوخ کردی۔ بھارت نے وہ بات چیت کیوں منسوخ کی؟بھارت کا کہنا ہے کہ اس نے نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کو ہدایت کی تھی کہ وہ بات چیت سے پہلے سفارت خانے میں کشمیری رہنمائوں سے ملاقات نہ کرے ۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ بھارتی سیکرٹری خارجہ پاکستانی ہائی کمیشن آئے جبکہ اُس وقت ایک کشمیری رہنما ، صابر شاہ سفارت خانے میں موجود تھے ۔ ایک اور رہنما کا دورہ اگلے دن متوقع تھا۔ اُس موقع پر بھارت کی طر ف سے اُن سے ملاقات نہ کرنے کی نصیحت ماننے میں نہ صرف پاکستان کی تضحیک کا پہلو نکلتا تھا بلکہ اس سے کشمیری رہنمائوں کے اسلام آباد سے تعلقات خراب ہونے کا بھی اندیشہ تھا۔ تاہم اگر یہ پیغام حریت رہنمائوں کی آمد سے کچھ دن پہلے پہنچا دیا جاتا توپاکستانی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ بھارت کی خواہش کا احترام کرتے تاکہ کسی طور پر بات چیت کا آغاز ہوسکے۔ بعد میں جب نواز شریف نریندر مودی کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کے لئے نئی دہلی گئے تو اُنھوں نے حریت رہنمائوںسے ملاقات نہیں کی۔ اس سے سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر بھارت نے اسے اتنا بڑا ایشو کیوں بناتے ہوئے مذاکرات سے پہلو تہی کی؟
پاکستان کے ساتھ مذاکرات کو ختم کرنے کا مسٹر مودی کو مقبوضہ کشمیر کے انتخابات میں فائدہ ہوا۔ جب سے اُنھوں نے وزارت ِ اعظمیٰ کا منصب سنبھالا ہے، وہ پانچ مرتبہ کشمیر کا دورہ کرچکے ہیںتاکہ وہاں کے ہندوووٹ اور ا س سے پہلے کانگریس کو ملنے والے مسلم ووٹ کو اپنے حق میں کرسکیں۔ مسٹر مودی کی اس کاوش کے نتیجے میں بی جے پی کوریاست کی اسمبلی میں ستاسی نشستیں حاصل ہوگئیں۔ ان حالات میں اُن کی پالیسی یہ ہوسکتی ہے کہ حریت کے رہنمائوں کے پاکستان کے روابط کو نقصان پہنچاتے ہوئے اسلام آباد کے ساتھ بات کی جائے۔
اگر معقولیت کی بات کریںتو کشمیر میں انتخابات کے بعد اب مسٹر مودی سیکرٹری خارجہ کی سطح پر پاکستان کے ساتھ بات چیت کے حق میں ہیں تاکہ پاکستان کے ساتھ تجارتی امکانات کو بڑھانے کے لئے درکار ایم ایف این کا درجہ حاصل کیا جاسکے۔ حقیقت یہ ہے کہ دوطرفہ تجارت میں بھارت کو زیادہ فائدہ ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ مودی کی ہم خیال لابی پاکستان کے بارے میں اظہار ِخیال میں محتاط ہے۔ ایم ایف این حاصل کرنے سے بھارت مارکیٹ کے دروازے نہ صرف دو ملین پاکستانیوں پر کھل جائیں گے بلکہ اس سے گزر کر تین سو ملین وسطی ایشیائی باشندوں تک بھی۔ اس عظیم تجارتی پہنچ کے لئے بھارت کو پاکستانی سڑکوں کی ضرورت ہے۔ اس سے پاکستان کو بھی بے پناہ فائدہ ہوگا۔ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان ڈیڈلاک کا خاتمہ ہو۔ بھارت کو غیر ملکی مارکیٹوں کی ضرورت ہے جبکہ پاکستان کو اپنی سرحدوں پر سکون چاہئے۔ دونوں نے دہشت گردوں کے ہاتھوں بہت زک اٹھائی ہے۔ فاٹا میں پاک فوج کی کارروائیوں، پکڑے جانے والے اسلحہ اور جانی نقصان کے بعد اب تک اُن پاکستانیوں کا شبہ دور ہوچکا ہوگا جو یہ کہتے نہیں تھکتے تھے کہ یہ ہماری جنگ نہیں ۔ ہماری طرف سے ضروری ہے کہ ممبئی حملوں کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کریں تاکہ بھارت کا اعتماد بحال ہو اور دونوں ممالک اچھے مستقبل کی طرف قدم بڑھاسکیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *