بیچاری کتاب

سید محمد سعد

syed muhammad saad

شیخ سعدی فرماتے ہیں کہ موتی اگر کیچڑمیں بھی گر جائے تو بھی قیمتی ہے اور اگر گرد آسمان پر بھی چڑھ جا ئے تو بھی بے قیمت ہے ؛ میر ی اس بات کا صرف اور صر ف ایک ہی مقصود ہے وہ ہے علم ۔ علم چاہے پرانا ہو یا نیا ۔ تھوڑا ہو یا زیادہ ایک قیمتی موتی ہی رہتا ہے ۔ اور اسکی روشنی کو جتنا استعمال کیا جائے اتنا ہی بڑھتا چلا جاتا ہے کئی اہل علم حضرات کہتے ہیں کہ علم ایک سمندر ہے لیکن ادب کیے ساتھ ان سے اختلاف کرتے ہو ئے کہتا ہوں کہ علم ایک حّسن ہے جو صرف اپنے چاہنے والے ہی کو پسند کرتی ہے نہ کہ ہر ارے غیرے کو۔قارئین آج اپنے قلم سے اس مسئلے کی طرف توجہ دینے کی کوشش کی ہے جس کو میں اورآپ مسئلہ ہی نہیں سمجھتے ۔میر ے دوستوں یہ مسئلہ ؛کتاب نہ پڑھنے کا ہے۔ کتب بینی سے دوری کا ہے ؛ ساتھیوں پوری دنیا میں جو قوم بھی ترقی کی منزل جانب بڑھی ہے اس نے کتاب سے دوستی کی ہے اور کتابوں کے ذریعے ایسے انقلاب لائے کے دنیا ایک عالمی گاوٗں کی صورت اختیار کر گیا ۔ لیکن خوش قسمتی سے اس سرزمین پاکستان میں دنیا کی سب سے زیادہ نوجوان آبادی ہے جو کل آبادی کا ۴۴فیصد ہے لیکن پھر بھی یہ ترقی پذیر اور علم کے میدان میں چند ہی ناموں کے ساتھ دنیا میں پہچانا جاتا ہے ۔جہاں تک اسکے تعلیمی میدان کی کارکردگی کا تعلق ہے وہ ایک خواب ہی ہے ۔ دنیا میں اسکے تعلیمی ادارے کہیں بھی اعلیٰ مقام نظر نہیں آتا ۔دوسری جانب اس ملک کے نوجوان بھی تعلیم کی طرف کوئی خاص توجہ نہیں دیتے ۔اس ملک کے تقریباہر شہر اور ہر سکول اور کالج ۔ یونیورسٹی میں نصابی کتابوں کے علاوہ دیگر اہم موضاعات کی کتابیں لائبریری میں سالوں تک پڑی رہتی ہے لیکن طلبہ نصابی کتابیں جنہیں صرف امتحان پاس کرنے کی غرض سے پڑھتے ہیں لیکن دیگر شعراء اور غیر نصابی کتابوں کو ہاتھ لگانا بھی جرم سمجھتے ہیں ۔پاکستان میں آج کے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں موبائیل ،کمپیوٹر ، لیپ ٹاپ ، اور سوشل میڈیا میں pagesلائک کر کے اسے اپنی غیرنصابی سرگرمیاں اور اسکو پڑھی بھی سمجھتے ہیں ۔ لیکن وہ کتابیں جو کسی سکول ، کالج ۔یونیورسٹی کے لائبریری میں الماریوں پڑی ہیں انھیں پڑھنے کی زحمت نہیں کرتے اور اسکو اپنے لیے بوجھ سمجھتے ہیں ، تو اس حا ل میں بیچارے کتاب کیا کرے اور وہ تو بول بھی نہیں سکتے ۔ ہائے رے افسوس۔۔۔۔۔Image result for sad bookقارئین جب اسکے دوسرے رخ دیکھا جائے اور ان نوجوانوں کی باتیں کی جائے جو کتاب پڑھنے کا شوق رکھتے ہیں اور کتاب پڑھنے کی غرض سے لائبریریوں کا رخ کرتے ہیں انھیں بھی کئی مسائل کا سامناکرنا پڑتا ہے یہ نوجوان حضرات کہتے ہیں کہ ہمیں غیر نصابی کتابیں پڑھنے کا شوق ہے اور ہم چاہتے کہ ہم بھی علامہ اقبال ، فیض احمد فیض ، اشفاق احمد ، مشتاق یوسفی ، سعادت حسن منٹو،اور کئی دیگر اہل علم و دانش کی کتابوں سے مستفید ہوں لیکن پہلے تو ان کی کتابیں موجود نہیں ہوتی اور جہاں مل جائے وہاں کا عملہ ان کتابوں کو گھر ساتھ لے جانے کی اجازت نہیں دیتے اور انکا کہنا ہوتا ہے کہ انکو لائبریری میں ہی پڑھ لیں ۔اور ساتھ ہی ان جوجوانوں کا کہنا ہوتا ہے کہ ہم سکول یہ کالج ٹائم پر اسے نہیں پڑھ سکتے اس لیے ساتھ گھر لے جانا چاہتے ہیں اور پڑھنا چاھتے ہیں جبکہ لائبریری انتظامیہ کہتے ہیں کہ یہ کتابیں واپس ہمیں نہیں ملتی اس لیے ساتھ گھر لے جانے کی اجازت نہیں دیتے اور بدقسمتی سے یہ ہماری قومی ذہنی سوچ بھی ہے کہ یہ سرکار کا مال ہے اسے واپس کر کے کیا فائدہ ۔۔لیکن ددسری جانب جب ان لوگوں کا پتہ کر یں جو واپس نہیں کرتے انکی تعداد بھی آٹے میں نمک کے برابر ہے اور یہ صرف ایک بہانہ ہے جو ہمارے ملک پاکستان میں ہر اس بندے کو پسند ہے جو کسی بھی جگہ کا مالک ہے ۔ قارئین ان تمام باتوں کا صرف ایک ہی مقصد ہے کہ اس ملک میں کتابیں پڑھنے والوں کی کشرت ہو اور دیگر بدی کرنے والوں کو کم کیا جائے ۔ اور اس ملک کے نوجوانوں کو کتاب کی راہ دکھائی جائے نہ کہ اسکو نشے اور دیگر فضولیات کا دلدادہ بنایا جائے ۔میر ی بھی اس ملک کے حکمرانوں سے التجا ہے کہ کتاب پڑھنے والوں کی حوصلہ افزائی کی جائے ۔اور اس کے نوجوانوں میں کتب بینی کا شوق پھر سے زندہ کیا جائے جو کئی دہائیوں سے مر چکا ہے ، اور پچھلے دنوں اس ملک کے وزیر اعظم نے اپنی کتاب کو پنجاب کی لائبر یری میں پڑھنے کہا ہے تو میر ی ان سے گزارش ہے براہ کرم جوانوں کے لیے بھی کوئی انتظام فرمائیں اور ملکی سطح ایک پروگرام شروع کریں جسکا مقصد صرف نوجوانوں میں کتب بینی کے شوق کو ابھرنا ہو، اور اس مقصد کے لیے نوجوانوں میں مفت کتب کی تقسیم کی جائے اور یہ کام کوئی جوئے شیر لانا نہیں ہے اسکے لیے صرف تھوڑی سی ہمت کی ضرورت ہے اور یہ کام وقت کی ضرورت بھی ہے ، اور ابھی اس مسئلے پر توجہ نہ دہ گئی تو پاکستان کا ترقی کرنا صرف خواب ہی رہے گا اور اسکو حقیقت بنانا مشکل ہوگا ، اور قوموں کی حقیقی ترقی علمی کی روشنی پھیلا کر اور کتاب کی محبت پیدا کر کے ہی ہوتی ہے۔قاریئن ایک آخری بات اپکے پاس چھوڑے جاتا ہوں اور اس پر تھوڑا سوچئے گا ۔: عقل مند اور بے وقوفوں میں کچھ نہ کچھ عیب ضرور ہوتے ہیں مگر عقل مند اپنے عیب خود دیکھا لیتا ہے اور بے وقوفوں کے عیب دنیا دیکھتی ہے!!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *