پاکستان کے سوتیلے بچے افغان مہاجرین

ڈوبتی امیدیں

afghan children 10

30 سال قبل ایک افغان لڑکی کی مایوسی کی تصویر نیشنل جیوگرافی میگزین کے کور پر شائع ہوئی تھی۔ کچھ عرصہ قبل جب اس خاتون کی دوبارہ تصویر چھپی تو اس بار معاملہ بہت مختلف تھا۔ اس موقع پر اس خاتون کو عدالت میں پیش کیا جانے والا تھا جس کے بعد اسے واپس افغانستان بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اب اس لڑکی کی معصومیت اور آنکھوں کی خوبصورتی غائب ہو چکی تھی اور اس کے چہرے سے اس کے دکھ نمایاں تھے۔ اس کا جرم یہ تھا کہ اس نے غیر قانونی طور پر پاکستان کا شناختی کارڈ حاصل کرنے کی کوشش کی تھی۔ وہ اس ملک میں اس سے زیادہ عرصہ گزار چکی تھی جو اس نے
اپنے آبائی ملک افغانستان میں گزارا تھا۔

 شربت گلہ ایک ایسی خاتون تھی جو افغانستان کی دہشت اور خوف کی فضا سے بھاگ کر پاکستان آنے وال
ے 2 ملین کے قریب مہاجرین میں سے تھی۔ ایک انٹرویو میں اس نے کہا تھا کہ افغانستان صرف میری جائے پیدائش ہے۔ میرا اصل گھر پاکستان ہے۔ لیکن پاکستان نے کبھی شربت گلہ کو اپنا نہیں مانا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ وہ نیلے رنگ کا برقعہ پہنے افغانستان کے طور خم بارڈر کے راستے واپس اپنے پیدائشی ملک چلی گئی۔ اس عورت کی طرح باقی افغان مہاجرین بھی قید، رشوت خوری، تشدد، ہراساں کیے جانے اور دھمکیوں جیسی مشکلات کا سامنا کرتے آئے ہیں۔ افغانستان میں صرف دو تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔

 عبد الجبار جو کچھ دن قبل پاکستان میں تھے اب افغانستان کے علاقے جلال آباد میں رہتے ہیں۔ ان کی 70 سالہ زندگی میں سے انہوں نے 40 سال پاکستان میں گزارے ہیں۔ ان کی طرح بہت سے افغان مہاجرین جب واپس افغانستان گئے تو ان کے گھر یا تو جنگ کی نذر ہو چکے تھے یا ان پر کسی اور کا قبضہ ہو چکا تھا۔ عبدالجبار کو اپنے بیٹوں کے کاروبار کی بھی فکر لگی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے بیٹے پشاور میں سبزیاں وغیرہ بیچ کر کافی رقم کما لیتے تھے لیکن جب سے وہ افغانستان واپس پہنچے ہیں انہیں کمائی کا کوئی ذریعہ نہیں مل رہا ہے۔ ان مہاجرین کے لیے ہر نیا دن ایک نئی مصیبت لے کر آتا ہے۔ ذیل میں ہم کچھ افغان مہاجرین کی کہانیاں بیان کریں گے۔

ناصر خان۔ جب میں نے اپنے مرتے ہوئے بچے کو ڈاکٹر کو دکھایا تو اس نے مجھے اس کے علاج کے لیے پاکستان جانے کا مشورہ دیا۔

afghan children 7زیادہ تر ممالک میں پاکستان کا امجیج اچھا نہیں ہے۔ لیکن افغانیوں کے لیے پاکستان علاج کے لیے ایک اچھی جگ
ہ ہے۔ چونکہ افغانستان کا شعبہ صحت اچھی کارکردگی نہیں دے پا رہا اس لیے جب افغانیوں کو صحت کے مسائل پیش آئیں تو وہ پاکستان یا بھارت کا رخ کرتے ہیں۔

جولائی 2016 میں ڈان کو انٹرویو دیتے ہوئے رحمان میڈیکل انسٹیٹیوٹ کے ڈائریکٹر طارق خان نے کہا کہ طور خم پر ہونے والے فائرنگ کے تبادلے سے قبل ہسپتال میں نصف سے زیادہ تعداد افغان مریضوں کی ہوتی تھی۔ لیکن اب 400 میں سے صرف 100 کے قریب افغانی مریض موجود ہیں۔ صحت کی سہولیات کی وجہ سے ہی ایک اور افغان عورت رابعہ پاکستان کے شہر کوئٹہ میں اپنے 2 سالہ بچے کے علاج کے لیے آنے پر مجبور ہوئی۔ اس کا بچہ مصور بچپن سے ہی بیماریوں کی زد میں تھا۔ وہ ہمیشہ سے کمزور تھا اور ماں کا دودھ نہیں پیتا تھا۔ افغانستان کے علاقے کندوز کے بیشتر ڈاکٹرز سے علاج کے بعد اسے صرف مایوسی ہی ہوئی تھی۔ انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ڈاکٹروں نے مختلف علاج کیے اور ہر بار امید ہوئی کہ اب یہ ٹھیک ہو گا لیکن اس کی صحت مزید خراب ہوتی چلی گئی۔

 جب وہ اپنے بیٹے کو قندوز کے بڑے ہسپتال میں لے کر گئی تو ایک ڈاکٹر نے مشورہ دیا کہ بچے کو پاکستان لے جاو۔ اپنے بچے کو مرتا نہ دیکھنے کی  خواہش لے کر وہ پاکستان جانے پر راضی ہو گئی۔ مالی مشکلات کے باوجود اس کے خاوند نے جو ایک کسان ہے انہیں پاکستان بھیجنے کے لیے رقم کا بندو بست کیا۔ اس نے رابعہ اور مصور کو پاکستان بھیج دیا۔ وہ خود اس لیے نہیں آیا کہ بارڈر محکمہ کے لوگ ان کے لیے مشکلات پیدا نہ کریں۔ عورتوں کو افغانستان سے پاکستان آنے میں زیادہ مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ اس خاندان کو اپنی بکری بیچ کر کار کے ذریعے قندوز سے کابل آنا پڑا۔ اگلے دن وہ قندھار گئے جو 500 کلومیٹر کے فاصلے پر تھا۔ 200 کلو میٹر مزید طے کر کے وہ پاکستان کے شہر کوئٹہ پہنچے۔

وہاں پہنچ کر انہیں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ڈاکٹروں نے علاج کے لیے بڑی رقم کا مطالبہ کیا لیکن ان کے پاس کچھ نہیں تھا اور ساری رقم سفر میں خرچ ہو چکی تھی۔ انہیں بتایا گیا کہ بچے کو خون کی ٹرانسفیوژن کی فوری ضرورت ہے۔ رابعہ یہ سن کر گھبرا گئی ۔ وہ اکیلی تھی اور اس کے پاس پیسے بھی نہیں تھے۔ اس کے خاوند نے فون پر اسے تسلی دی اور بھروسہ قائم رکھنے کو کہا۔ بہت جلد مسئلے کا حل نکل آیا۔ وہ ایم ایس ایف ڈاکٹرز وِد آوٹ بارڈرز ہسپتال میں بچے کو لے گئی جہاں اس کا مفت علاج ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ اب مصور بہتر ہو رہا ہے لیکن مجھے نہیں معلوم کہ وہ مکمل طور پر صحت مند ہو گا یا کمزور رہے گا۔ میں تھک چکی ہوں۔ اس انٹرویو کے دو دن بعد مصور کی موت واقع ہو گئی۔ اسے خراب خوراک اور سیپسِز کی بیماری لاحق تھی۔

ٹوٹتے ہوئے رشتے

afghan children 3ملک اچک زئی

گھر کسی جگہ کا نام ہے یا دل کے سکون کا؟ کچھ لوگوں کے لیے گھر وہ ہے جہاں وہ پیدا ہوتے ہیں اور کچھ لوگوں کا گھر وہ ہوتا ہے جہاں ان کے خاندان کے لوگ رہتے ہیں۔ 45سالہ فریدہ صدیقی پاکستان کو اپنا گھر سمجھتی ہیں جہاں وہ اپنے خاوند اور دو بچوں کے ساتھ رہتی ہیں۔ لیکن پاکستان انہیں اپنا شہری ماننے کو تیار نہیں ہے۔ جب اس نے نادرا اہلکاروں کو اپنا نکاح نامہ دکھایا تو وہ مشکوک نظروں سے اسے دیکھنے لگے۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے افغان مہاجرین پاکستانی شناختی کارڈ حاصل کرنے کے لیے جعلی شادی کر لیتے ہیں۔انہیں کچھ یوں جواب ملا:  ہم آپ کی درخواست منظور نہیں کر سکتے کیونکہ ہمیں آپ کی شادی کے اصل ہونے پر شک ہے۔ نادرا صرف ان شہریوں کو شناختی کارڈ جاری کرتا ہے جو دستاویزی ثبوت کے ذریعے یہ ثابت کریں کہ ان کا کے والدین میں سے ایک شخص پاکستانی ہو۔

کوئی قانون مدد گار نہیں ہے

افغان مہاجرین کے لیے پاکستان کی شہریت ایک معمہ رہا ہے۔ پاکستان سٹیزن شپ ایکٹ 1951 کے تحت  صرف وہ شہری جو پاکستان میں پیدا ہوتے ہیں اس ملک کی شہریت کے حق دار ہیں لیکن جن لوگوں کے والدین غیر ملکی ہوں انہیں یہ شہریت نہیں دی جا سکتی۔ پاکستان 1951 کے مہاجرین کنوینشن کے معاہدے میں شامل نہیں ہے ۔ اس لیے پاکستانی حکومت کے مطابق کسی بھی مہاجر کو شہریت دینا لازمی نہیں ہے۔ تمام افغان مہاجرین کو پروف رجسٹریشن کارڈ دیا جاتا ہے جس میں لکھا ہے کہ وہ مہاجر کی حیثیت سے پاکستان میں عارضی طور پر رہائش اختیار کر سکتے ہیں۔ آرمی پبلک سکول اور باچا خان یونیورسٹی پر حملوں کے بعد افغان مہاجرین جن میں زیادہ تر پشتون ہیں پر نگرانی سخت کر دی گئی۔ نئے نیشنل ایکشن پلان کے مطابق مہاجرین کو رجسٹریشن مہیا کرنے کے معاملے میں سخت پالیسی اختیار کی جائے گی۔

بڑھتی ہوئی غیر یقینی کی صورتحال

افغان مہاجرین کو رجسٹریشن کارڈ جاری کرنے کی بجائے حکومت ان مہاجرین کو واپس بھیجنے کی پالیسی پر کاربند ہے اور یہ سلسلہ آرمی پبلک سکول پر حملے سے کافی عرصہ قبل سے چل رہا ہے۔ 2010 میں حکومت نے افغان مینیجمنٹ اور مہاجرین کی واپسی کی پالیسی اختیار کی اور 2012 میں سلیوشن سٹریٹجی فار افغان رفیوجیز کی پالیسی متعارف کروائی گئی۔ ان دونوں پالیسیوں کا مقصد اقوام متحدہ کے مہاجرین کمیشن اور افغانستان حکومت کے تعاون سے مہاجرین کی واپسی ہے۔ آرمی پبلک سکول حملے کے بعد حکومت نے مہاجرین کی واپسی کا عمل تیز کرنے کی ٹھانی اور اعلان کیا کہ عارضی رجسٹریشن کارڈز 2015 تک قابل قبول ہوں گے اور اس کے بعد تمام افغان مہاجرین کو واپس اپنے وطن جانا ہو گا۔ کچھ عرصہ بعد حکومت نے ان رجسٹریشن کارڈز کی مدت 2016 کے اختتام تک وسیع کر دی۔ اس کے بعد یہ توسیع مارچ 2017 تک بڑھا دی گئی۔

سراجدین اور عبد الروف یوسف زئی

ایسی پاکستانی عورتیں جو افغان مردوں سے شادی کے رشتے میں جڑی ہیں کا ہر دن غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔ کچھ عرصہ قبل ایسی خواتین نے پشاور میں اپنے شوہروں کی ملک بدری کے خلاف مظاہرہ بھی کیا۔ مظاہر ے میں عورتوں نے ایک پلے کارڈ اٹھا رکھا تھا جس پر لکھا تھا: نواز شریف، خدا کے لیے ہمارا ساتھ دو۔ ان خواتین میں سے ایک عورت رضیہ بھی تھی جس نے 1992 میں ایک افغانی مرد سے شادی کی اور اب اس کے 6 بچے ہیں۔ 20 سال خوشگوار شادی شدہ زندگی گزارنے کے بعد اب اس خاتون کا مستقبل غیر یقینی کی صورتحال کا شکار ہے۔ رضیہ افغانستان جانے کے لیے راضی نہیں ہے لیکن اس کے خاوند کے پاس دوسری کوئی آپشن بھی موجود نہیں ہے۔ افغان مہاجرین پر ہونے والے کریک ڈاون کا مطلب ہے کہ خاندان کا بٹوارہ ہو کر رہے گا۔ ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے رضیہ نے کہا: میں پاکستانی ہوں ۔ میرے بچے پاکستانی ہیں۔ ہم سب یہاں پلے بڑھے ہیں۔ حکمران ہماری بات سننے کو تیار ہی  نہیں ہیں۔ نوشین بی بی کو دھندلا سا یاد ہے جب ان کا بھائی روسی فوجیوں کے خلاف لڑتا ہوا اللہ کو پیارا ہو گیا۔ تب وہ صرف 3 afghan children 5سال کی تھیں۔

آج 37 سال بعد بھی اس دن کی یاد ان کو  خوف میں مبتلا کر دیتی ہے۔ انہیں بچپن کی سب سے اچھی بات جو یاد ہے وہ تب کی ہے جب ان کے والدین قندوز سے نکل کر پاکستان پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔ تب سے وہ پشاور اندرون شہر میں رہائش پذیر ہیں ایک اچھی زندگی جی رہی ہیں۔ کچھ سال بعد ایک پاکستانی نوجوان اپنی خالہ کو ملنے ان کے علاقے میں آیا تو نوشین کو وہ پسند آ گیا۔ نوشین نے شرماتے ہوئے بتایا کہ ہم دونوں نے شادی کا فیصلہ کر لیا اور ہمارے خاندان نے ہماری خواہش پر آمادگی ظاہر کر دی۔ اب نوشین کے ہاں تین بچیاں اور دو بیٹے ہیں۔ سب سے بڑا بیٹا کالج میں پڑھتا ہے اور چھوٹا بیٹا 4 سال کا ہے۔ نوشین کے بچے پشاور میں پیدا ہوئے۔ اس کے سسرال کے لوگ اور خاوند بھی پاکستانی ہیں لیکن وہ خود آج بھی افغان مہاجر ہے۔ انہوں نے کہا: میں پاکستان سے جانے کا سوچ بھی نہیں سکتی۔ میں اپنے بچوں اور خاوند کو کیسے چھوڑ کر جا سکتی ہوں؟

ایک ماں نے اپنی بچی کو سینے سے لگاتے ہوئے کہا کہ حکومت ہمارے خاندان کو توڑنے پر تلی ہے۔ اس ماں کو ڈر ہے کہ افغانستان جا کر اس کے بچوں کا مستقبل کیا ہو گا۔ انہوں نے کہا: کیا آپ کو لگتا ہے کہ افغانستان میں میرے بچوں کو ایسی تعلیمی اور صحت کی سہولتیں مل سکتی ہیں جو پاکستان میں مل رہی ہیں؟  انہوں نے مزید پیشین گوئی کرتے ہوئے کہا: مجھے نہیں لگتا اگلے 50 سال تک افغانستان میں امن قائم ہو پائے گا۔ حیرت کی بات ہے کہ ان کا پاکستانی خاوند پاکستان میں نہیں رہتا۔ وہ  سعودی عرب میں کام کرتا ہے اور اپنے خاندان کو پیسے بھیجتا ہے جس سے وہ اچھی زندگی گزار سکیں۔ نوشین کے لیے پاکستان اور افغانستان ایک شناخت ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ وہ پاکستان اور افغانستان میں فرق نہیں کر سکتی۔ افغانستان میں میں پیدا ہوئی اور پاکستان میں پلی بڑھی ہوں۔

عارضی افاقہ

رواں سردیوں کےموسم میں یواین ایچ سی آر نےپاکستان سے افغان مہاجرین کے انخلا کا سلسلہ معطل کر دیا ہے۔ آئی ایم ایف رپورٹ کے مطابق 2016 میں تقریبا 7 لاکھ مہاجرین کو پاکستان سے واپس افغانستان بھیج دیا گیا ہے۔ 2002 سے آج تک کل 4.2ملین افغان مہاجرین اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی مدد سے مختلف ممالک سے واپس اپنے ملک پہنچ چکے ہیں۔ اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے انسان حقوق کمیشن کے ایک نمائندے کا کہنا تھا کہ اب بھی پاکستان میں 1.34 ملین افغان مہاجرین آباد ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان میں غیر اندراج شدہ مہاجرین کی تعداد بھی 5 لاکھ سے زیادہ ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق یکم مارچ 2017 سے افغان مہاجرین کا انخلا کا عمل دوبارہ شروع ہو گا۔

سحر بلوچ

afghsn children 6ہم نے رشوت دے کر اپنے گم شدہ بیٹے کا پتہ لگایا

کراچی میں ایک اور افغان عورت جو دباو کا شکار ہے اس کا نام بی بی گل ہے۔ پچھلے 8 ماہ سے وہ اپنے جوان بیٹے کا انتطار کر رہی ہے ۔ 8 جنوری کو کچھ وردی میں ملبوس لوگ ان کے گھر میں گھسے اور اس کے بیٹے کو اٹھا کر لے گئے۔ اگلے دن ثنا اللہ کے بھائی محمد عبداللہ نے جب گرفتاری کے بارے میں خبر لینے کی کوشش کی  تو سہراب گوٹھ کے پولیس افسران کے پاس بتانے کو کچھ نہیں تھا۔ انہیں مشورہ دیا گیا کہ سچل پولیس سٹیشن میں پتہ کریں لیکن وہاں بھی کوئی خبر نہ ملی۔ 8 ماہ بعد سچل پولیس اسٹیشن سے معلوم ہوا کہ ثنا اللہ کے خلاف جرائم میں ملوث ہونے پر ایف آئی آر 14 اگست کو درج کی گئی تھی۔ ثنا اللہ اب سینٹرل جیل میں ہے اور خاندان کا کہنا ہے کہ وہ بے قصور ہے۔ اس خاندان نے 2008 میں بدخشا ں صوبے سے پاکستان ہجرت کی تھی۔

پاکستان پہنچتے ہی باپ بیٹے دونوں کو مدرسہ میں نوکری مل گئی جہاں باپ کو ٹیچر اور بیٹے کو کُک بھرتی کر لیا گیا۔ گل بی بی اپنے پاس کچھ دستاویر رکھ کر یہ دکھانا چاہتی ہے کہ ان کا بیٹا بے قصور ہے لیکن کوئی ان کی بات نہیں سنتا۔ ان کا کہنا ہے کہ ضروری ہوا تو میں گھر بیچ دوں گی لیکن میں کہیں جانے کے قابل نہیں ہوں۔ انہوں نے بتایا کہ بیٹے کا پتہ لگانے کے لیے ہمیں پولیس کو 25 ہزار روپے رشوت دینی پڑی اور اب وکیل میرے بیٹے کا کیس لڑنے کے لیے ڈیڑھ لاکھ کا مطالبہ کر رہا ہے۔ میٹنگ کے دوران بار بار انہوں نے پی او آر کارڈ دکھاتے ہوئے کہا کہ ہم قانونی طور پر پاکستان میں مقیم ہیں اور میرا بیٹا بے گناہ ہے۔ اس پر تھونپا گیا کیس جھوٹا ہے۔ ان کی شکایت ہے کہ و ہ اپنے بیٹے کے لیے کچھ نہیں کر پا رہیں۔

مسخ شدہ شناخت

اکبر اور سراجدین

ہمارا سب سے خوشی کا دن وہ تھا جب ہمیں پاکستان کا شناختی کار ڈ ملا

جب سجاد خان نے پہلی بار آنکھیں کھولیں تو وہ پاکستان کے علاقے پشاور کے ایک مہاجر کیمپ میں تھے۔ وہ اسے اپنا واحد ملک مانتے ہیں۔ 35 سالہ بیٹے کا کہنا ہے کہ ان کی فیملی روس افغانستان جنگ کے دوران بھاگ کر پاکستان آئی تھی۔ دن مہینوں میں اور ماہ سالوں میں بدل گئے لیکن جنگ بند نہ ہو پائی۔ کیمپ میں ایک سال گزارنے کے بعد سجاد کی فیملی ایک کرائے کے مکان میں رہنے لگی۔ اپنے خاندان کی دیکھ بھال کے لیے سجاد کے والد نے ریڑی پر سبزی بیچنا شروع کیا۔ 15 سال کی محنت کے بعد انہوں نے اپنا کھانوں کا بزنس قائم کر لیا۔

 ڈان سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ان کے خاندان کو بہت سے مسائل پیش آئے اور ان کے والد کو کوئی بھی پراپرٹی خریدنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ سجاد اور اس کا خاندان کسی صورت واپس افغانستان نہیں جانا چاہتے۔ کچھ حکومتی اہلکاروں اور پرائیویٹ بزنس آفس سے تعلقات جوڑ کر سجاد کے خاندان نے پاکستانی شناختی کارڈ حاصل کرنے کی ٹھانی۔ انہیں وہ دن آج بھی یاد ہے جب انہیں پاکستانی شناختی کارڈ ملا۔ سجاد اس دن کو اپنی زندگی کا سب سے اچھا دن قرار دیتے ہیں۔ شناختی کارڈ کے حصول کے بعد ہم نے اپنے نام پر جائیداد خریدی اور رہائشی علاقے میں گھر خریدا ۔ شناختی کارڈ سے سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ پولیس سے ان کی جان چھوٹ گئی۔ اب وہ بآسانی صحت، تعلیم ، رہائش اور سفری سہولیات سے فیضیاب ہو سکتے تھے۔

 نئے شناختی کارڈ کی بدولت سجاد کی فیملی نے حج اور عمرہ کے فرائض بھی سر انجام دیے ۔ عفان جو ایک افغانی مہاجر ہیں نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ 10 سال قبل پاکستان کا شناختی کارڈ حاصل کرنا بہت آسان تھا  اور افسران تھوڑی سی رشوت کے تحت شناختی کارڈ مہیا کردیتے تھے۔ ایک ایف آئی اے اہلکار کا کہنا تھا کہ افغان مہاجرین نے جعلی شناختی کارڈ کے ذریعے ملک میں جائیدادیں خرید رکھی ہیں اور بہت سے مہاجرین سرکاری نوکریاں بھی حاصل کر چکے ہیں۔ مہاجرین الیکشن میں بھی بھر پور حصہ لیتے ہیں۔ لیکن اب حالات بدل چکے ہیں ۔ افغان اور گلہ جیسے لوگوں کو مسائل afghan children 1پیش آ رہے ہیں اور حکومت نے سختی سے شناختی کارڈ کی ویریفیکیشن کا عمل شروع کر دیا ہے۔

اردو سیکھنا میرا سب سے اہم جذبہ تھا۔

سحر بلوچ

54 سالہ غازی خان 80 کی دہائی میں پاکستان آئے تھے۔ وہ کراچی کے الآصف سکوئیر کے جانے پہچانے شخص ہیں جو اپنی مادری زبان فارسی کے علاوہ اردو پر بھی عبور رکھتے ہیں۔ ان کے خاندان نے مشرقی افغانستان سے طور خم بارڈر تک کا طویل سفر 15 دنوں میں پیدل طے کیا۔ انہیں پاکستانی سوسائٹی کا حصہ بننے کے لیے بہت محنت کرنی پڑی۔ غازی کو کئی بار صرف اس لیے نوکری نہ ملی کہ وہ اردو پر عبور نہیں رکھتے تھے۔ انہوں نے طے کر لیا کہ وہ اردو سیکھ کر ہی دم لیں گے۔ دوسرا بڑا مقصد نوکری کا حصول تھا۔ انہوں نے بتایا کہ افغانستان سے دو طرح کے لوگ پاکستان میں آباد ہو رہے تھے۔ ایک گروپ وہ تھا جو پاکستان میں ٹرانسپورٹ کے بزنس میں انویسٹمنٹ کرتا تھا اور دوسرا گروپ دیہاڑی لگا کر پیسے کماتا تھا۔ غازی کے والد بھی دیہاڑی لگانے والوں میں سے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ پکتیہ میں زمیں بیچ کر ہمیں زیادہ رقم نہیں ملی۔ اس لیے پاکستان میں آ کر شروع کے کچھ سال بہت مشکل سے گزرے۔ ایک چائے کی دکان اور پھر گیراج میں کام کر کے غازی کے والد نے اپنے آبائی دوستوں کے ساتھ ملک کی الآصف اسکوئیر میں ایک دکان خرید لی۔ بعد میں غازی اس دکان کے واحد مالک بن گئے۔ اب حالات پھر سے بگڑ رہے ہیں۔ پچھلے کئی ماہ سے غازی اپنے بزنس سے خوش نہیں ہیں کیونکہ فروخت میں بتدریج کمی آ رہی ہے۔ غازی کا کہنا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے لوگوں کی آپسی دشمنی سے بہت مایوسی پھیل رہی ہے جب کہ اس میں ہمارا کوئی قصور نہیں ہے۔

 انہوں نے کہا کہ دنیا کے ہر ملک میں 5 یا 10 سال گزار کر شہریت مل جاتی ہے۔ ہم یہاں 35 سال گزار چکے ہیں لیکن اب بھی ہمیں مہاجر کہا جاتا ہے۔ ہماری وجہ سے ہی پاکستان اور افغانستان کے بیچ اخوت کا رشتہ قائم ہے  کیونکہ ہم اپنے بچوں کے ذریعے اپنے رسم و رواج اور ثقافت اور زبان کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ غازی کو ڈر ہے کہ اگر مہاجرین کو نکالا جاتا رہا تو افغانیوں کی نئی نسل پاکستان میں اپنی بقا کو سنبھال نہیں پائے گی۔ اس نے بتایا کہ آج کل کے بچے اردو بولتے ہیں اور اپنی مادری زبان یعنی پشتو اور فارسی بھول چکے ہیں۔ اب ہمارا پکتیہ میں خاندان سے کوئی تعلق نہیں رہا۔ ہمارے وہاں موجود رشتہ داروں نے ہماری زمینیں کم قیمت پر فروخت کردی ہیں اور ہماری دوسری جائیدادوں پر بھی قبضہ جما لیا ہے۔ خاندان کے بیچ اس دشمنی کی وجہ سے زبان اور رہن سہن کا طریقہ بھی بدل چکا ہے۔

2013 میں کراچی آپریشن شروع ہونے کے بعد پولیس اور رینجرز نے پی او آر کارڈز  کی سختی سے چیکنگ شروع کر دی ہے۔ افغانیوں کو بغیر کسی رکاوٹ کے بآسانی گرفتار کر لیا جاتا ہے۔ اب صورتحال یہ ہو گئی ہے کہ عزت کے لیے بھی ہمیں منت سماجت کرنی پڑتی ہے۔ ہم وہی قومی ترانہ پڑھتے ہیں جو باقی پاکستانی پڑتھے ہیں۔ ہم اس ملک سے بے پناہ محبت کرتے ہیں۔

رزق کا حصول غیر یقینی

سراج الدین اور طوبا مسعود

afghan children 2محمد عظیم سے ملیے۔

جب وہ پشاور کے مہاجر کیمپ پہنچے تو انہوں نے وہاں قالین بننے کا کام شروع کیا تا کہ اپنے خاندان کی دیکھ بھال کر سکیں۔ تب ان کے خواب و خیال میں بھی نہیں تھا کہ ایک دن وہ فیکٹری کے مالک بنیں گے اور پشاور میں قالین کی سب سے بڑی فیکٹری ان کی ہو گی۔ آغاز میں وہ اپنے قالین بہت کم ریٹ پر فروخت کرتے رہے۔ قالین بننے کے ساتھ ساتھ وہ مختلف سیلز مین، ایکسپورٹر اور تاجر برادری سےتعلقات بھی مضبوط کرتے رہے۔ کئی سال سخت محنت اور راتوں جاگ کر انہوں نے اپنے آپ کو اس قابل بنایا کہ کرایہ کے مکان میں منتقل ہو سکیں۔

 ان کا خاندان بھی پہلی بار ریلیف کیمپ سے باہر آ کر ایک بہتر زندگی کے لیے تگ و دو کرنے لگا۔ افغان مہاجرین کو پاکستان کی معیشت پر بوجھ سمجھا جاتا ہے۔ اس دوران یہ خیال نہیں رکھا جاتا کہ افغانستان کے تاجروں کا پاکستان کے صنعت کے ہر شعبے میں کردار اہم ہے جس میں کھانا، ٹرانسپورٹ، اور کارپٹ انڈسٹری خاص طور پر قابل ذکر ہے۔ آج عظیم کی قالین ان کے رنگ، فن اور ڈیزائن کی وجہ سے پاکستان میں ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب وہ پاکستان آئے تو پاکستان میں قالین کی کوئی فیکٹری موجود نہ تھی  اور قالین کی ڈیمانڈ بہت تھی۔ اس سے ہمیں موقع ملا اور ہم نے دن رات محنت کر کے اس فن میں اپنا لوہا منوایا۔ وقت کے ساتھ ساتھ عظیم نے مزید ملازمین بھرتی کیے جن کی تعداد 80 کے لگ بھگ ہو گئی۔

انہوں نے چارسدہ میں فیکٹری کے لیے ایک عمارت بھی خرید لی۔ پاکستان نے عظیم کو موقع دیا اور عظیم نے موقع کا بھر پور فائدہ اٹھایا لیکن پھر یوں ہوا کہ آرمی پبلک سکول پر حملہ ہو گیا۔ پولیس نے افغانیوں پر چھاپے مارنا شروع کیا اور بہت سے افغانیوں کو پولیس سے بچنے کےلیے خود ہی افغانستان بھاگ کر جانا پڑا۔ جب عظیم کے خریدار اور کاریگر پاکستان سے نکلنے لگے تو انہیں سخت مشکل پیش آئی۔ اب تک ان کی فیکٹری کے 30 سے زیادہ ملازمین کام چھوڑ کر واپس افغانستان چلے گئے ہیں۔عظیم نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے بتایا: قالین کی پیداوار میں 95 فیصد کمی واقع ہو گئی ہے اور ہم نے رگ اور میٹریل خریدنا بند کر دیا ہے۔ اب ہم اس فیکٹری کو بند کرنے والے ہیں۔

کئی دوسرے افغان کارپٹ پروڈیوسر بھی اپنی دکانیں بند کر چکے ہیں۔ کراچی میں قالین کی مارکیٹ کی صورتحال زیادہ اچھی نہیں ہے۔ الآصف سکوئیر کے پاس ایک گلی ہے جسے کارپٹ والی گلی کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس گلی کا نام خاص طور پر افغان تاجروں کی وجہ سے کارپٹ والی گلی رکھا گیا ہے۔ اس گلی کی ایک سائیڈ پر رہائشی عمارتیں ہیں تو دوسری طرف دنیا بھر کے قالین کی دکانیں ہیں۔

ایک شاپ میں بابا نذر بیٹھتے ہیں جو سیکنڈ جنریشن افغانی ہیں اور کراچی میں پیدا ہوئے تھے۔ 22 سالہ نوجوان کا کہنا ہے کہ ان کے والد کے ملک کے ساتھ ان کے تعلقات اب بھی بہت مضبوط ہیں۔ اس کے والد جو افغانی تھے اور 70 کی دہائی میں میں پاکستان میں بسنے کی خواہش لے کر آئے اور کارپٹ بزنس شروع کیا۔ انہوں نے ہر طرح کے قالین، دری اور دسترخوان کی خرید و فروخت شروع کی۔ اب بھی الآصف سکوئیر میں ان کی ایک چھوٹی سی دوکان موجود ہے۔ بابا کا کہنا ہے کہ میری ولادت سے قبل میرے والد یہاں آئے تھے ۔ میرے سب سے بڑے بھائی بھی یہیں پیدا ہوئے۔ میرے والد صرف اس شہر میں 35 سال گزار چکے ہیں۔ نوجوان نے بتایا کہ وہ یہاں اپنے بنائے قالین کے علاوہ ایرانی ، بیلجیم اور ترکی کے کارپٹ بھی بیچتے ہیں۔

اس نے اپنی دکان میں سے مہنگا ترین سامان دکھاتے ہوئے جو ایک ترکی سے آئی سرخ رنگ کی کارپٹ تھی ، ہمیں بتایا کہ اس کی قیمت 45 سے 55 ہزار ہے۔ ان کی دکان میں بہت سے  کپڑے اور دستر خوان بھی موجود ہیں جن کی قیمت 1500 سے 3000 تک ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایرانی قالین ایک بلکل ہی مختلف چیز ہے اور ایرانی قالینوں کی قیمت 12 سے 22 ہزار کے قریب ہوتی ہے۔ مختلف ڈیزائن اور ترز کے لحاظ سے مختلف قیمتیں رکھی گئی afghan childrenہیں۔ عظیم کی طرح نذر بھی کچھ عرصہ قبل تک بہت اچھی زندگی گزار رہے تھے۔

انہوں نے بتایا: میرے زیادہ تر گاہک کراچی کے ہی ہیں۔ اورنگی ، بنارس اور دوسرے علاقوں ک
ے بہت سے لوگ  میرے یہاں خریداری کرنے آتے ہیں۔ ویسے تو دوکان پر بہت اچھا بزنس ہو رہا ہے۔ اگر اچھا خریدار مل جائے تو ایک دن میں 30 سے 35 ہزار روپے کما لیتے ہیں۔ اب چونکہ حکومت افغانیوں کو واپس بھیج رہی ہے تو اس سے میرے بزنس پر بُرا اثر پڑے گا۔ بلکہ یہ اثر پڑنا شروع ہو چکا ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ دوسری مارکیٹوں میں کیا صورتحال ہے لیکن ہماری مارکیٹ میں جہاں قالین کی خریدو فروخت کا کاروبار ہوتا ہے وہاں افغان کمیونٹی کی اہمیت بہت واضح ہے۔ اگر افغانی واپس چلے گئے تو قالین کون خریدے گا؟ ہمارا بزنس تو ٹھپ ہو جائے گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *