سبق

محمد طاہرM tahir

عمران خان کے لئے تاریخ کا کوئی سبق نہیں، ہاں مگر! عمران خان خود تاریخ کے لئے ایک سبق ضرور بنیں گے۔
عمران خان اور اُن کی تحریک کے لئے ایک زبردست امتحان کا وقت شروع ہو گیا۔ عمران نے بآلاخر اپنا نیا منصوبہ پیش کر دیا جو چند گھنٹوں تک بھی اپنی اصل حالت پربرقرار نہیں رہ سکا اور اُس پر نظر ثانی کی زحمت اُٹھانا پڑی۔ عمران خان کو قریب سے جاننے والے اُن کے حوالے سے اکثر ایسے تجربات سے گزرتے رہتے ہیں جس میں وہ مجمعِ عام میں بعض اعلانات بعجلتِ عام اور بسرعتِ تمام کر گزرتے ہیں اور پھر اُن ناممکن العمل اعلانات کو اُن کی جماعت کے دیگر رہنما کسی نہ کسی طرح سنبھالنے کو کوشش کرتے ہیں۔ یہی کچھ اس دفعہ بھی ہوا مگر اس فرق کے ساتھ کہ اس مرتبہ عمران خان کے اعلانات کو سنبھالنے والے بھی اُن فیصلوں کی غلطی کا حصہ بن گئے۔ عمران خان نے 30؍ نومبر کے جلسے میں چار، چار روز کے وقفے سے چار اعلان کر دیئے ، جسے خود اُنہوں نے ’’سی پلان‘‘ کا نام دیا۔ عمران خان کی طرف سے 4؍دسمبر کو لاہور ، 8؍ دسمبر کو فیصل آباد، 12؍ دسمبر کو کراچی اور پھر 16؍ دسمبر کو پوراپاکستان بند کرنے کا اعلان کتنا موثر ثابت ہو سکتا تھا ؟اس کا فیصلہ خود اُن کی طرف سے چند گھنٹوں میں تبدیل شدہ منصوبے سے لگایا جاسکتا ہے۔ جس کے تحت لاہور اور پاکستان بھر میں احتجاج کی تاریخوں کو فوراً ہی تبدیل کر دیا گیا۔نہ صرف یہ بلکہ ہڑتالوں کے فیصلے کو بھی ’’احتجاج‘‘ کا نام دے دیا گیا۔نئے پاکستان کے لئے اس نئے منصوبے کا جائزہ بھی دوطرح سے لیا جائیگا۔ عمران خان کے لئے پہلا امتحان تو یہ ہوگا کہ وہ اپنے اعلان کے عین مطابق پاکستان کے بڑے شہروں اور پھر پورے پاکستان میں اب ہڑتالوں کے بغیر موثر احتجاج کر پاتے ہیںیا نہیں؟ بالفرض وہ اس میں پوری طرح کامیاب بھی ہو جائیں تب بھی اس کا دوسرا جائزہ یوں لیا جائیگا کہ وہ اپنی اس ’’کامیابی‘‘ کو اپنے سیاسی مقاصد کی کامیابی کے لئے استعمال کر پائیں گے یا نہیں؟یعنی ’’ہڑتالوں کے بغیر کامیاب احتجاج ‘‘ اُن کے انتخابی دھاندلی کے دعوؤں کو ثابت اور نواز حکومت کوڈھا پائیں گی؟فرض کر لیا جائے کہ عمران خان اپنے احتجاج کو پوری طرح کامیاب بھی بنا لیتے ہیں تب بھی اُن کا اصل ہدف یعنی نواز حکومت کی دھاندلی کے الزام میں رخصتی کی کامیابی کا امکان نہایت کم ہے۔
عمران خان نے اپنے لئے جو اہداف متعین کر دیئے ہیں، وہ اُس کی تکمیل کی کتنی صلاحیت رکھتے ہیں؟ اس کا حقیقی جائزہ بلاتعصب لینے کی ضرورت ہے۔ درحقیقت عمران خان کا ہدف نواز حکومت کا انہدام ہے۔ اس ہدف کے لئے الفاظ جو بھی چن لئے جائیں، عوامی تصور میں اس کی تشریح اِسی طرح ہوگی۔ نواز حکومت کے خاتمے کا کوئی بھی آئینی طریقہ عمران خان کی دسترس میں نہیں ۔ اور حکومتوں کے خاتمے کے حوالے سے ایک عمومی تاثر یہ پایا جاتا ہے کہ یہ ’’تیسری قوت‘‘ کی محلاتی سازشوں کا ایک کھیل ہوتا ہے۔ اس تاثر کی جڑیں ہماری تاریخ میں پیوست ہے۔ اب موجودہ کھیل اس سے مختلف بھی ہو جائے، تب بھی یہ تاریخ کے اس بوجھ کو اُٹھائیں بغیر نہ رہ سکے گا۔ پھر خود عمران نے امپائر کی اُنگلی کا تذکرہ اتنی بار کیا ہے کہ یہ تاثر ہر اعتبار سے معنی خیز بن چکا ہے۔ چنانچہ آصف علی زرداری نے 30؍ نومبر کو ہی پیپلز پارٹی کے یومِ تاسیس کے موقع پر جب یہ کہا کہ وہ یہ نہیں چاہتے کہ ’’گو نواز گو‘‘ کا نتیجہ ’’میرے عزیز ہم وطنو‘‘ ہو ، تو یہ ایک تاریخی سیاق و سباق رکھتا ہے۔ اس تاثر کی موجودگی میں عمران خان کے موقف کا حامی اور نواز حکومت کا مخالف ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو عمران خان کی سرگرم حمایت کبھی نہیں کر سکے گا، یا اُن کے مقاصد کا چارہ نہیں بن سکے گا۔کیونکہ یہ طبقہ جس طرح کسی جمہوریت کو کسی خاندان کی تحویل میں دیکھ کر اپنی بے بسی کی ذلت کو محسوس کرتا ہے ٹھیک اُسی طرح وہ کسی فردِ واحد کی حکمرانی کو بھی اپنی نہ ختم ہونے والی تذلیل کے خانے میں رکھتا ہے۔ یہ پہلو ایک واقعاتی حقیقت کی محض نشاندہی ہے۔اس کے درست اور نادرست ہونے کی بحث ایک الگ موضوع ہے۔
عمران خان کی تحریک کے اس فکری مخمصے کے بعد اب اُن کے اعلانات کا زمینی حقائق کی روشنی میں تجزیہ زیادہ آسان ہوگا۔ عمران خان نے اپنی سیاسی زندگی کے تقریباً تمام ہی فیصلوں میں یہ ثابت کیا ہے کہ وہ کسی بھی فیصلے کے حقیقی مضمرات پر غوروفکر کی زیادہ صلاحیت نہیں رکھتے۔ وہ اپنے سیاسی فیصلوں کی بنیاد اپنے اوصاف پر نہیں دوسروں کے نقائص پر رکھتے ہیں۔چنانچہ وہ مکمل دوسروں کے رحم وکرم پر ہوتے ہیں اور کبھی کسی فیصلے کا مطلوبہ ہدف مکمل طور پر حاصل نہیں کر پاتے۔ہڑتالوں کا تازہ ترین فیصلہ بھی اِسی کا غماز ہے۔ اس فیصلے سے ثابت ہوتا ہے کہ عمران نہ صرف عوام بلکہ اپنے حامی حلقوں کی حقیقی صلاحیت کو بھی سمجھنے سے قاصر ہیں۔
عمران خان نے جب احتجاج کے ایک زنجیری سلسلے کو ’’پلان سی‘‘ کا نام دے کر جاری رکھنے کا اعلان کیا تو کیا اُنہوں نے یہ اندازا لگایا تھا کہ ملک بالعموم اور لاہور بالخصوص اس کے لئے تیار ہے یا نہیں؟اس فیصلے پر غور وفکر کی سطح کیا تھی؟ سب سے پہلی غلطی تاریخوں کے تعین میں کی گئی۔ جماعت الدعوہ لاہور کی ایک بہت بڑی قوت ہے اور اُن کی طرف سے مینار پاکستان پر اجتماع کا فیصلہ پہلے ہی منظر عام پر آچکا تھا۔یہ اجتماع 4 اور5؍ دسمبر کو لاہور میں ہورہا ہے جو ایک بہت بڑی ہلچل اور چہل پہل کا باعث بنے گا۔ ٹھیک اُسی روز یعنی 4؍ دسمبر کو لاہور کی بندش کا فیصلہ دراصل زمینی حقائق سے خود کو لاتعلق کر لینے کی نشاندہی کرتا ہے۔ پلان سی کا اختتام جس 16؍ دسمبر کی ملک گیر ہڑتال پر کرنے کا اعلان ہوا تھا وہ تاریخ بھی سقوطِ ڈھاکا کے باعث پاکستانیوں کے لئے ایک خاص تناظر رکھتی ہے۔ اس تاریخ کو ملک گیر ہڑتال کا فیصلہ سیاسی بصیرت پر سوال اُٹھاتاہے۔ مسلم لیگ نون کے اعتراضات تو بعد میں سامنے آتے ، خود تحریکِ انصاف کے اندرونی حلقوں میں فوراً ہی اِن تاریخوں پر سوالات اُٹھنے شروع ہوگئے ۔اس پر طرہ یہ کہ متوازی سماجی ابلاغ کے ذرائع(سوشل میڈیا) پر عوام نے ہنگامہ برپاکر دیا۔ چنانچہ اِن تاریخوں پر نظرِثانی کا دباؤ پیدا ہونا شروع ہو گیا اور تحریکِ انصاف کو اپنا پورا منصوبہ فوراً ہی بدلنا پڑا۔نئے منصوبے میں صرف تاریخیں ہی تبدیل نہیں کی گئی بلکہ احتجاج کی نوعیت کو بھی سرے سے بدل دیا گیا۔عمران خان نے اپنی تقریر میں شہر لاہور کو پہلے ،پھرفیصل آباد اور پھر کراچی کو بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔ نئے منصوبے میں لاہور کی تاریخ بدل کر 15؍دسمبرکردی گئی۔ جب کہ پاکستان بھر میں احتجاج کی تاریخ بدل کر 18؍ دسمبر کر دی گئی۔جبکہ فیصل آباد اور کراچی کی تاریخوں کو جوں کا تُوں رکھا گیا۔اور کمال ہشیاری سے شاہ محمود قریشی نے وضاحت کر دی کہ ہمارا ارادہ شہروں کو بند کرنے کا نہیں بلکہ صرف احتجاج کرنے کا ہے۔ عمران خان کی طرف سے شہروں کو بند کرنے کے اعلان یعنی ہڑتالوں پر نظرثانی کا فیصلہ تاریخوں میں ہونے والی نظرِثانی سے بڑا فیصلہ ہے۔ حیرت ہے عمران خان اور اُن کی جماعت کے اکابرین محض چند دن آگے کی تاریخوں کے تعین اور احتجاج کی نوعیت کو طے کرنے میں بھی سیاسی شعور کا مظاہرہ نہیں کر سکے۔ اب یہ یقین کیسے کر لیا جائے کہ اِن ہڑتالوں کی کامیابی کے لئے درکار سیاسی بصیرت کا وہ آگے مظاہرہ کر سکیں گے۔
عمران خان اور اُن کی جماعت کو سرے سے یہ اندازا ہی نہیں کہ ہڑتال کا آخر مطلب کیا ہوتا ہے؟ کسی بھی ہڑتال کے سب سے زیادہ متاثرین عوام اور تاجر ہوتے ہیں۔ہڑتالوں کے عنوانات میں اِن دونوں طبقات کی حمایت اور شمولیت ایک بنیادی چیز ہوتی ہے۔اِن طبقات سے رضاکارانہ ہڑتال کرانا کارِ محال ہے۔ یہ دونوں طبقات پوری طرح عمران خان کے ساتھ نہیں اور جومکمل طور پر اُن کے ساتھ ہیں اُن کی حمایت کابھی ہڑتالوں کے لئے حصول اتنا آسان نہیں۔ تاجر طبقے کے لئے ایک بات ہمیشہ کے لئے طے ہے کہ اُن کی حمایت کبھی بھی بلامشروط نہیں ہوسکتی۔ یہ بات سمجھنا ذرا بھی دشوار نہیں کہ عمران خان کوئی بھی ہڑتال رضاکارانہ طور پر کامیاب نہیں کراسکتے۔ ظاہر ہے کہ اب اس کے لئے اُنہیں ’’کچھ اور‘‘ کرنا پڑے گا۔ یہ ’’کچھ اور‘‘ ایک خطرناک کھیل ہے جس کا مکمل نقصان عمران خان اور مکمل فائدہ اُن کے حریفوں کو ہوگا۔چناچہ اسی مرحلے پر اس کا ادراک کر لیا گیا کہ احتجاج کا ہڑتالی اظہار ذرا ٹیڑھی سی کھیر ہے۔ مگر عمران خان کو بہت تیزی سے مجبور کیا جارہا ہے کہ وہ اِسی ’’کچھ اور‘‘ کے راستے پر پڑ جائیں۔اِسی ’’کچھ اور‘‘ کا جائزہ اگلی تحریر میں لیں گے۔ دراصل عمران خان کا اصل امتحان ہی اب شروع ہوا ہے۔ اُنہوں نے تو تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھا مگر وہ تاریخ کا سبق ضرور بننے جارہے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *