دبئی لگ گئی !

yasir-pirzada-1

 

کوئی پچیس برس پرانی  بات ہے ، اُن دنوں سنگر کی سلائی مشین اور نیشنل کا ٹرانسسٹر  اچھے میعار زندگی کی علامت سمجھے جاتے تھے ، اُس زمانے میں جو شخص بھی دبئی جاتا واپسی پر اِس نوع کی چیزیں ضرور اُس کے ہمراہ ہوتیں اور پورا محلہ انہیں حیرت و حسرت سے دیکھتا۔ ایسے ہی ملتان کے ایک محلے میں چند نوجوان گلی کی نکڑ پر بیٹھے مستقل کے منصوبے بنا رہے تھے ، اُن میں سے ایک کا کاروبار ’’چھلیاں ‘ ‘ گرم کرکے بیچنا تھا ، اُس وقت بھی وہ   اسی کام میں مصروف تھا اور ساتھ ساتھ  دوستوں کو اپنے ’’کاروبار ‘ ‘ کو وسعت دینے کے پلان سے آگاہ کر رہا تھا   جو چوکڑی مار کر بیٹھے نہایت  تندہی سے اُس کی چھلیوں کو سینکنے کے لئے دستی پنکھا جھل رہے تھے : ’’ وہ سامنے والی جگہ دیکھ رہے ہو ، سکول کے بالکل ساتھ! ‘ ‘ اُس نے اشارہ کیا۔ ’ ’  خدا نے چاہا تو اسی سال میں نے یوسف قتال پوری سے کون بنانے والی سیکنڈ ہینڈ مشین خرید کر وہاں لگا لینی ہے ، پھر تم  دیکھنا یہیں اپنی دبئی لگ جائے گی ! ‘ ‘ باقی نوجوانوں نے اپنے دوست کے ’ ’ ویژن ‘ ‘ کی داد دی ، دل میں حسد کے مارے   گالیاں دیں ،اپنی قسمت کو کوسا  اور مزید تیزی سے پنکھا جھلنے لگے ۔ آج اُن نوجوانوں میں سے ایک شخص معقول شاعر ہے اور کون والی مشین نہ لگانے کے باوجود اُس کی پاکستان میں دبئی لگی ہوئی ہے ۔’’دبئی لگنا ‘ ‘ محاورہ اسّی  کی دہائی کی ایجاد ہے جب دبئی  کے صحرا میں میں نئی نئی تعمیرات ہو رہی تھیں ، پاکستان سے لیبر کلاس دبئی جاتی اور وہاں اپنی جوانی بیچ کر بیٹیوں کا جہیز خرید لاتی ، پاکستان میں چونکہ یہ لوگ زمینداروں اور جاگیرداروں کے ہاتھوں پسے ہوئے تھے اس لئے دبئی کا سودا ایسا مہنگا بھی نہ تھا ، دبئی نے اُن کی کایا کلپ کردی اور یوں اُن کی ’’ دبئی لگ گئی ! ‘ ‘

دبئی میں پاکستان سپر لیگ کی افتتاحی تقریب دیکھی ، صحرا میں جشن کا سماں تھا ، لاہور قلندر کے روح رواں رانا عاطف نے بتایا کہ  انہوں نے چالیس دن میں پورے  پنجاب سے  ایک لاکھ تیرہ ہزار لڑکوں کا ٹرائل لیا ، عاقب جاوید اور مدثر نذر کی زیر نگرانی اِن ٹرائلز میں ناقابل یقین ٹیلنٹ سامنے  آیا جس کا انداز ہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ چار لڑکوں کو آسٹریلیا نے پیشکش کی کہ ہمارے پاس آجاؤ اور شہریت لے لو لیکن حیرت انگیز صلاحیتوں کے حامل رانا عاطف نے کہا کہ یہ پاکستانی ہیں اور پاکستان کی طرف سے کھیلیں  گے ، سو ایک لاکھ تیرہ ہزار میں سے بیس لڑکے خالصتا ً میرٹ پر چنے گئے اور اُن میں سے چار لڑکے جنہوں نے کبھی قذافی سٹیڈیم کا گیٹ بھی عبور نہیں کیا تھا وہ آسٹریلیا میں لیگ کھیل کر آئے اور کنگروز کو ششدر کر دیا ۔ ’’یہ ہے اصل پاکستان ! ‘ ‘ رانا عاطف نے کہا، پاکستان کی بات کرتے ہوئےیہ نوجوان یکدم جذباتی ہو جاتا ہے  ’ ’ کھیل کی تاریخ میں شاید ہی کبھی اتنا بڑا ٹیلنٹ ہنٹ ہوا ہو! ‘ ‘ افسوس کی بات مگر یہ ہے کہ اِن بیس نوجوانوں میں سے صرف ایک لاہور قلندر کی طرف سے کھیل پائے گا کیونکہ لیگ کا فارمیٹ ہی کچھ ایسا ہے ۔

دبئی کے ہوائی اڈے پر اترتے ہی وہ تمام لوگ جو دھکم پیل کے ساتھ لاہور سے روانہ ہوئے تھےنہ جانے کس  طرح اُ ن سب نے یکدم جُون بدل  لی، دبئی میں کسی نے  قطار سے آگے نکلنے کی کوشش کی اور نہ پیچھے کھڑے کسی  شخص نےاگلے بندے کے  کندھے کے اوپر سے امیگریشن افسر کو پاسپورٹ تھمایا ۔ اپنے ملک میں ایسی حرکتیں کرنے والوں میں پڑھے لکھے اور ان پڑھ کی کوئی تخصیص نہیں ، برطانوی پاسپورٹ کا حامل ایک پاکستانی تقریبا ً پندرہ منٹ تک ائیر لائن کے عملے سے اس بات پر جھگڑاتا رہا کہ اس کے سامان کا وزن اگر زیادہ ہے تو کیا فرق پڑتا ہے ، یہی شخص جب دبئی پہنچا تو سراپا اخلاق بن چکا تھا ۔ لیکن ایک بات دبئی اور پاکستان میں مشترک ہے ، بد اخلاقی ، یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ دونوں میں سے کس ملک کے اہلکار زیادہ بد تمیز  ہیں ، میری رائے میں یہاں بھی دبئی کا پلڑا بھاری ہے ، پاکستانی  بھائی کبھی کبھار مسکرا کر بات کر لیتے ہیں ، بدوؤں میں یہ رواج نہیں ۔ دبئی میں اس مرتبہ یہ احساس مزید شدت سے ہوا کہ جس دبئی کی بنیاد ستّر کی دہائی میں رکھی گئی تھی وہ آج دنیا کے اُن چند بین الاقوامی شہروں میں شامل ہو چکا ہے جن کے بغیر سیاحت مکمل نہیں ہو سکتی ۔ ایک ایسا شہر جو تین دہائیوں پہلے تک فقط ایک صحرا تھا ، جہاں کوئی صنعت نہیں تھی ، جس کی ائیر لائن دو طیاروں پر مشتمل تھی جسے پاکستان کی مدد درکار تھی ، آج دنیا کے  پسندیددہ ترین سیاحی مقامات میں سے ایک ہے ، ائیر لائن کا حال یہ ہے کہ  پی آئی اے کا تمام کاروبار اب امارات کے ہاتھ میں ہے ، دبئی کا ہوائی اڈہ دنیا کے مصروف ترین ہوائی اڈوں میں سے ایک ہے ، شاید ہی کوئی شہر ہو جہاں کے لئے دبئی سے پرواز نہ جاتی ہو، احمد آباد سے لے کر سڈنی تک اور ادیس بابا سے کر میامی تک ، دبئی پروازوں کا مرکز ہے ۔

        دبئی کے دو روپ ہیں ، ایک دبئی امرا کے لئےہے ، دنیا کے ارب پتیوں اور سپر سٹارز نے یہاں پر تعیش  اپارٹمنٹس لے رکھے ہیں ، بلند و بالا خریدار ی کے مراکز اُن کے لئے ہیں ، تا حد نگاہ روشنیوں سے جگمگاتی عمارتیں ہیں جن میں ملٹی نیشنل کمپنیوں کے دفاتر قائم ہیں ، اِن امرا کے لئے  دبئی ایک ایسا لائف سٹائل پیش کرتا ہے جسے اپنانا کسی بھی شخص کا خواب  ہو سکتا ہے ، بینک اکاؤنٹ میں رکھی کوئی رقم اس لائف سٹائل کے لئے کم ہے ، اگر آپ اپنی محبوبہ کے ساتھ وقت گذارنا چاہتے ہیں تو پہلے آپ کو سمندرمیں لے جایا جائے گا جہاں محبوبہ ڈالفن کے ساتھ تیرنے کا لطف اٹھائیں گی  ،  اِس کے بعد رات کے کھانے کا اہتمام صحرا میں کیا جائے گا ، صحرا کی ویرانی میں کھلے آسمان تلے آپ کی مشروب خاص سے تواضع کی جائے گی اور پھر  دو روحوں کا ملاپ اس خواب ناک ماحول میں ہوگا۔ دبئی کا دوسرا روپ بالکل مختلف ہے ، یہ اُن لوگوں کے لئے ہے جو دبئی کی جگمگاتی عمارتوں میں ’ ’ نوکری ‘ ‘ کرتے ہیں ، جسم کو جھلسا دینے والی دھوپ میں بارہ گھنٹے تعمیراتی کام کرتے ہیں ، شاپنگ مالز میں گندگی صاف کرتے ہیں  اور دبئی کی بنیادوں میں اپنا خون دیتے ہیں ۔ قانون کی حکمرانی والے دبئی میں اِن کے  لئے کم سے کم اجرت کی کوئی شرط نہیں ، ہزار بارہ سو درہم میں ان کی زندگی خرید لی جاتی ہے اور پھر ان سے ویسا ہی کام لیا جاتاہے جیسا کسی زمانے میں فرعون اپنے غلاموں سے لیا کرتے تھے ، رہنے کے لئے ایک چارپائی انہیں مہیا کی جاتی جسے ’’رہائش کمپنی کی طرف سے ‘ ‘ کہا جاتا ہے جبکہ کھانے پینے کا خرچ اپنی  ’’تنخواہ ‘ ‘ سے پورا کرتے ہیں ، باقی جو بچتا ہے وہ اپنے ملک بھیج دیتے ہیں ، تاکہ ان کے بیوی بچوں کی ’’ دبئی لگ سکے ! ‘ ‘

        آج کے دور میں شائد اسی کو ترقی کو کہتے ہیں ۔ خدا حافظ دبئی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *