آپ اور عمار مسعود

Muhammad Umair

عمار مسعود صاحب سے میرا تعلق سوشل میڈیا سے شروع ہوا،یہ تعلق ڈیڑھ سالہ پرانا ہے ،ان کی نظامت میں ٹویٹر پر شعر وشاعری کا پروگرام ’’رات گئے‘‘ شروع کیا جو اب تک کامیابی سے ہر رات گیارہ سے بارہ بجے جاری ہے۔سوشل میڈیا سے شروع ہونے والا یہ تعلق وقت کے ساتھ مزید گہرا ہوتاگیا،انہوں نے ہمیشہ بڑے بھائی کی طرح سہارا دیا جب کہیں رہنمائی کی ضرورت پڑی تو ایک شفیق استاد کی مانند انگلی پکڑ کر رہنمائی کی ۔کچھ عرصہ قبل ان کی کالموں کی کتاب’’آپ ‘‘ شائع ہوئی ہے۔نام سے ہی واضح ہے کہ اس کا موضوع بھی آپ ہیں اور مطمع نظر بھی آپ ہیں۔میں خود بھی اس کتاب کا حصہ رہا ،کالموں کی ترتیب میں عمار بھائی کاہاتھ بٹایا۔اس کتاب کا حصہ بننا بلاشبہ میری خوش قسمتی تھی ۔
بنیادی طور پر کالموں کے موضوعات سیاسی ہیں لیکن سماجی حوالوں سے بھی یہ کاوش نہائت قابل قدر ہے ۔اس کتاب میں کل نوے کالم ہیں جن میں سے دس ایسے ہیں جن کا موضوع اس ملک کے معذور افراد ہیں۔ان کالموں میں منفرد بات عمار مسعود صاحب کا معذور افراد کے لئے آواز اٹھانا ہے،جو قوت گویائی سے محروم ہیں ان کی آواز بننا ہے،جو بصارت سے محروم ہیں ان کے لئے روشنی بننا ہے ۔معاملہ عالمی سطح کا ہو،وفاقی یا صوبائی عمار مسعود صاحب اپنی اس کتاب کے ذریعے ہرفورم پر معذور افراد کے لئے آواز اٹھاتے نظر آتے ہیں۔معذور افراد کے حوالے سے ان کا مطالعہ سطحی نہیں بلکہ وہ ہر بات کا گہرائی کی حد تک علم رکھتے ہیں۔کس صوبے میں نابینا افراد کے کتاب ’’بریل ‘‘ کے کتنے چھاپہ خانے ہیں،کتنے سکول ہیں،کتنے بچے پڑھتے ہیں،کتنے تعلیم سے محروم ہیں،صوبائی اور وفاقی حکومتیں معذور افراد کے لئے کیا کررہی ہیں ان تمام امور کا انہوں نے بخوبی اس کتاب میں احاطہ کیا ہے۔پوری قوم کی طرح میں خود کرکٹ کا دیوانہ ہومگر ان کی کتاب پڑھ کر معلوم ہوا ہے کہ نابینا کھلاڑیوں کی کرکٹ ٹیم میں کھلاڑیوں کی کیا کیٹگریز ہوتی ہیں۔معذور افراد کے لئے لکھنے والوں کی تعداد بہت کم ہے مگر عمار مسعود صاحب یہ فریضہ بخوبی سرانجام دے رہے ہیں۔معذور افراد کے لئے لکھنا یہ بھی ثابت کرتا ہے کہ وہ بنیادی طورپر حساس،رحم دل اور انسانیت سے پیار کرنے والے ہیں۔
ان کے کالموں میں دوسری نمایاں چیز افسانوی رنگ ہے۔عمار مسعود صاحب کی پہلی کتاب افسانوں کا ہی مجموعہ ہے جو کہ ’’محبت کا نیلا رنگ‘‘ کے نام سے شائع ہوئی تھی۔
’’جمہوریت ‘‘ کے نام سے شائع ہوا ان کا کالم افسانوی رنگ کی بہترین مثال ہے۔اس کالم کو پڑھتے ہوئے احساس ہوتا ہے کہ وہ کوئی افسانہ بیان کررہے ہیں ،کوئی کہانی لکھ رہے ہیں۔جنگل،شکاری اور شکار کی یہ کہانی اتنی دلچسب ہے کہ انسان اس میں کھوجاتا اور اختتام پر معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے نہایت ہی حسین پیرائے میں ہماری جمہوریت کا حال بیان کیا ہے۔تحریر میں ندرت کا یہ عالم ہے کہ آ پ ان کا ایک کالم شروع کرلیں تو اس کو ختم کئیے بغیر چھوڑنا مشکل ہوجاتا ۔
ان کے سیاسی کالمز میں تقسیم نظر آتی ہے۔کالموں کا کچھ حصہ وہ ہے جس میں عمران خان ان کی امید تھے۔عمران خان کی شکل میں ان کو نجات دہندہ نظرآتا تھا،وہ سمجھتے تھے کہ یہ شخص تبدیلی کا استعارہ ہے،یہ دیگر رہنماوں سے الگ ہے ۔پھر یوں لگتا ہے کہ ان کی یہ امید ٹوٹ گئی۔تو جیسے امید ٹوٹنے پر دکھ ہوتا ہے ماتم کی سی کیفیت ہوتی ہے یہی رنگ ان کے موجود سیاسی کالمز میں نظر آتا ہے۔کسی دوسری پارٹی کی حمایت سے زیادہ یہ عمران خان سے بندھی امیدوں کے ٹوٹ جانے کا ماتم ہے۔
ان کے کالموں کا چوتھا پہلو مزاح کا رنگ ہے۔میرا خیال ہے کہ مزاح ان کے خون میں شامل ہے۔ایک دفعہ میں نے عمار بھائی سے پوچھا تھا کہ آپ کے والد اتنے بڑے شاعر ہیں تو آپ نے خود شاعری کیوں شروع نہیں کی؟تو انکا جواب تھا کہ اچھا شعر لکھتا تو لوگوں نے کہنا تھا باپ سے لکھوایا ہے برا لکھتا تو کہا جاتا کہ باپ اتنا بڑا شاعر ہے اور بیٹے نے دیکھا کیا لکھا۔عمار مسعود صاحب نے مزاحیہ شاعری نہیں مگر طنزومزاح اور ظرافت ان کے خون میں ودیعت کی گئی ہے ۔مزاحیہ کالم وہ کم لکھتے ہیں مگر جب کبھی لکھتے ہیں تو ان کی تحریر قاری کے چہرے پر مسکراہٹ ضرور بکھیرتی ہے۔اس کتاب کو اگر آپ نہیں پڑھیں گے تو آپ اپنے آپ کو آپ سے محروم کریں گے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *