مردم شمار ی میں ہمیں بھی شمار کریں

arshad sulehri.

مردم شماری کا عمومی مقصد ملکی آبادی جانچنا ہے۔ جبکہ مردم شماری سے بڑھتی ہوئی آبادی کے مسائل کی نشاندہی بھی ممکن ہوتی ہے ۔ حکومت رواں سال مردم شماری کر رہی ہے ۔ مردم شماری کیلئے جو فارم بنایا گیا ہے ۔ اس میں خواجہ سرا کا خانہ بھی رکھا گیا ہے ۔ یقینی بات ہے ۔ خواجہ سرا کا خانہ رکھنے کا مقصد اس امر کا پتہ چلانا ہے کہ ملکی آبادی میں خواجہ سراوں کی تعداد کہاں تک ہے۔بہت اچھا قدم ہے۔ جبکہ دوسری جانب حکومت نے معذور افراد کو یکسر نظر انداز کردیا ہے۔ایسے لگتا ہے ۔ جیسے حکومت کے کچھ حصے معذور افراد سے الرجک ہیں اور معذور افراد کی دشمنی پر کمربستہ ہیں ۔ پاکستان کی تاریخ میں یہ واحد حکمران ہیں ۔ جن کے دور میں لاہور ، کراچی ، اسلام آباد، ملتان اور کوئٹہ میں معذور افراد پر ریاستی تشدد ہوا ہے۔ عجیب بے حسی ہے۔ معذور افراد ملازمتوں کا مطالبہ کرتے ہیں تو انہیں روزگار دینے کی بجائے بے رحمی سے سٹرکوں پر مارا پیٹا جاتا ہے ۔ دھکے دیئے جاتے ہیں۔ ایکبار پھر نواز حکومت کی جانب سے معذور افراد دشمنی کی گئی ہے ۔ مردم شماری میں معذور افراد کی گنتی کیلئے خانہ ہی نہیں رکھا گیا ہے ۔ جس کا سیدھا سادہ مطلب ہے ۔ حکومت معذور افراد کو انسانوں میں شامل ہی نہیں کر رہی ہے۔ ستم تو یہ ہے کہ حکومت کے اس بے رحمانہ عمل پر کسی سیاسی جماعت ، سیاسی رہنما نے کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔ مجموعی طور ہر سماجی سطع پر بھی کسی بڑی این جی او کی جانب سے بھی کوئی بات نہیں کی گئی ہے۔ ماسوائے معذور افراد کی تنظیموں کے کسی جانب سے بھی آواز نہیں اٹھائی گئی ہے۔ خراج تحسین کے مستحق ہیں ۔ معذور افراد کے رہنما مرزا شفیق جنہوں نے اس امر کا فوری نوٹس لیا اور ہمیں شمار کریں کے نام سے تحریک شروع کردی ہے۔ معذور افراد کے قائد مرزا شفیق کی تحریک پر لیبک کہتے ہوئے معذور رہنما نادر خان ، عاصم ظفر سمیت دیگر معذور افراد بھی ہم آواز ہوئے ہیں۔ ڈس ایبلڈ پیپلز موومنٹ اس تحریک میں سیاسی کردار ادا کر رہی ہے ۔ جس میں پارلیمنٹرین تک آواز کو پہچانا ، پارلیمنٹرین کی حمایت حاصل کرنا ۔ سیاسی جماعتوں میں معذور افراد کے سیاسی ونگ کی تشکیل ممکن بنانے کی جدوجہد شامل ہے۔ڈس ایبلڈ پیپلز موومنٹ چاہتی ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں معذور افراد کے ونگ تشکیل دیں اور معذور افراد کو سیاسی دھارے میں شامل کیا جائے۔ معذور افراد چیف جسٹس آف پاکستان ، وزیر اعظم پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ مردم شماری میں معذور افراد کو شمار کیا جائے ۔ مردم شماری میں کے فارم میں معذور افراد کا خانہ فوری بنایا جائے۔ معذور افراد کی گنتی نہیں ہوگی تو معذور افراد کی تعداد کا تعین کیسے ہو سکے گا ۔ کیسے پتہ چلے گا ۔ ملکی آبادی میں معذور افراد کتنے فیصد ہیں۔ ملک میں معذوری کی اقسام کیا ہیں ۔ معذور افراد کن کن مسائل اور مشکلات سے دوچار ہیں ۔ اگر ریاست معذور کے مسائل حل کرنے کی طرف آئی تو گنتی کیے بغیر کیسے کام کرے گی۔ چیف جسٹس آف پاکستان حکومت کی اس غفلت کا فوری نوٹس لیں ۔ سیاسی قائدین ، انسانی حقوق کے کارکنان ، سیاسی جماعتوں کے سربراہان سمیت سماج کے تمام طبقات سے اپیل ہے کہ وہ معذور افراد کا ساتھ دیکر انسانی فریضہ انجام دیں ۔ معذور افراد کی تنظیمں، معذور رہنما ہمیں شمار کریں تحریک کو منظم کریں ۔ اب تک حکومت مردم شماری کے فارم میں معذور افراد خانہ بنا نہیں دیتی تحریک بھر پور طریقے سے جاری رکھی جائے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *