زوال

Yasir Pirzadaیاسر پیر زادہ

 سوال کرنے والے نے استاد سے پوچھا :’’یہ فرمائیے کہ اگر تین بھائی ہوں اور ان میں سے ایک خدا خوفی کرتا ہو ،دوسرا خدا کو نہ مانتا ہو اور تیسرا بچپن میں ہی فوت ہو جائے تو اگلے جہاں میں ان تینوںکی کیا حیثیت ہوگی ؟‘‘ استاد نے کچھ دیر توقف کیا مگر کوئی تسلی بخش جواب نہ دے سکا ۔اس سوال نے شاگرد کا مطمح نظر ہی تبدیل کر دیا، مسلمانوںکی فلسفے کی تاریخ اس کے بعد وہ نہ رہی جو اس سے پہلے تھی۔سوال کرنے والے کا نام ابو الحسن علی بن اسماعیل الاشعری تھا اور ان کے استاد کا نام علی محمد بن عبدل وہاب الجبائی تھا۔
جب معتزلہ نے یونانی فلسفیوں کے علوم کے عربی تراجم کا مطالعہ کیاتو انہوں نے یونانی فلسفیانہ استدلال کو اسلام کے بنیادی اصولو ں کی تشریح کے لئے استعمال کرنا شروع کر دیا اور محض عقل کو سچائی اور حقیقت تک پہنچنے کاواحد ذریعہ سمجھ لیا ، معتزلہ نے ہر اصول کو عقل کی کسوٹی پر پرکھنے کے شوق میں خدا کو ’’مجرد‘‘اور’’ غیر شخصی ‘‘قرار دیا ، نتیجہ اس کا یہ نکلا کہ خدا کے اس تصور کو عام مسلمانوں نے یکسر رد کر دیا۔ اس دور کے قدامت پسندوں نے بھی معتزلہ کی اس مذہبی تشریح پر شدید ردعمل کا اظہار کیا اور انہیں کافر تک قرار دیا،نویں صدی عیسوی کایہ دور اسی ردعمل سے عبارت ہے،یہ وہ وقت تھا جب روایتی اور قدامت پسند مسلمان بشمول محدثین اور فقہا قرآن اور سنت کی مروجہ تعبیر اور تشریح کے قائل تھے ،اس زمانے میں کسی بھی قسم کے غیر روایتی مذہبی مباحث انہیں نا پسند تھے اور وہ انہیں ’’بدعت‘‘ کا ذریعہ سمجھتے تھے، ان نظریات میںاس قدر شدت پیدا ہو گئی کہ مذہبی عقائد پر علمی بحث کر نا بھی ممکن نہ رہا۔مگر اندھے اعتقاد کا یہ رویہ زیادہ دیر تک جاری نہ رہ سکا کیونکہ اسلام کوئی جامد مذہب نہیں تھا جو نئی سوچ اور نئے دور کے سوالات کا جواب نہ دے پاتا،سو جوں جوں وقت گذارا انہی قدامت پسند مسلمانوں میں سے ایک گروہ ابھرا جسے یہ ادراک ہوا کہ اسلام کے عقائد کی عقلی تشریح ضروری ہے ، دینی علوم کے ان ماہرین نے علم الکلام کی مدد سے اپنے عقیدے کا دفاع کیا اور یہ لوگ’’ متکلمین‘‘ کہلائے ، ان کے ایک سرکردہ عالم ابو الحسن علی بن اسماعیل الاشعری کو اس قدر مقبولیت حاصل ہوئی کہ ان کے مکتبہ فکر کو ’’الاشعری‘‘ کہا جانے لگا۔
الاشعری بصرہ میں پیدا ہوئے ،جوانی کے ایام سے ہی وہ معتزلہ کے زیر اثر رہے اور عظیم سکالر الجبائی کی شاگردی اختیار کی ،چالیس برس کی عمر تک آپ معتزلہ کے نظریات کے زبردست حامی رہے مگر اس کے بعد یکایک آپ میں ایک حیرت انگیز تبدیلی رونما ہوئی ، ایک دن آپ بصرہ کی مسجد میں گئے اور اعلان کیا :’’آپ میں سے جو لوگ مجھے جانتے ہیں اور جو نہیں جانتے ،سب سن لیں کہ میں ابو الحسن علی الاشعری یہ کہا کرتا تھا کہ قرآن کو تخلیق کیا گیا ہے ،اور یہ کہ انسان کی آنکھ کبھی خدا کونہیں دیکھ پائے گی، اور یہ کہ مخلوق اپنے اعمال خود تخلیق کرتی ہے ! لوگو ،میں شرمندہ ہوں کہ میں معتزلہ کے ان نظریات کا حامی تھا ، میں ان خیالات کو ترک کرتا ہوں اور یہ اعلان کرتا ہوں کہ میں فسق و فجور پر مبنی ان نظریات کو بے نقاب کروں گا!‘‘ الاشعری کے نظریات میں راتوں رات یہ تبدیلی کیوںکر آئی اس بارے میں متضاد آرا پائی جاتی ہیں تاہم ابن خلکان لکھتا ہے کہ الاشعری کی اپنے استاد الجبائی سے اس بات پر بحث ہوئی کہ کیا خدا کے افعال عقلی بنیاد پر سمجھے جا سکتے ہیں اور کیا خدااپنی مخلوق کے لئے بہترین راستے کا انتخاب کرنے کاپابند ہے ؟ یہ وہی موقع تھا جب الاشعری نے اپنے استاد سے تین بھائیوں کی مثال دے کر سوال کیا اور تسلی بخش جواب نہ پا کر معتزلہ کو ترک کردیا۔اس تبدیلی کے بعد الاشعری نے بے شمار کتابیں لکھیں ،ایک اندازے کے مطابق ان کی تعداد300 کے قریب ہے ، تاہم ابن عساکر نے 93کتب کے نام دئیے ہیں اور ان میں سے بھی چند ہی آج محفوظ ہیں ۔
الاشعری کے دور میں معتزلہ اور قدامت پسند علماء، دونوں مکتبہ فکر کے نظریات انتہا پسندانہ تھے ،ایک خدا کو عقل کی کسوٹی کے علاوہ پرکھنے کو تیار ہی نہیں تھا جبکہ دوسرامذہبی عقائد پر بحث کو ہی کفر سمجھتا تھا ، الاشعری نے ایک معتدل پوزیشن لی اور اپنے علمی استدلال کی بنیاد پر دونوں مکتبہ ہائے فکر کے نظریات کا جواب دیا ۔قدامت پسند علماء کے نظریات کا جواب الاشعری نے تین دلائل کی مدد سے دیا اور ان کے جامد خیالات کی دھجیاں اڑا دیں۔الاشعری نے کہا کہ رسول ﷺنے کبھی یہ نہیں کہا کہ جو لوگ ایمان سے متعلق مسائل پر بحث کریں گے ان کی مذمت کی جائے یا انہیں ’’بدعتی‘‘ کہا جائے ، اور یوں بقول الاشعری ،جو لوگ آج کل یہ کام کررہے ہیں ایک طرح سے وہ خود بدعت کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ دوسرا، قدامت پسند علماء کا کہنا تھا کہ ایٹم ، خلا، اجسام ، حرکت ، حادثات اور خدا کی صفات پر بحث کرنا بھی بدعتی کے زمرے میں آتا ہے کیونکہ اگر یہ بحث درست ہوتی تو رسول خداﷺ اور صحابہ کرامؓ نے بھی اپنے زمانے میں اس کا رواج ڈالا ہوتا ۔الاشعری نے اس کے جواب میں کہا کہ رسول ﷺ ان تمام علوم سے وابستہ مسائل سے ناواقف نہیں تھے اگرچہ انہوں نے کبھی علیحدہ سے ان پر گفتگو نہیں فرمائی ،تاہم اس ضمن میں عمومی اصول قرآن اور سنت میں بیان کر دئیے گئے ہیں، ثبوت کے طور پر الاشعری قرآن کی ان آیات اور رسول ﷺ کی ان احادیث کا حوالہ دیتا ہے جن میں حرکت ، سکون اور توحید وغیرہ کے مسائل پر بات کی گئی ہے ۔تیسری دلیل الاشعری یہ دیتا ہے کہ رسول ﷺ ان تمام معاملات کی تفصیل سے آگاہی رکھتے تھے مگر آپ ﷺ کے دور میں کبھی یہ مسائل ظاہر ہی نہیں ہوئے تو ان پر گفتگو کرنے کی چنداں ضرورت بھی پیش نہیں آئی لہٰذا ان کے بارے میں گفتگو کی ممانعت یا اجازت کا سوال ہی نہیں اٹھتا۔آپ ﷺ کے بعد جب صحابہؓ کے دور میں مختلف مذہبی مسائل نے جنم لیا تو ان تمام مسائل پر بحث ہوئی جن سے متعلق رسول اللہ ﷺ کے صریح احکامات موجود نہیں تھے ، اور اسی وجہ سے صحابہؓ کے مابین بھی اختلاف رائے ہوا ، لہٰذا یہ نتیجہ نکالنا کہ مذہبی عقائدپر بحث دراصل مذہب میں اختراع نکالنے کے مترادف ہے ،سراسر غلط ہے۔
مسلم فکر کے اس سنہری دور کی تین باتیں غور طلب ہیں ،پہلی :اس زمانے کے دانشور اپنے خیالات میں جامد نہیں تھے ، الاشعری جیسے عالم کوبھی جب احساس ہوا کہ اس کا نقطہ نظر درست نہیں تو انہوں نے اپنے خیالات سے رجوع کر لیا اور اپنی انا کو آڑے نہیں آنے دیا ۔آج کل کے نام نہاد دانشوروں کے منہ سے جو بات نکل جائے وہ اسے حرف آخر سمجھتے ہیں اور غلط ثابت ہونے کی صورت میں معافی مانگنے کی بجائے ڈھٹائی سے اس پر قائم رہنے کو اپنی دانشوری کی معراج سمجھتے ہیں ۔دوسرا:اس دور کے علماء کا مطالعہ اور علمی کام اس قدر وسیع تھا کہ شاید ہی آج کل کا کوئی بڑے سے بڑاعالم ان کی ہمسری کا دعویٰ کر سکے ، جتنی کتابیں یہ علماء لکھ ڈالتے تھے اتنی شاید ہم اپنی پوری زندگی میں پڑھ نہیں سکتے مگر بات اس قطعیت کے ساتھ کرتے ہیں گویا پانچ ہزار سال کی تاریخ گھول کر پی رکھی ہے۔ تیسرا :مسلم علما ء کے نظریات میں شدید ترین اختلاف کے باوجود ایسا نہیں ہوا کہ کسی نے مخالفانہ خیالات کی پاداش میں خود کش حملے یا ٹارگٹ کلنگ میں قتل کر دیا ہو، یہ تمام فکری اور علمی نوعیت کے اختلافات تھے جن پر مسلمان فلسفیوں نے برس ہا برس تک بحث کی ،افسوس کہ آج عام نوعیت کے سوال اٹھانے پر بھی زباں بندی ہے اور یہی زوال کی وجہ ہے !
نوٹ:اس کالم میں حقائق، فلسفے کے پروفیسر ایم عبدالحئی کے مضمون سے حاصل کئے گئے ہیں ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *