مادام.... ساحر لدھیانوی کی ایک شاہکار نظم

saharآپ بے وجہ پریشان سی کیوں ہیں میڈیم
لوگ کہتے ہیں تو پھر ٹھیک ہی کہتے ہوں گے
میرے احباب نے تہذیب نہ سیکھی ہوگی
میرے ماحول میں انسان نہ رہتے ہوں گے
نورِ سرمایہ سے ہے روحِ تمدن کی جلا
ہم جہاں ہیں وہاں تہذیب نہیں پل سکتی
مفلسی حسِ لطافت کو مٹا دیتی ہے
بھوک آداب کے سانچوں میں نہیں ڈھل سکتی
لوگ کہتے ہیں تو لوگوں پر تعجب کیسا
سچ تو کہتے ہیں کہ ناداروں کی عزت کیسی
لوگ کہتے ہیں... مگر آپ ابھی تک چپ ہیں
آپ بھی کہیے ، غریبوں میں شرافت کیسی
نیک مادام! بہت جلد وہ دور آئے گا
جب ہمیں زیست کے ادوار پرکھنے ہوں گے
اپنی ذلت کی قسم، آپ کی عظمت کی قسم
ہم کو تعظیم کے معیار پرکھنے ہوں گے
ہم نے ہر دور میں تذلیل سہی ہے لیکن
ہم نے ہر دور کے چہرے کو ضیا بخشی ہے
ہم نے ہر دور میں محنت کے ستم جھیلے ہیں
ہم نے ہر دور کے ہاتھوں کو حنا بخشی ہے
لیکن ان تلخ مباحث سے بھلا کیا حاصل
لوگ کہتے ہیں تو پھر ٹھیک ہی کہتے ہوں گے
میرے احباب نے تہذیب نہ سیکھی ہوگی
میرے ماحول میں انسان نہ رہتے ہوں گے
ایک مرتبہ نامور کالم نگار مسٹر ایاز امیر نے لکھا تھا کہ ساحر لدھیانوی کا پاکستان چھوڑ کر ہندوستان چلے جانے ہماری قومی تاریخ کے عظیم ترین سانحات میں شمار کیا جانا چاہیے ۔ افسوس، ہماری نسل اردو کے اس عظیم شاعر کے نام سے بھی ناواقف ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *