ایک اور دریا کا سامنا کرنے والی مصیبت

Photo

پانامہ دستاویزات کی وجہ سے اُٹھے شور کی بدولت فی الوقت ساری توجہ شریف خاندان کے مالی معاملات تک محدود ہے تین نسلوں کے اثاثوں کا حساب دینا پڑرہا ہے سارا قضیہ مگر صرف منی ٹریل پر اٹک گیا ہے۔ مبینہ طور پر ٹیکس سے بچائی رقوم خلیجی ممالک سے ہوتی ہوئی لندن پہنچ گئیں۔ شریف خاندان کا دعویٰ ہے کہ ایسے نہیں ہوا تھا۔ ان کے والد کی بہت محنت سے بنائی صنعتی ایمپائر کو ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت نے قومیا لیا تو وہ ایک خلیجی ملک چلے گئے۔ تیل کی فروخت سے بے تحاشہ آئی دولت کو خلیجی حکمران اپنی ریاستوں میں جدید کاروبار کے پھیلاﺅ کے لئے استعمال کرنا چاہ رہے تھے۔ شریف خاندان کے بڑوں نے اپنی ساکھ اور تجربے کی بنیاد پر ان سے مختلف نوعیت کی شراکت داریاں کیں۔ منافع ملک سے باہر کمایا اور وہیں جمع ہوتا رہا۔ بالآخرا س میں سے گرانقدر حصہ نواز شریف کے دونوں بیٹوں کو منتقل ہوا۔ انہوں نے اسے پراپرٹی کے دھندے میں لگاکر مزید منافع کمانا شروع کردیا۔ مخالفین کی مگر تسلی نہیں ہو رہی اس سارے عمل کے بارے میں اخلاقی اور سیاسی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ فیصلہ مگر سپریم کورٹ نے کرنا ہے بہتر ہے انتظار کرلیا جائے۔ اگرچہ یہ انتظار اندھی نفرتوں اور عقیدتوں میں بٹے معاشرے میں ناممکن دکھائی دے رہا ہے۔ شریف خاندان مگر ہمارے ملک کا صرف ایک کاروباری خاندان ہے اس کے لئے اگرچہ بہت سارے سوالات کا جواب دینا اس لئے بھی ضروری ہے کہ 1980 کی دہائی سے وہ سیاسی طور پر بھی بہت نمایاں ہونا شروع ہوگیا تھا۔ دوبار محترمہ بے نظیر بھٹو کی حکومت کے خلاف لڑنے اور جنرل مشرف کے دور میں طویل جلاوطنی کے باوجود بھی نواز شریف تیسری بار اس ملک کے وزیراعظم منتخب ہوئے ہیں۔ اٹک سے رحیم یار خان تک پھیلا پاکستان کا آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ 2008ءسے چھوٹے بھائی شہباز شریف کے مکمل کنٹرول میں ہے ایسی قوت واختیار کو ٹھنڈے پیٹوں برداشت کرنا مشکل ہوتا ہے۔ جھوٹے سچے الزامات اور سوالات سے بچاﺅ ممکن ہی نہیں۔ چند دنوں سے البتہ مجھے ایک قطعاً مختلف نوعیت کا سوال بھی تنگ کئے جارہا ہے اور وہ یہ کہ آیا شریف خاندان ہی پاکستان کا واحد خاندان ہے جہاں مالی اور سیاسی قوت ایک دوسرے میں گڈمڈ ہوتی نظر آتی ہے؟ اس سوال کا جواب ڈھونڈنا شروع کیا تو ذہن ”شہر جاناں میں اب باصفاکون ہے؟ “والا مصرعہ یاد کرنے پر مجبور ہوگیا۔
برصغیر کے مسلمان کاروباری حوالوں سے بہت نمایاں اور کامیاب نہیں گردانے جاتے تھے۔ قیام پاکستان کی ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ مسلم صنعت کاروں کو انگریزوں کے یہاں سے رخصت ہوجانے کے بعد متحدہ رہے ہندوستان میں اپنی ترقی کے امکانات نظر نہیں آرہے تھے۔ قیامِ پاکستان کے بعد ہماری ریاست نے بہت سوچ بچار کے بعد ایسی پالیسیاں بنائیں جن کی بدولت مقامی صنعت کاروں کو آسان شرائط پر نئے کاروبار متعارف کروانے کے لئے بھاری قرضے فراہم کئے گئے۔ 1958ءمیں ایوب خانی مارشل لاءکے نفاذ کے بعد ان پالیسیوں کو ورلڈ بینک وغیرہ کی معاونت بھی میسر ہوگئی۔ ایوب خان نے جن سیاست دانوں سے تنگ آکر اقتدار پر قبضہ کیا تھا ان کی اکثریت کا تعلق روایتی جاگیردارانہ گھرانوں سے تھا۔ ان خاندانوں کے چند نوجوانون بیرسٹری وغیرہ کی تعلیم کے لئے برطانیہ جاتے۔ واپس آ کر بجائے وکالت پر توجہ دینے کے وہ سیاست میں حصہ لینا شر وع کردیتے۔ ان کی سیاست مگر دھڑے بندی اور جوڑ توڑ کی سیاست ہوا کرتی تھی جو ملک میں سیاسی استحکام کی صورت پیدا کرنے میں ناکام رہتی۔ ایوب خان نے بی ڈی سسٹم اور صدارتی نظام کے ذریعے فوج کی سرپرستی میں سیاسی نظام کی ایک مخصوص قسم کو مستحکم کرنے کی کوشش کی۔ اسے ”جدید“ اور مزید توانا بنانے کے لئے کئی صنعتی گھرانوں کو مرکزی اور صوبائی وزارتوں میں اہم عہدے بھی دئیے گئے۔1968ءمیں لیکن یہ دریافت ہوا کہ ایوب خان کا متعارف کردہ نظام نہ صرف جابرانہ ہے بلکہ اس کی بدولت ریاستی سرپرستی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے 22کے قریب صنعت کار گھرانے اس ملک کے تمام دھندوں پر اجارہ دار کی حیثیت حاصل کرچکے ہیں۔ امیر اور غریب میں تفاوت خوفناک حد تک بڑھ گیا تھا۔ اسی نظام نے مشرقی پاکستان میں احساس محرومی بھی پیدا کیا جس کا
انجام سقوط ڈھاکہ کی صورت دیکھنے کو ملا۔ ذوالفقار علی بھٹو کے ”نئے پاکستان“ میں ریاست نے سوشلزم کے نام پر ازخود کاروبار شروع کردیا۔آزاد منش کاروباری لوگوں کے لئے منافع کمانا مشکل ہوگیا۔ان میں سے کئی نمایاں لوگ خلیجی ممالک میں ابھرتے امکانات سے فائدہ اٹھانے کے لئے وہاں منتقل ہوگئے ہر نوعیت کے کاروبار پر ریاستی اجارے نے بھٹو حکومت کے خلاف جو غصہ اور بداعتمادی پیدا کی اس کا نتیجہ 1977ءکی تحریک کی صورت برآمد ہوا۔ اس تحریک نے ضیاءالحق کو مارشل لاءلگانے کی ترغیب دی۔ اقتدار پر مکمل کنٹرول حاصل کر لینے کے بعد ضیاءنے بھی فوجی سرپرستی میں جو معاشی نظام متعارف کروایا وہ دیکھنے کو آدھا تیتر اور آدھا بٹیر تھا۔ ٹھوس مقامی اور عالمی وجوہات کی بناءپر لیکن وہ مکمل سرمایہ دارانہ نظام میں تبدیل ہوئے بغیر رہ ہی نہیں سکتا تھا۔ ضیاءالحق کی سرپرستی میں محض شریف خاندان ہی نہیں بہت سارے دیگر کاروباری گھرانے بھی سیاست میں متحرک ہوگئے۔ شاید ان سب نے سیاسی قوت واختیار حاصل کرنے کی کوشش اس لئے بھی کی کہ آئندہ کوئی اور ”بھٹو“پیدا ہوکر انہیں دیوار سے نہ لگادے چونکہ اس کالم کے ذریعے ایک عمومی سوال اٹھارہا ہوں لہذا نام لینا ضروری نہیں۔ ٹھوس حقیقت مگر یہ بھی ہے کہ صرف شریف خاندان یا پاکستان مسلم لیگ نون ہی نہیں پاکستان کی ہر چھوٹی بڑی سیاسی جماعت میں اس وقت ایسے کاروباری گھرانوں کے لوگ نمایاں اثرورسوخ کے حامل ہیں جنہوں نے ایوب، ضیاءاور مشرف کے فوجی ادوارمیں سرکاری سرپرستی کی بدولت اپنے کاروبار کو فروغ دیا۔ ان کی جماعت کو اقتدار ملا تو اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں کہ یہ افراد مرکزی اور صوبائی حکومتوں میں اہم عہدے حاصل کرنے کے بعد اپنی سرکاری حیثیت کو اپنے ہی کاروبار کی مزید وسعت کے لئے استعمال نہیں کریں گے۔ اصل مسئلہ ہمارا یہ ہے کہ سیاسی جماعتیں یہاں منظم نہیں ہیں۔ متوسط طبقے کے کسی شخص کے لئے نچلی سطح سے سیاسی عمل میں حصہ لیتے ہوئے مرکزی اور صوبائی حکومتوں میں قوت واختیار حاصل کرنے کی گنجائش باقی نہیں رہی۔ ادارے ہمارے کمزور ہیں۔منافع کمانے کی ہوس میں مبتلا ہوئے”سیاسی“ لوگوںکو لگام ڈالنے کا کوئی صاف اور شفاف نظام ہمارے ہاں موجود ہی نہیں۔اس کی عدم موجودگی میں شریف خاندان کو پانامہ کے حوالے سے دیوار کے ساتھ لگابھی دیا گیا تو بات ویسی ہی ہوگی جو منیر نیازی نے کہی تھی یعنی ایک دریا کو پار کرنے کے بعد ایک اور دریا کا سامنا کرنے والی مصیبت۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *