پچھلے چار سال میں عمران خان نے جمہوریت کو بچانے کی کوشش

usman ali virkعثمان علی ورک

عمران خان اگلے الیکشن جیتیں یا نہ جیتیں انہوں نے ہماری جمہوریت کو ایسے ہی سہارا دیا ہے جیسے انہوں نے 1992 میں ایک دل برداشتہ ٹیم کو دیا تھا۔ انہوں نے شوکت خانم ہسپتال کے ذریعے سینکڑوں کینسر کے مریضوں کو بھی امید دی ہے۔ اگر ہم 2011 میں دیکھیں  ملک میں پریشانی اور عدم استحکام کی صورت حال واضح نظر آتی ہے۔ لوگوں نے پیپلز پارٹی کو بہت زیادہ توقعات کے ساتھ ووٹ دے کر منتخب کیا تھا  کہ یہ پارٹی ملک کو واپس جمہوریت کے دور میں لے جائے گی۔ آصف زرداری اور ان کی ٹیم نے یہ موقع ضائع کر دیا اور جمہوریت کو مضبوط کرنے میں ناکام رہے۔ انہوں نے تو
پورے نظام کا مذاق بنا دیا۔ کرپشن،  نااہلی اور اقربا پروری ملک میں رائج ہوگئی۔ لوگوں کا سسٹم سے بھروسہ ختم ہو گیا۔ 

ن لیگ نے ان چیزوں کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا۔ ن لیگ نے معاہدہ کر لیا کہ وہ پی پی کو حکومت سے نہیں ہٹائیں اور جواب میں ن لیگ کے دور میں پی پی ان کے لیے رکاوٹ نہیں بنے گی۔ اس معاہدے کے تحت ن لیگ نے اپنی توجہ پنجاب حکومت پر مرکوز رکھی  اور مرکزی حکومت کو فری ہینڈ دیے رکھا۔ پھر وہ ہوا جو کسی کو اندازہ نہ تھا۔ دسمبر 2011میں عمران خان نے لاہور میں ایک کنوینشن منعقد کیا۔ انہیں اس قدر سپورٹ ملی جو کبھی ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر کو بھی نہیں ملی تھیں۔اب دیکھتے ہیں کہ یہ کیسے عمران خان نے پچھلے چار سال میں جمہوریت کی ساکھ بحال کی۔

پہلی بات انہوں نے یہ کی کہ جو لوگ سیاست سے دوری اختیار کیے ہوئے تھے انہیں ووٹ کا حق استعمال کرنے پر ابھارا۔ انہوں نے عوام کو بتایاکہ ایک ایسے معاشرے کے قیام کے لیے کام کریں جہاں ایک شخص کی بجائے  قانون کی حکومت ہو گی۔ اس سے ملک کے نوجوانان میں  ایک نئی امید پیدا ہوئی۔ اس کے ساتھ پی ٹی آئی نے عوام کے سامنے ایک تیسرا آپشن بھی پیش کیا۔ 2 پارٹی سسٹم کا خاتمہ ہو گیا۔ امریکہ ، انگلینڈ اور انڈیا میں بھی تیسری پارٹی کی غیر موجودگی سے لوگوں میں مایوسی  پائی جاتی ہے۔

دوسری چیز یہ ہے کہ اگر ہم کے پی کے میں پی ٹی آئی کی پرفارمنس کو دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے بہت اچھے کام کیے ہیں۔ دہشت گردی کے شکار اس صوبے میں پی ٹی آئی نے  عوام کی خوشحالی کے لیے بہت تبدیلیاں لائی ہیں۔ اس میں ہیلتھ کئیر، تعلیم، پولیس، لینڈر یفارم، اور دوسرے اہم imran democracyاقدامات شامل ہیں۔

لوکل الیکشن کے ذریعے اختیارات گاوں اور تحصیلوں تک منتقل کیے گئے  جس سے عوام کو فیصلہ کرنے کا اخیتارحاصل ہوا۔ انرجی پروڈکشن کےلحاظ سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی نے کلین انرجی پراجیکٹ میں بہت زیادہ ا نویسٹمنٹ کی ہے ۔ بلین ٹری سونامی ڈائیو نامی مہم بھی بہت اعلی چیز تھی۔ اس مہم کو دنیابھر میں سراہا گیا۔ ایک صدی قبل برطانوی حکومت کیطرف  سے چھانگا مانگا نیشنل پارک کی تیاری کے بعد یہ پاکستانی ایڈمنسٹریشن کی طرف سے پہلا اقدام تھا۔

پی ٹی آئی کی توسیع پسندانہ پالیسیوں اور قانون سازی کا بھی اہم اثر رہا۔ اس سے عوام کو معلوم ہوا کہ اصل میں ترقی کسے کہتے ہیں۔ پی ٹی آئی کے منظر عام پر آنے سے پہلے میگا پراجیکٹ جن میں میٹرو بس اور موٹر وے شامل تھے کو ترقی کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ پی پی نے ملک کا اتنا بیڑا غرق کر دیاتھا کہ لوگ کہنے لگے تھے کہ  ن لیگ کچھ تو کر رہی ہے۔ لیکن پی ٹی آئی کے ویلیفئر پرمبنی پالیسیوں سے ترقی کا معیار بلندیوں کو چھونے لگا۔ کے پی میں ترقیاتی کاموں کے علاوہ پی ٹی آئی نے صوبے کی خود مختاری بھی بحال کی ہے۔ دوسری علاقائی حکومتیں پی ٹی آئی سے سبق سیکھ سکتے ہیں  کہ کیسے مرکزی حکومت پر انحصار کیے بغیر اپنے صوبے کو ترقی کی راہ پر ڈالا جا سکتا ہے۔ 

اب نواز اور عمران کے درمیان عوام کا دل جیتنے کے لیے سخت جنگ جاری ہے۔ اس سے قبل کبھی ن لیگ کو اتنی سخت مزاحمت کا سامنا نہیں کر نا پڑا۔ بات سی پیک کی ہو یا ملکی ترقیاتی پراجیکٹ کی، صحت کے میدان کو دیکھیں یا تعلیم کے شعبے کو، عام آدمی کو ہرلحا ظ سے فائدہ پہنچ رہا ہے۔

عمران خان کے مخالفین کہتے ہیں کہ عمران کے دھرنوں سے جمہوریت کو سخت نقصان پہنچا ہے۔ لیکن یہ دعوی حقیقت سے بر عکس ہے۔ امریکہ، جنوبی کوریا اور رومانیہ میں ہونے والے مظاہروں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ  جمہوریت میں احتجاج کا حق سب سے بہترین راستہ ہے۔

 آخر میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ  ہمیں امید رکھنی چاہیے کہ فیض احمد فیض کے یہ الفاظ شرمندہ تعبیرنہ ہوں کیونکہ پاکستان میں جمہوریت کی بحالی عمران خان کی وجہ سے ہے  اور عمران خان  نے جوامید عوام میں جگائی ہے اس پر پورا اترنے کے لیے ہمیشہ کوشش کرتے رہیں گے۔ فیض نےکہا تھا: ہمارے ملک میں ایک فقیر آیا جس کی آواز بہت خوبصورت اور پر کشش تھی۔ وہ غزلیں گاتا ہوا آیا  اور پھر ایسے ہی گاتا ہوا واپس چلا گیا۔ 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *