لاہور بم دھماکہ اور پی ٹی آئی کی کامیابی

رضا حبیب راجاraza habib

میرا شہر ایک بار پھر لہو لہو ہے۔ بہت سے لوگوں نے حالیہ دھماکے کی  مذمت کی ہے ۔ کچھ لوگوں نے دہشت گردی سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کا عہد کیا ہے ۔نواز شریف اور قمر جاوید باجوہ نے دھماکے کی پرزور مذمت کی ہے۔  لگتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہمارے ملٹری اور سویلین لیڈر ایک پیج پر ہیں۔ البتہ معاشرے کے کچھ افراد کا رد عمل بہت ہی احمقانہ تھا۔ تحریک انصاف کے ایک ایم پی اے مراد راس نے دھماکے سے کچھ دیر بعد ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا:

شہباز شریف کے خلاف آج پنجاب اسمبلی میں ایک ریفرنس کی بہت زبر دست سماعت ہوئی جس میں بابر اعوان اور  پی ٹی آئی کے ایم پی اے نے انہیں آڑے ہاتھوں لیا۔ شہباز شریف کو جانا ہو گا۔ اور پھر پنجاب اسمبلی کے باہر دھماکہ؟

یہ بات بہت افسوس ناک ہے کہ اس در د اور الم کے وقت بھی کچھ پی ٹی آئی سیاستدان غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے الزامات کی سیاست کر رہے ہیں۔ وہ لاشوں پر سیاست کرنے کی کوشش میں ہیں۔ ہم نے ہمیشہ پی ٹی آئی کو دعوی کرتے سنا ہے کہ یہی پارٹی عام آدمی کے لیے لڑ رہی ہے  اور ان کی حقیقی نمائندگی کرتی ہے  لیکن اس لمحے اس پارٹی کے ایم پی اے  کے اس ٹویٹ نے پارٹی کے بیان اور دعووں کی قلعی کھول دی ہے۔ ان الفاظ سے لگتا ہے کہ پارٹی کو شہیدوں کی قربانی سے کوئی غرض نہیں ہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ نواز شریف کو نیچا دکھانے کے لیے عمران خان  ہر غیر اخلاقی طریقہ اختیار کرنے کےلیے تیار ہے اور اس بڑے واقعہ کو بھی نواز شریف کے کھاتے میں ڈال کر ان پر پریشر ڈالنے کی خواہش مند ہے۔ ایم پی اے کے ان الفاظ کی پر زور مذمت کرنی چاہیے اور کچھ لوگوں نے اس کی مذمت کی ہے۔ ضرار کوہڑو نے ٹویٹ  میں لکھا: اتنی زیادہ قیمتی جانیں چلی گئیں لیکن اس جماعت کے ایم پی اے کو سیاست سوجھ رہی ہے۔ شرم آنی چاہیے۔

لیکن پی ٹی آئی کاٹویٹر  ٹولہ اپنے ایم پی اے کے دفاع کے لیے پہنچ گیا ۔معافی مانگنے اور ٹویٹ کو ڈیلیٹ کرنے کی بجائے ایم پی اے نے مزید سخت لہجہ اختیار کیا اور یہی الزام ایک بار پھر دہرایا۔ انہوں نے واضح الفاظ میں لکھا کہ  دھماکہ کیوجہ سے میڈیا کی طرف ہٹا لی گئی ہے اور اب کوئی شخص اس ریفرنس کے بارے میں نہیں جان پائے گا۔ کچھ پی ٹی آئی سپورٹرز کا کہنا تھا کہ جب بھی حکومت کو خطرہ محسوس ہوتا ہے تو ایک دھماکہ ہو جاتا ہے۔ میں اس سے قبل بھی اس طرح کے واہیات بیانات سن چکا ہوں۔ پی ٹی آئی کے جیالوں کی یہ سوچ  بہت خطرناک ہے کیونکہ اس میں دہشت گردی کے عنصر کو تسلیم ہی نہیں کیا جا رہا۔ قوم کی توجہ دہشت گردی کی بنیادی وجوہات سے عوام کو آگاہ کرنے کی بجائے دوسری چالیں چلی جا رہی ہیں۔

ایسا ہی ایک ٹویٹ ایک پی ٹی آئی ایم پی اے کا ہے جو کوئٹہ دھماکے کے بعد لکھا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ کرپشن کے معاملے میں عوام کی توجہ ہٹانے کےلیے کوئٹہ حملہ حکومت نے خود کروایا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت بھارتی ایجنسیوں سے ملی ہوئی ہے اور  آرمی پبلک سکو ل واقعہ کی ذمہ دار بھی نواز شریف حکومت ہے۔ پچھلے کچھ عرصہ میں پی ٹی آئی یا تو شدت پسندی کا دفاع کرتی آئی ہے  یا پھر عجیب و غریب قسم کی تھیوری پیش کرتی نظر آتی ہے۔ اے پی ایس حملے کے بعد پی ٹی آئی کا یہ موقف تھا کہ یہ افغان جنگ کا ری ایکشن ہے۔ عمران خان نے کئی بار دہشت گردی کا باعث ڈرون حملوں اور پاکستان کا امریکہ کے ساتھ جنگ میں شامل ہونا بتایا۔ انہوں نے مزید کہا کہ تحریک طالبان پاکستان کو پاکستان میں آفس کھولنے کی اجازت ملنی چاہیے۔ ان کے اس موقف کی وجہ سے تحریک طالبان کے ساتھ امن معاہدے کی جب بات شروع ہوئی تو انہوں نے عمران خان کو ہی اپنا سفیر مقرر کیا۔

 اے پی ایس حملے کے بعد پی ٹی آئی کا موقف بدلا اور اب یہ پارٹی بیرونی طاقتوں کو دہشت گردی کا ذمہ دار قرار دے رہی ہے۔ عمران خان کا کہنا ہے کہ غیر ملکی ایجنسیاں نواز شریف کے اشارے پر کاروائی کرتی ہیں تا کہ ان کی کرپشن چھپی رہے۔ مجھے اس تو اس مائنڈ سیٹ پر ہی ترس آتا ہے۔ مزید عجیب بات یہ ہے کہ بہت سے لوگ یہ سمجھنے لگے ہیں کہ ملک میں کرپشن کی کمی عمران خان کیوجہ سے ہے اور  عمران خان نے جمہوریت میں عوام کا اعتماد بحال کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پی ٹی آئی کی حرکتوں کا جمہوریت سے گہرا تضاد ہے۔ پہلے تو اس پارٹی نے الیکشن کے نتائج کو قبول کرنے سے انکار کیا  جس کا ملک کو اربوں روپے کے نقصان کی صورت میں خمیازہ بھگتنا پڑا۔ اور ملک میں عدم استحکام بھی پیدا ہوا۔

 

پہلے دھرنا کے دوران عمران خان نے اپنے سپورٹرز کی جان کو خطرے میں ڈالتے ہوئے انہیں سرخ لائن عبور کرنے کا کہا۔  کوئی بھی شخص اس طرح کی حرکات کو جمہوری نہیں قرار دے سکتا۔ آپ جمہوریت کی ساکھ کیسے بحال کر سکتے ہیں جب آپ خود ملکی اداروں کا تقدس پامال کر رہے ہوں۔ پی ٹی آئی کے سپورٹرز کہیں گے کہ 2013 کے الیکشن میں دھاندلی ہوئی تھی۔ کیا آپ کو لگتا ہے کہ دھاندلی ہوئی تھی؟ الیکشن سے قبل کسی سروے میں یہ نہیں بتایا گیا تھا کہ پی ٹی آئی ملک میں الیکشن جیتنے کی پوزیشن میں ہے۔ الیکشن کے بعد پی ٹی آئی کو لوکل گورنمنٹ الیکشن میں شکست ہوئی اور ضمنی انتخاباات میں بھی زیادہ تر سیٹیں پی ٹی آئی ہار گئی۔ جوڈیشل کمیشن نے بھی ان کا دھاندلی کا الزام رد کر دیا۔ کچھ عرصہ قبل عمران خان نے فوج کو بھی اقتدار سنبھالنے کی درخواست کی  اور جمہوریت کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کی۔ ان کی کرپشن کے خلاف مہم بھی پانامہ لیکس پر مبنی ہے اور وہ  اس مہم کو سیاسی مقصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

 اس سے ملک میں کوئی تبدیلی تو آئی نہیں الٹا اہم مسائل سے توجہ ہٹ گئی ہے۔ پی ٹی آئی کے زیادہ تر سپورٹر اس مہم میں اتنے کھو چکے ہیں کہ ان کو دہشت گردی اور بم دھماکوں سے بھی سیاسی چالیں نظر آتی ہیں اور وہ حکومت پر الزام دھر دیتے ہیں۔ پی ٹی آئی کی حقیقی کامیابی  یہ ہے کہ یہ چالوں کے ذریعے اور غیر جمہوری طریقوں سے اس چال کے مائنڈ سیٹ کو متعارف کروانے میں کامیاب ہوئی ہے۔ پی ٹی آئی کے بیانیہ کی وجہ سے عوام اپنے ملک میں اپنی خامیوں پر  نظر ڈالنے کے بجائے دوسری طاقتوں کو الزام دیتے ہیں۔ ان کے غیر ضروری مقابلے کی عادت اور اداروں کو حد سے آگے جانے پر ابھارنے کی وجہ سے ملک میں جمہوریت مضبوط ہونے کی بجائے کمزور پڑ چکی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *