خوشی کا گھر

سلمان راشدsalnman rashid

بربادی جو ایک بارہ دروازوں والی عمارت ہے ایک ٹیلے پر اینٹوں سے تعمیر کی گئی ہے۔ لوگ اسے چوبارہ کے نام سے یاد رکھتے ہیں۔برصغیر میں ایسی بہت سی عمارتیں ہیں جہاں امرا وقت گزارنے کے لیے آیا کرتے اور یہاں کچھ اچھا وقت گزارتے لیکن ایسی تعمیرات کبھی بھی رہائش گاہ کے طور پر استعمال نہیں کی گئی ہیں۔   بربادی جس ملک میں واقع ہے وہی ملک ایک وقت دریا ئے بیاس سے مستفید ہوتا تھا جو چونیاں کے علاقے سے گزرتا تھا۔ یہ اس دور کی بات ہے جو راجا تودار مال نے 17 ویں صدی میں اپنا خوشیوں کا گھر تعمیر کیا۔ لاہور سے تعلق رکھنے والا یہ راجا اور اس کا خاندان چونیاں میں بہت سی جائیداد رکھتے تھے۔

اس شخص کی فائنانس مینیجر کی حیثیت سے کامیابیوں نے اسے عظیم شہنشاہ اکبر کے  9 خاص آدمیوں کے بیچ کھڑا کر دیا۔ میں نے یہ عمارت پہلی بار 2009 میں دیکھی۔ جب میں اور میرا دوست اقبال قیصر کار سے نکلے تو پاس ہی کھیتوں میں کام کرنے والے لوگوں نے نقشے کے بارے میں کچھ کہا۔ جب میں نے دوست سے پوچھا تو  اس نے کہا کہ بہت جلد مجھے سمجھ آ جائے گی۔ ہم اس عمارت کے قریب پہنچے   تو اس میں مغل دور کے بہت سے خوبصورت آرکیٹیکچر کا مشاہدہ کیا ۔

یہ واحد 'بربادی' ہی ایسی عمارت تھی جو دو حصوں  پر کھڑی تھی اور دونوں حصوں کے بیچ صرف ایک یا دو میٹر کا فاصلہ تھا۔ عمارت میں بہت خوبصورت محراب اور ستون موجود تھے جو عمارت کی خوبصورتی میں اضافہ کر رہے تھے۔ زیادہ قریب جا کر دیکھا تو معلوم ہوا کہ عمارت دو حصوں پر مشتمل نہیں تھی۔ بلکہ اس کے دو حصے دو الگ طرح کی تعمیرات تھے ۔ دونوں ڈیزائن کے بیچ 200 سال کا فرق تھا۔ بڑی عمارت 17 ویں صدی کی فن تعمیر کا ایک نمونہ تھا    لیکن چھوٹی عمارت سکھوں کے زمانے کی تھی۔

اس عمارت کے بنانے والوں کی یہ خاصیت تھی کہ انہوں نے ہو بہو ایسی ہی عمارت تعمیر کی تھی جو 200 سال قبل بربادی کی صورت میں تعمیر کی گئی تھی۔ صرف  محراب مختلف تھے۔ اس کے باوجود دونوں عمارتوں میں فرق نظر نہیں آتا تھا۔ باہر سے اس قدر بری حالت میں نظر آنے والی ان تعمیرات کی ایک اور دکھی کہانی بھی تھی۔ دونوں تعمیرات برے طریقے سے تباہ ہو چکی تھیں۔ جو عمارت زیادہ پرانی تھی اس کے مین ہال کی بہت ہی بری حالت تھی ۔ دیواروں میں سوراخ ہو چکے تھے۔ محراب بھی تباہ ہو چکے تھے۔ یہی حالت چھوٹی عمارت کی بھی تھی۔ اس کے گنبد میں سے سوراخ واضح نظر آتے تھے۔

میرے دوست نے بتایا کہ لوگ یہاں خزانہ ڈھونڈنے آتے تھے۔ یہی بات ٹریکٹر پر بیٹھے شخص نے بھی ہنستے ہوئے بتائی تھی۔ اس نے پوچھا تھا کہ کیا ہمیں  صحیح والا نقشہ ملا تھا یا نہیں۔ چونکہ عمارت ایک ویران جگہ پر تھی اس لیے بدنام زمانہ لوگوں کو لگا کہ ضرور اس میں کوئی خزانہ چھپایا  گیا ہو گا۔ وہ اپنی کدالیں اور دوسرے ہتھیار لے کر پہنچ گئے اور اس عمارت کا برا حال کر دیا۔

لگتا ہے کہ ضرور کسی نے اس واقعہ کی رپورٹ جاگیردار کو کی ہو گی اور اس نے پولیس کو بھی بتایا ہو گا۔ لیکن اس طرح کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ پولیس جو شراب پینے اور ڈیٹ پر جانے والے  لوگوں کو ڈھونڈ نکالتی ہے کو اس بات کی خبر تو ضرور ہوئی ہو گی۔ یا پھر لوگوں کو یہ احساس ہی نہیں تھا کہ اس عمارت کی تباہی کا ہمارے ثقافتی ورثے سے کوئی تعلق ہے۔  سوال یہ ہے کہ ڈی سی او کر کیا رہا تھا جو اس نے اس قدر اہم عمارت کی تباہی پر کوئی ایکشن نہیں لیا۔ کیا یہ جرم اس کی سرپرستی میں تو نہیں واقع ہوا؟ جتنی تباہی عمارت میں ہوئی ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ چند گھنٹوں کا کام نہیں ہے۔ اس میں کم از کم 10 دن لگے ہوں گے۔

 میں یہ سوچ بھی نہیں سکتا کہ اتنے دنوں تک کسی لوکل شخص کو اس ساری سکیم کی کانوں کان خبر تک نہ ہوئی ہو۔ یا پھر یہاں بسنے والے لوگ بھی مردہ ہوچکے تھے۔ جس لہجے سے اس شخص نے نقشے کے بارے میں پوچھا تھا اس سے ہمیں وہاں کے لوگوں کی ذہنیت کا اندازہ ہوتا ہے ۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ یہ ہماری زمین نہیں ہے۔ ہمیں اپنی ثقافت سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ ہم سب عرب، وسطی ایشیائی اور ایرانی لوگ ہیں۔ ہم یہاں لوٹ مار کرنے آئے تھے اور موقع دیکھ کر کہیں اور لوٹ مار کرنے پہنچ جائیں گے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *