دہشت اور معیشت: منظریوں بھی بدلتے ہیں !

khalid mehmood rasool

منظر بدلنے پر آئے تو دیر ہی کتنی لگتی ہے ؟ اور منظر اگر درد کی طرح ٹھہر جائے تو وقت کے پل پھیل کر سالوں، دِہایوں اور صدیوں کو حنوط کر دیتے ہیں۔
لاہور کے ایک ہوٹل کے وسیع ہال میں کھچا کھچ بھرے ہال میں شہر کے نامی گرامی صحافی، میڈیا پرسنز، کالمسٹس، سابق جرنیل، سابق سفارتکار اور کئی سیاست دان جمع تھے۔ سننے سے کہیں زیادہ سنانے پر اصرار تھا۔ موضوع ہی کچھ ایسا تھا کہ سنانے والے زیادہ بے تاب تھے۔ پاکستان فورم کے زیر اہتمام اس ڈائیلا گ کا اہتمام سابق وزیر خارجہ خورشید قصوری نے بھارت سے آئے سیاست دان، کالمسٹ اور مصنف سد ھیندرا کلکرنی کی آمد پر کیا۔ بات وہی پرانی۔۔۔ پاک بھارت تعلقات کی کہانی۔ شرکاء کا اصرار کہ بھارت اپنی طاقت کے زعم میں مذاکرات سے گریزاں ہے۔ کشمیر میں سالہا سال سے جاری آرمی ایکشن نے آزادی کی شمع گل کرنے کی جتنی کوششیں کیں، اس شمع کی لَو اتنی ہی بڑھی۔ خطے اور دنیا میں پاکستان کو دہشت گردی کی آڑ میں تنہا کرنے کی بھارتی کوششوں کا دنیا نے ساتھ نہیں دیا۔ بہت ہو چکی، اب مذاکرات اور کشمیریوں کو ان کا حق دینے کا وقت آ گیا۔ کلکلرنی نے کمال دلیری سے ان سوالوں کا سامنا بھی کیا اور اپنا کچھ وزن ان کے پلڑے میں بھی ڈالا۔ ان کی اس بات نے تو سب کو حیران کر دیا کہ سالہاسال سے جاری ملٹری آپریشن کے بعد اب کئی فوجی افسروں کی بھی یہ رائے ہے کہ صرف فوجی آپریشن کشمیر کا حل نہیں۔ یہ آپریشن اب Sustainable نہیں ، اسکا سیاسی حل ہی امن لائے گا۔
یہ ڈائیلاگ ختم ہوا تو ہال سے نکل کر دوستوں کو خدا حافظ کہنے سے ابھی فراغت نہ ہوئی تھی کہ ایک زور دار دھماکہ ہوا۔ درودیوار لرز گئے، درختوں پر بیٹھے پرندے گھبرا کر شور مچاتے فضا میں دیوانہ وار اڑنے لگے۔ شام کے دھندلکے میں دھماکے کی سمت دیکھا تو دھویں کا بادل آسمان کو چھو رہا تھا۔ شام اور سیاہ بادل کا یہ منظرہال کے اندر کے منظر کو ایک ہی جھٹکے میں نگل گیا۔ پلک جھپکتے ہی منظر بدل گیا۔ چند لمحے قبل امید اور عزم کے فقرے اور چائے پر دوست احباب کے قہقہے بھک سے اڑ گئے۔ آسمان پر شام سے بھی سیاہ دھواں تھا یا دیوانہ وار شور مچاتے پرندوں کے ٹولیاں۔ اس سے اگلے منظر میں چیختی چنگھاڑتی ایمبولینسز اورریسکیو کی گاڑیوں کا شور تھا۔لاہور میں اسمبلی ہال کے عین سامنے چیرنگ کراس پر اس خود کش دھماکے سے ہمارے ہوٹل کا فاصلہ بمشکل دو تین سو میٹر تھا۔ چند ایک لوگوں نے بھاگ کر جائے واردات پر جانے کی کوشش کی لیکن ہوٹل سیکیورٹی نے دروازہ فوراٌ بند کر دیا۔ ہوٹل لابی میں ٹی وی اسکرین پر دیکھا تو خاک اور خون کے غبار سے لاشوں اور زخمیوں کی تفصیلات نشر ہونا شروع ہو گئیں۔ ڈی آئی جی اور ایس ایس پی پولیس سمیت درجنوں شہید اور زخمی۔ چند لمحے قبل امن کی خواہش کا منظر بدلتے ایک لمحہ لگا۔
دہشت گردی کی اس لرزہ خیز واردات کا ذکر کیے بغیر ہمیں آگے بڑھنے کا یارا نہیں ۔ اس نوحے کے بعد انپے طے شدہ موضوع کی طرف۔ اپنے تئیں ہم نے اس موضوع پر لکھنے کا عزم کر رکھا تھا جس کا ہمارے میڈ یا پر کئی روز شہرہ رہا۔ دنیا کی ایک نامور فنانشل کنسلٹنگ فرم پرائس واٹر ہاؤس کوپر یعنی PWC نے حال ہی میں 2030 اور 2050 میں عالمی معیشت میں مختلف ملکوں کی متوقع رینکنگ پر اپنی تحقیقی رپورٹ شائع کی۔ اس کے بعض مندرجات بڑے دلچسپ اور حیران کن تھے۔ عالمی پریس میں بھی اسکا شہرہ رہا اور ہمارے ہاں بھی۔ ہمارے ہاں یوں بھی اس رپورٹ کی پذیرائی زیادہ ہوئی کہ اس رپورٹ کے مطابق 2050 میں پاکستان کی معیشت قوت خرید کے پیمانے کے مطابق یعنی Purchasing power parity کے مطابق دنیا کی 16ویں بڑی معیشت ہو گی۔ کہاں یہ کہ وزیر خزانہ اور وزیر منصوبہ بندی کو بار بار اعدادوشمار کی گتھیاں کھول کھول کر قائل کرنا پڑتا تھا کہ معیشت کا منظر بدل گیا ہے۔ خزانہ بھر رہا ہے۔ محصولات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ جی ڈی پی میں کئی سالوں بعد ساڑھے چار فی صد سے زائد اضافہ ہوا ہے۔ اگلے سال پانچ فی صد سے زائد گارنٹی سمجھیں۔ سی پیک کی انوسٹمنٹ سے گیم بھی چینج ہو رہی ہے اور Fate بھی۔ وزیر اعظم نے اس سارے معاملے کو یوں سمیٹا کہ محنت کی ہے تو فیتے کاٹ رہے ہیں۔ ایسے میں اگر عالمی سطح کے ایک نامور ادارے کی رپورٹ کی کمک پہنچ جائے تو خود ہی سوچیں کہ حکومتی وزراء کی خوشی کیسی دیدنی ہو گی۔ بار بار بتلایا کہ ہم نہ کہتے تھے کی ہم نے میدان مار لیا ہے۔
مسقبل بینی ایک مشکل فن ہے۔ معیشت اور مالیات میں مسقبل کی پیشین گوئی کے لیے طرح طرح کے فنانشل ماڈلز ہیں۔ معیشت میں اعداوشمار اور ما ڈلنگ کا اس قدر رجحان ہو گیا ہے کہ اب معیشت حساب دانی اور شماریاتی مضمون زیادہ اور تھیوری کم ہے۔ کمپیوٹرز اور دنیا بھر میں اعدادوشمار کی بھرمار سے ایسے ایسے ماڈلز بنائے جاتے ہیں کہٌ لکھے موسیٰ پڑھے خود آ ٌ والا معاملہ ہو جاتا ہے ۔ اس قدر دقیق اور گنجلک کہ عام آدمی کے پلے کچھ نہ پڑے۔ عام آدمی کی سہولت کے لیے البتہ کچھ نتائج آسان زبان میں بیان کر دیے جاتے ہیں۔ مثلاٌ اسی رپورٹ کو لیجیے، اس میں چند بڑے دلچسپ نتائج ہیں۔ اس وقت دنیا کی معیشت کا غالب حصہ G7 ممالک پر مشتمل ہے یعنی امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی، جاپان، کینیڈا اور اٹلی۔ اس رپورٹ کے مطابق 2050 تک معیشت کا محور جی سیون ممالک سے نکل کر E 7 ممالک کو منتقل ہو جائے گا، یعنی چین، بھارت، انڈونیشیا، برازیل، روس، میکسیکو اور ترکی۔ اس رپورٹ میں اس رینکنگ کے لیے دو پیمانے استعمال کیے گئے۔ اول، قوت خرید کے اعتبار سے معیشت کا سائز۔ دوم، مارکیٹ ایکسچینج ریٹ کے مطابق۔ دوسری صورت میں رینکنگ میں اتھل پتھل قدرے کم ہے لیکن پہلی صورت میں کچھ نتائج اس حیران کن ہیں کہ یقین کو مشکل کا سامنا ہے۔
قوت خرید کے اعتبار سے بنائی گئی رینکنگ میں تین بنیادی اجزاء ہیں، اوّل ۔ شرح پیدائش میں اوسط سالانہ اضافہ، دوم۔ سالانہ فی کس آمدنی میں شرح اضافہ، سوم۔جی ڈی پی کی سالانہ شرح نمو۔ پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں ہے جہاں آبادی میں اضافہ کم ہونے کے باوجود خطے اور دنیا کے بیشتر ممالک کے مقابلے میں آبادی بڑھنے کی شرح سے بہت زیادہ ہے۔ بتیس ممالک کے اس چارٹ میں صرف نائجیریا ہم سے شرح آبادی میں آگے ہے، باقی تمام ممالک سے ہم دو سے چار گنا آگے ہیں۔ اس زیادہ شرح افزائش آبادی کا فائدہ ہمیں اس فنانشل ماڈل میں ہوا کہ ضرب دینے کا ہندسہ باقی سب سے بڑا تھا۔ اس رپورٹ میں اس سال کی سرکار ی دعوے کے مطابق جی ڈی پی کی شرح نمو کو ہی بنیاد بنایا گیا ہے اور توقع رکھی گئی ہے کہ یہی شرح نمو برقرار رہے گی۔ رپورٹ تیار کرنے والوں کے منہ میں گھی شکر لیکن ہمارے ہاں گذشتہ آٹھ سالوں کی اوسط بمشکل تین فی صد بنتی ہے۔ اگر ہماری آبادی بڑھنے کی شرح دنیا کے دیگر ممالک کے برابر ہو اور جی ڈی پی کی سالانہ شرح نمو گذشتہ دس سال کی اوسط کے حساب سے لیں تو نتائج میں زمین آسمان کا فرق آ جائے گا لیکن جہاں زمین آسمان کے قلابے ملانے کاموقع ملا ہو تو کون کم بخت زمین آسمان کا فرق جان کر مزہ کرکرا کرنے کا رسک لے گا۔
سچی بات ہے ہم ٹھہرے سدا کے رجائیت پسند، روز روز کے کِر کَرے مزے سے تھک سے گئے ہیں۔ اس لیے خواہش ہے کہ اس بار تو یہ سچ ہو ہی جائے گو لاکھ کہیں سے آواز آئے کہ اب تک ٹیکس جی ڈی پی کے تناسب بڑھانے کی سب تدبیریں بیکار ہوئیں، کالے دھن کو سفید کرنے کے سارے منتر بیکار ہوئے، برآمدات کو سکڑنے کا جو مرض لاحق ہے اسکا تریاق نایاب ہے۔ بیرون ملک سے ترسیلات زر میں کمی کا واہمہ درست ہونے کے درپے ہے۔قومی بچتیں اور سرمایہ کاری کی شرح مسلّمہ معیار سے بہت کم ہے۔ خزانہ پہلے سے کہیں بہتر حالت میں ہے لیکن ایک تو اس میں مانگے تانگے کا حصہ غالب بتایا جاتا ہے ، دوسرے یہ خوف کہ بڑھتا ہوا تجارتی خسارے اور آنے والے سالوں میں بیرونی ادائیگیوں کی بھاری ذمہ داریاں ادا کرنے کے بعد اس خزانے کا کیا حال ہو گا۔دامن کھینچ کھینچ کر ہمیں ان منفی معاملات پر توجہ دلانے والے ماہرین کو ہم نے چند دنوں کے لیے پڑھنا سنناہی چھوڑ دیا ہے۔ دنیا میں پاکستان سولہویں سب سے بڑی معیشت، یہ منظر سوچنے میں ہی اتنا بھلا لگتا ہے کہ اس پر تنقید کے سائے سے بھی کچھ دیر ہم گریز کرنا چاہتے ہیں، اس امید پرکہ منظر بدلنے پر آئے تو دیر ہی کتنی لگتی ہے؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *