نابینا افراد پر لاٹھی چارج

ایازا میرAyaz Amir

زیادہ نہیں صرف دوسو ، اور وہ بھی بینائی سے محروم افراد 7 کلب روڈ پر واقع وزیر ِ اعلیٰ کے دفتر کی طرف مارچ کرتے ہوئے اپنے کچھ مطالبات پیش کرنا چاہتے تھے.....اُن سے کسی کو کیا خطرہ لاحق تھا؟دنیا کے کسی بھی ملک میں بصارت سے محروم ان دوسو افراد کو بہت احترام سے 7 کلب روڈ کے وسیع وعریض لان میں لے جاکر چائے اور سموسوں سے تواضع کی جاتی، ٹی وی نمائندوں کو اندر بلایا جاتااور پی ایم ایل (ن) کا کوئی ذمہ دار، جیسا کہ رانا ثنا اﷲ، جن کا ٹی وی پرظہور’’ثبت است بر جریدہ ٔ عالم دوام ِ ما‘‘ کی مثل ہے، ان کے مطالبات سنتا۔ یہ مطالبات اس کے سوا اور کچھ نہیں تھے کہ وہ سرکاری اور نیم سرکاری محکموں کی ملازمتوں میں بینائی سے محروم خصوصی افراد کے کوٹے کی، جو دو فیصد ہے، یاددہانی چاہتے تھے اور یہ کہ اسے دو فیصد سے بڑھا کر تین فیصدکردیا جائے۔ان کی بات سنی جاتی، احکامات صادر کئے جاتے، ان کا تالیاں بجا کر خیر مقدم کیا جاتا اور ٹی وی ان مناظر کو لائیودکھاکر دنیاکوباور کراتا کہ ہم بھی ایک مہذب قوم ہیں۔ اگر وہاں کوئی اعلیٰ و ارفع خیالات کامالک سرکاری افسر بھی ہوتا تو مطالبات کی سماعت کے اختتام پرقومی ترانہ پڑھا جاتا اور اُن افراد کے لئے خصوصی ٹرانسپورٹ کا بندوبست کرکے اُنہیں عزت واحترام سے گھروں تک پہنچا دیا جاتا۔
تاہم ایسا کسی مہذب اور انسانی قدروں کے حامل معاشرے میں ہی ممکن ہے، ہمارے سرکاری افسران، جو حکمرانوں کی خوشامد کے راتب پرپل رہے ہیں،کو خصوصی افراد کے احترام سے معذور سمجھا جائے۔ ان کی فعالیت کا بہترین اظہار اپنے سیاسی باس کو سیلوٹ کرتے ہوئے اپنے عہدے اور مفادات کا تحفظ ہے(جب فوج اقتدار سنبھالتی ہے تو یہ افسران سیاسی باس کو بھول کر وردی پوش کو سلام کرتے ہیں)۔
کیا اُس افسوس ناک واقعے کے وقت چیف سیکرٹری اور انسپکٹر جنرل پولیس اپنے دفاتر میں نہ تھے اور کیا وہ یہ مناظر اپنی ٹیلی ویژن ا سکرین پر نہیں دیکھ رہے تھے؟یہ واقعہ بھائی پھیرو، شیخوپورہ یا نارنگ منڈی میں نہیں ، لاہور کے مرکز میں اہم ترین جگہ پر پیش آیا تھا۔ ڈی جی آپریشن، پولیس نے دو یا تین نچلے درجے کے افسران کو معطل کردیا .... یہ ایک جانا پہنچانا معمول ہے ۔ اس کا مقصد بڑی شخصیات کو تحفظ دیتے ہوئے ان کی بلا چھوٹوں کے سر ڈالنا ہوتا ہے۔ اگر ڈی جی آپریشن میں اخلاقی جرأت ہوتی تو کیا وہ ذمہ داری محسوس کرتے ہوئے خود مستعفی نہ ہوجاتے؟اگر ایسا جاپان یا جنوبی کوریا میں ہوا ہوتا تو سینئر افسران ٹی وی پر آتے اور سرجھکا کر قوم سے معافی مانگتے۔ لیکن یہ پاکستان ہے ، یہاں سنگین سے سنگین واقعہ بھی اگلے دن فراموشی کی گرد میں کھو جاتا ہے ، لہٰذا کل چیف سیکرٹری اور آئی جی کے چہرے پر ندامت کا شائبہ تک نہ ہوگا۔ وزیر ِ اعلیٰ پنجاب حسب ِ معمول اعلیٰ سطح کی میٹنگ بلائیںگے، افسردہ چہرے اور متحرک انگشت ِ شہادت سے ایک اور انکوائری کا حکم صادر فرمائیں گے اور بیانات اور اشتہارات وغیرہ کا تانتا بندھ جائے گا۔ صرف یاددہانی کے لئے عرض ہے کہ جب صرف گھر کے باہر لگی رکاوٹیں، جس کی ہائی کورٹ نے اجازت بھی دی ہوئی تھی، ہٹانے کی کارروائی کے دوران چودہ افراد کو دن دیہاڑے نہایت سفاکی سے گولیاں ما ر کر ہلاک کردیا جائے جبکہ ساٹھ سے ستر افراد کو گولیاں لگی ہوں، صوبائی حکومت دو ماہ تک کیس تک درج کرنے میں لعل و لیت سے کام لیتی رہی ہو اور انکوائری رپورٹ میں مورد ِ الزام ٹھہرائے جانے کے باوجود وزیراعلیٰ اخلاقی جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے سامنے آکر ذمہ داری قبول نہ کریں تو پھر ان نابینا افراد پر کئے جانے والے تشدد پر مشتعل ہونا بے سود ہے؟ہمارے ہاں حکومتیں دو چیزوں کو ترقی دیتی ہیں..... ظلم و جبر کا کلچر اور سزاکے خوف سے بالا ہوکر کچھ بھی کر گزرنے کی روایت۔ پولیس کو دیا جانے والا پیغام یہ ہوتا ہے کہ تم پرریاست یا عوام کی نہیں بلکہ حکمران طبقے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ جب تک آپ اس ’’اصول ‘‘ پر کاربند ہیں، آپ کو کسی خوف و خدشے کو دل میں جگہ دینے کی ضرورت نہیں۔
اس میں زیادہ مبالغہ آرائی نہیں کہ اس وقت لاہور کی نصف کے قریب پولیس وہی فرض سرانجام دے رہی ہے جو بر ِ صغیر کا خاصا ہے..... وی آئی پی ڈیوٹی۔ دو رجمنٹ سے زائد جوان حکمران خاندان کی رہائش گاہ، جاتی عمرا اور چیف منسٹر کی ماڈل ٹائون والی رہائش گاہ کے گرد آہنی حصار قائم کئے ہوئے ہیں ۔ جب وزیر ِ اعلیٰ عازم ِ سفر ہوتے ہیں تو ایک ہزار کے قریب پولیس کے جوان اُن کے راستے میں ایستادہ ہوتے ہیں۔ ایسے فرائض سرانجام دینے کی روایت پر مسلسل گامزن رہنے کی وجہ سے پنجاب پولیس نے کمزوروں پر تشدد کرنا جبکہ طاقتوروں کے سامنے سر ِ تسلیم خم کرنا اپنا اصول بنالیا ہے۔ چنانچہ اس سے اخلاقی رویوں کی توقع عبث ہے۔ شائستگی اور بصیرت سے محروم اس فورس کے سامنے چاہے بصارت سے محروم افراد صرف حکام تک اپنا موقف پیش کرنے ہی کیوں نہ آجائیں، یہ اُنہیں روند ڈالے گی، بلکہ کہنا چاہئے کہ ان دوسو افراد کو خود کو خوش قسمت سمجھنا چاہئے کہ اُن پر صرف لاٹھی چارج ہی کیا گیا ہے، ان کی ٹانگیں نہیں توڑ دی گئیں اور نہ ہی ان کے سر پھٹے ہیں۔ اگر ایک درجن کے قریب سر نہیں کھلے تو پولیس کے تحمل کا کھلے دل سے معترف ہونا چاہئے۔
اس وقت غیر سرکاری میڈیا انڈسٹری اپنی بھرپور پیداواری صلاحیتوں کے ساتھ بزنس میں ہے۔ بہت سے باصلاحیت کالم نگار اور صحافی شبانہ روز حکمرانوں کی تعریف و توصیف میں ڈوب کر اُس سنہری منزل تک رسائی حاصل کرلیتے ہیں جہاںدنیاوی علتیں، جیسا کہ عقل اور معقولیت وغیرہ، رسائی کی مجال نہیں رکھتیں۔ تاہم حکمرانوں کی الف لیلیٰ تراشنے والے یہ قلمی ’’سرشار‘‘ خوشامدمیں ڈوبی ہوئی التباسات کی دنیا سے نکل کربتائیں تو سہی کہ کیا حکومت کی پہلی ترجیح نظم و نسق اور حکمرانی ہونی چاہیے یا میٹرو جیسے دکھاوے کے منصوبے؟پنجاب کے وزیر ِ اعلیٰ کوئی نوآموز حکمران نہیں، وہ گزشتہ سات سال سے صوبے کے مسلسل وزیر ِاعلیٰ ہیں۔ اس سے پہلے 1990کی دہائی میں وہ ڈھائی سال تک حکومت کرچکے ہیں۔ ان کا خاندان مجموعی طور پر پنجاب، جو پاکستان کا ساٹھ فیصد ہے، پر گزشتہ تیس برس سے حکومت کررہا ہے۔ اس وقت پولیس، سرکاری اسکولوں اور اسپتالوں اور حکمرانی کی جو صورت ِحال ہے ، وہ سب کے سامنے ہے۔ کسی وزیر کو زعم ِ اختلاف ہو تو وہ شناخت چھپا کر صوبے کے کسی سرکاری شفاخانے میں علاج کرانے چلا جائے۔
وہ علاقے ، جہاں آج پاکستان موجود ہے، صرف اٹھانوے سال تک انگریزوں کی حکمرانی میں رہے اور سمندر پار سے آنے والے فرنگیوں نے انہیں مکمل طور پر تبدیل کردیا۔ یقینا نوآبادیاتی دو رلہو میں ڈوبے ہو ئے جبر اور تسلط سے مبرا نہیں تھا ، لیکن یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ جدیدانتظامیہ کا ڈھانچہ یہاں انگریز کی آمد سے ہی قائم ہوا۔ برطانوی راج سے ایک تہائی عرصہ کم موجودہ حکمران خاندان پنجاب پر حکومت کرچکا ، لیکن آج ان کے نامہ ٔ اعمال میں کیا ہے؟یقینا مال پر اگائے ہوئے پھولوں، لبرٹی کے شاپنگ پلازوں اور ڈیفنس کی رہائش گاہوں کی وجہ سے لاہور بہت پرکشش دکھائی دیتا ہے لیکن یہ میک اپ پولیس گردی اور بدانتظامی کے تلخ حقائق کو نہیں چھپا سکتا۔ لاہور کی مال پر دو اعلیٰ درجے کے ایڈ منسٹریٹو ٹریننگ سنیٹرز ہیں.... اسٹاف کالج اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن۔ مجھے بعض اوقات وہاں لیکچر دینے کی دعوت دی جاتی ہے۔ تاہم عوام کی بہتری کے لئے میرے پاس مخلصانہ مشور ہ یہی ہے کہ ان مقامات کو بند کر دیا جائے۔ ٹریننگ کا مقصد کارکردگی اور ذہنی استعداد میں اضافہ ہوتا ہے۔ تاہم یہاں ایسا کچھ نہیں ہوتا۔ جب افسران پر ’’کلام ِ نرم ونازک بے اثر‘‘ تو پھر اس تمام بکھیڑ کی کیا ضرورت ؟پاکستان میں بدعنوانی اور نااہلی کی دو اقسام ہیں.... ایک عارضی اور دوسری مستقل۔ سیاست دان اس کی عارضی شکل ہیں جبکہ سرکاری افسران ڈی ایم جی، ریونیو، پولیس، واپڈا، بلڈنگ ڈیپارٹمنٹ وغیرہ.....ان کی مستقل اشکال ہیں۔ حکومت آنی جانی شے ہے، سیاست دان اقتدار میں آتے ہیں، بہتی گنگا میں ہاتھ دھو کر پھر مٹی کے گھروندے بنانا شروع کردیتے ہیں، لیکن افسر شاہی اپنی جگہ پر موجود رہتی ہے۔ اگر ملک میں غیر جمہوری طاقتیں ایاگو ہیں تو افسر شاہی شائیلاک۔ ان دونوںکو ہلائے بغیر نہ نیا پاکستان بن سکتا ہے اور نہ ہی کوئی تبدیلی آسکتی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *