بَس کہانی

Seemi Kiran

یہ بھی اپنی ہی طرز کی ایک بس تھی اور اپنی منزل و راستے پہ رواں دواں ۔۔۔۔ نہ صرف اس کا راستہ بڑا طویل تھا بلکہ بڑا رنگین۔۔۔۔۔ ہر طرح کے شوخ رنگوں سے سجا ۔۔۔۔۔ کبھی پہاڑ کبھی ندیاں، کبھی دریا اور جھرنے آ جاتے اور کبھی دور تک سبزے کے ساتھ رقص کرتے میدان سورج کی دھوپ میں لپٹے ہوئے ملتے ۔۔۔۔۔ میدانوں کو پار کرکے بس آگے بڑھتی تو سنگلاخ چٹانیں آ جاتیں ۔۔۔۔۔ سنگلاخ چٹانوں کو عبور کرتے جب بس کسی موڑ سے مڑتی تو سمندر مسکراتے ہوئے گلے ملنے کو بیتاب ہوا جاتا ۔۔۔۔۔ بس مسکراتی ، اٹھکیلیاں کرتی اسے دور سے چومتی ، ساحلی ہواؤں کو گلے لگا کر آگے بڑھ جاتی !

یہی تنوع اس کی سواریوں میں بھی تھا ، ہر سٹیشن سے ، ہر سٹاپ سے مختلف رنگ و نسل کی آوازیں جب ایک چھت تلے ایک دوسرے سے ٹکراتیں تو شور کی بجائے ایک عجب آہنگ و نغمگی کو جنم دیتیں !

وہی آہنگ و نغمگی جو کسی مدھر گیت میں مختلف سازوں کی مختلف آوازوں سے ہوتا ہے ، بظاہر ہر آواز مختلف مگر اسی لے کو بڑھاتی ہوئی اور ترنم کے سمندر میں گرتی ہوئی !

ان سواریوں میں کہیں شوخ و شنگ چنریاں ، پتلون قمیضیں لہراتی ، ان پتلون قمیض والوں میں متین و سنجیدگی اوڑھے دانشور بیٹھے تھے اور کچھ آفس بابو فکر فرداں میں گم ، کچھ زندگی سے بھر پور منچلے بس کی رونق بڑھاتے تھے !

 بس میں ٹوپیاں ، پگڑیاں اور برقعے بھی بیٹھے تھے اور چادروں میں مستورات بھی !

کچھ واسکٹ کوٹ والے پھولی شلواروں کے ساتھ براجمان تھے !

کہیں اجرکوں کی رنگا رنگی آنکھوں کو خیرہ کرتی تھی !

شلوار قمیضوں کے رنگوں اور ڈیزائینز میں ہی اتنا تنوع تھا کہ رنگوں کی ساری بہار اپنی قوس و قزح پھیلائے تنی تھی !

ایک رنگ ، مزاج و موسم تو شاید موت کا ہی ہوا کرتا ہے !

زندگی کو تو اسی طرح تنوع کی تمام تر تندی کے ساتھ اپنا اظہار کرنا چاہئیے !

سو یہ بس بھی اپنے مسافروں کی انگا رنگی اور اپنے راستوں کی تمام تر دلکشی کے ساتھ اپنی منزل کی جانب گامزن تھی !

اس کے رستے میں پڑنے والے سٹاپس یا سٹیشن پر بس میں چڑھ آنے والے ٹھیلہ فروش بھی اپنی رنگا رنگی میں بے مثال تھے !

کوئی چورن فروش تھا

کوئی اپنا منجن بیچ رہا تھا !

کسی کی اپنی چھوٹی سی رنگا رنگ دکان بکسے کی صورت گلے میں لٹکی ہوئی تھی !

ہر کسی کے پاس اپنے تیر بہدف اور آزمودہ نسخے تھے !

ہر کسی کو اپنے نسخے اپنی پیشکش کے فخریہ و مصدقہ ہونے کا دعویٰ تھا !

ہر کسی کی آرزو تھی کہ صرف اسی کے ٹھیلے اسی کی دوکان پہ سب سے زایدہ لوگ ہوں !

خیر آرزو رہتی تو کچھ حرج بھی نہ تھا ۔ آرزو اپنی ذات میں بہت معصوم نہیں ہوتی۔ اس میں غرض کا عنصر شامل ہو کر ہی اسے آرزو کے منصب پہ فائز کرتا ہے !

مگر موسموں اور وقت کے تغیر کے ساتھ بس کے اندر کا ماحول و درجہ حرارت بھی پڑھ رہا تھا !

سواریوں کے رنگوں کی شوخی آب تضاد و اختلاف بن گئی تھی !

یہ اختلاف و تضاد ہی رہتا تو غنیمت ہوتی!

تضادات و اختلافات ہی علم، ادب ، نظریے کو جنم دینے کا باعث بنتے ہیں !

Image result for pakistan bus

انگوں کی اہمیت بھی ایک دوسرے کے اختلاف ہی میں ہے مگر اب تو اصرار یہ تھا کہ ساری بس ایک ہی رنگ و لباس اوڑھ کر بے رنگ ہو جائے !

گویا یہ زندگی کے کسی خوشنما راستے کی بس نہ ہوئی بلکہ کسی جبری ادارے میں بھرتی ملازمین وردی پوش ملبوس ہو کر سوار ہوں !

یہ رویہ بھلا کب کسی کو یا سب کو گوارا ہوتا !

شروع شروع میں سادہہ لوح اور خوش گمانوں اور نظریاتی یوٹوپیا میں رہنے والوں نے اس کے حق میں اس یک رنگی کے حق میں اپنا سارا پلڑا جھکا دیا !

نتیجتاً بس کا توازن خراب ہوا !

سفر کا لطف کرکرا ہوا ۔۔۔۔ مسفروں کی اس خانہ ۔۔۔۔ یا بس جنگی نے بہت سا نقصان بھی کیا !

اور اس وقت تو حد ہی ہو گئی جب سواریاں شناخت کرکے ، اپنی شناخت کے جرم میں بس سے اتاری جانے لگیں !

اور دھند میں غائب ہو گئیں !

بس کے ماحول کی خشگواری رخصت ہو چکی تھی !

ماحول میں جبر کی گھٹن تھی ، خون کے چھینٹے بھی نظر آتے تھے !

خون کی بساند بھری بو نے بہار کے تنوع کو چھین کر خزاں کے بھدے سرمئی دھندلے منظر کو غالب کر دیا تھا !

اس دھندلے موسم میں کچھ بھی تو شناخت نہ ہوتا !

کونسے دستانے پہنے ہاتھ تھے جو خوشیوں اور رنگوں کو نگل رہے تھے ۔۔۔۔

فضا کی نغمگی کو چھین کر خوف ۔۔۔۔ غائب کر دیے جانے کا خوف ۔۔۔۔ شناخت کا خوف ۔۔۔۔ مختلف ہونے کا خوف ۔۔۔۔۔ شناخت کھونے کا خوف ۔۔۔۔۔ خاموش کر دینے کے حکم کا خوف ۔۔۔۔۔ آواز نہ اٹھانے کے جرم کا خوف ۔۔۔۔ اپنے ساتھ بیٹھی سواری کا خوف ۔۔۔۔ ہر طرف خوف کا راج تھا !

بس کے کنڈکٹر اور ڈرائیور بھی اپنی جگہ خوفزدہ تھے !

جبر ہمیشہ اپنی کوکھ سے خوف اور عدم تحفظ کو جنم دیتے ہیں !

سو بس کے منتظمین اب بس میں سوار ہر سواری کو شک کی نگاہ سے دیکھتے تھے !

انہیں نغمے و شور میں تمیز بھول چکی تھی !

آہٹ بھی طوفان کا پیش خیمہ لگتی !

ہر آواز پہ بغاوت کا گمان ہوتا !

سیٹوں پہ ذرا سی کسمساہٹ زلزلے کا پیش خیمہ لگتی !

منتظمین و مالکین کی بد عنوانیوں نے بس کو کھوکھلا کرکے رکھ دیا تھا۔۔۔۔۔ سواریوں میں سے کسی دردمند کو کبھی بس کے کنڈکٹر یا ڈرائیور کی سیٹ نہ ملی جو آیا اپنے حصے کی لوٹ مار ۔۔۔۔ سیٹیں تک اکھاڑ کر اپنے گھر چلتا بنا !

کسی نے اس بات کی اہمیت کو سمجھنے کی کوشش ہی نہ کی کہ اتنے خوبصورت ، انگین اور اہم سفر پہ چلنے والی بس کا اصل حسن ہر علاقے سے آنے والی مختلف رنگ ، نسل و مزاج کی سواریوں کے ساتھ ہی تھا !

مگر کچھ عرصے سے جانے عجب رسم چلی تھی ۔۔۔۔۔ عجب خزاں رنگ چھا گئے  تھے۔۔۔۔۔

صرف ایک آواز حکم بن کر ہر آواز کے ردھم و ترنم کو نگل رہی تھی

سب کچھ سن کر خاموش رہنے کی رسم ۔۔۔۔۔

دیکھ کر ان دیکھا کرنے کی عادت ۔۔۔۔۔

سر پہ لٹکتی تلوار دیکھ کر بھی سر خم کرنے کی ادا ۔۔۔۔۔

تعفن سے سڑتی ناک میں روٹی ٹھونسنے کا حکم ۔۔۔۔۔

یہی مطلوب و مقصود تھا ۔۔۔۔۔ اور یہی بے حسی سواریوں کے مزاج میں در آ رہی تھی ۔۔۔۔۔

اور اب رو اک اور ستم ہوا تھا ۔ بس پہ چڑھنے والے ٹھیلہ فروش اپنی دکان کا چورن بیچنے و خریدنے پہ ہی مصر تھے ۔۔۔۔ وہ یہ بھول گئے تھے کہ اپنی دکان بڑھانے کا حق سب کو تھا ۔۔۔۔۔

ہر کسی کی آرزو ۔۔۔۔۔ ضد اور انا کے تعصب میں داخل ہو کر دوسرے فریق کو باطل قرار دے رہی تھی ۔۔۔۔۔

یہہ ٹھیلہ فروش آپس میں لڑتے ، مرتے ۔۔۔۔ اک دوسرے کو غلط ، باطل قرار دیتے ۔۔۔۔ مکمل رد کر دیتے ۔۔۔۔

مگر جب ان کے مفادات پہ کوئی زد پڑتی تو یہ لوگ یکجا ہو جاتے ۔۔۔۔ اسی وجہ سے انکے خلاف کاروائی کرنا بھی مشکل تھا ۔۔۔۔

سب سے مشکل تو یہ تھی کہ سواریاں بھی ان کی تمام تر خباثتوں کے باوجود ان کی پشت پناہ تھیں۔۔۔۔ ان کے جذبات و احساسات کو یہ پرچون فروش استعمال کرنا ، بھڑکانا خوب جانتے تھے ۔۔۔۔

اور ان پرچون فروشوں کو کون سے نادیدہ ہاتھ استعمال کرتے تھے ۔۔۔۔۔ اس پر بہت سی دھند اور غبار تھا

کہنے والے بہت کچھ کہتے تھے ۔۔۔۔ کہتے کہتے اسی دھند اور غبار کا حصہ بن جاتے ۔۔۔۔

دیکھنے والے بھی تھے اور دیکھ کر حیران و ششدر تھے کہ کل جو چورن "مقدس دوا " کے نام پہ بکا تھا ، آج زہر قاتل ثابت ہو رہا تھا ۔۔۔۔۔

مگر ٹھیلہ فروش حسب ضرورت اب بھی اس دوا کو بقدر ضرورت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرتے تھے !

غرض اک افراتفری کا عالم تھا ۔۔۔۔ سکوت کے پردوں میں کوئی مہیب شور چھپا تھا ۔۔۔۔۔ جس کو اظہار کی اجازت نہیں مل رہی تھی ۔۔۔۔۔

بس اپنے سفر کی رنگینی کھو کر غلط اور پر خطر وادیوں کی جانب غلط موڑ مڑ گئی تھی ۔۔۔۔

ہم اس بس کے تذکرے کو یہیں تمام کرتے ہیں اور بس اک سوال؟ کیا آپ نے اس بس کو پہچانا ؟ ۔۔۔۔ اور کیا آپ اس بات سے متفق ہیں کہ ان ٹھیلا فروشوں کو اب اسطرح چورن بیچنے کی اجازت نہیں ملنی چاہئیے کہ یہ سفر کے ہر رنگ ہر آواز کو ضبط کرنے کے مجاز ٹھہریں ؟؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *