جہیزکا لالچ اور بے گناہوں کی موت

faheem-akhter-uk

اس خبر کو پڑھ کر مجھے بڑی حیرانی ہوئی اور آپ کو بھی حیرانی ہوگی کہ جہیز کی لالچ میں کس طرح سے بے گناہ عورتوں کو مارا جا رہا ہے اورکس طرح بے قصور مرد بھی اپنی جان دے رہے ہیں ۔عام طور پر یہی سنا جاتا ہے کہ بیچاری عورتوں پر کافی ظلم ہوا ہے یا کمزور عورتوں پر مردظلم
کر تے ہیں ۔ یوں توبیٹی، بہن،بیوی ، بھابھی اور کبھی کبھی ماں کے متعلق ایسی دکھ بھری باتیں اور کہانیاں سننے کو ملتی ہیں جس سے کلیجہمنہ کو آ جاتا ہے۔ پھر ذہن میں ایک ہی بات آتی ہے کہ مرد کی ذات کافی حیوان صفت ہے جو عورتوں پر ظلم کرتا ہے اور ایسے مرد کو سخت سے سخت سزا ملنی چاہئے۔
ہندوستان میں عورتوں پر ظلم اور زیادتی کی خبر روزانہ سننے کو ملتی ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق ہر 15منٹ پر ہندوستان میں ایک عورت کی عصمت دری کی جاتی ہے۔ ہر 5 منٹ پر گھریلو تشدد کی شکایت درج کرائی جاتی ہے۔ ہر 69منٹ پر جہیز کے نام پر ایک شادی شدہ عورت کو مار دیا جاتا ہے اور ہر سال ہزاروں لڑکیوں اور عورتوں کو زبردستی اسقاط حمل کروایا جاتا ہے۔ جس کی ایک وجہ بچّے کی جنس لڑکی ہونا ہوتا ہے۔
1983میں ہندوستان میں جہیز کی مانگ پوارا نہ کرنے پر ہزاروں عورتوں کو مارنے کے خلا ف ایک نئے قانون کا مطالبہ کیا جارہا تھا۔اس مہم میں اس بات کی مانگ کی گئی تھی کہ ایسے لوگوں کو سخت سزا دی جائے جنہوں نے اپنی بیوی کو جہیز کی خواہش پورا نہ ہونے پر مار ڈالا۔اس وقت پورے ملک میں ایک زور دار تحریک ان شادی شدہ عورتوں کے لئے چلائی گئی تھی جو روزانہ باورچی خانے میں کھانا بناتے ہوئے جل کر مر جاتی تھیں۔ جس کا اثر یہ ہوا کہ پارلیمنٹ نے مارے جانے والے شادی شدہ عورتوں کے خاندان والوں کو انصاف دینے کے لئے ایک نئے قانون کو آئین میں شامل کیا۔جسے آج اس قانون کو ہندوستانی پینل کوڈ سیکشن 498A کے طور پر جانا جاتا ہے۔
لیکن حیرانی کی بات ہے کہ ہندوستان میں ہزاروں ایسے مرد بھی ہیں جو بے بسی کی زندگی گزار رہے ہیں ۔ جن کا قصور شاید یہ ہے کہ ان کی بیوی کی شادی کے بعد موت سے انہیں ہندوستانی پینل کوڈ سیکشن 498A،کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔
ایک خاتون ان مردوں کی حمایت میں مہم چلا رہی ہیں جو کہ نہ صرف تعجب خیز ہے بلکہ ایک قابلِ ستائش بات بھی ہے۔ 31؍سالہ دیپیکا نارائن بھردواج اس مہم کی سربراہی کر رہی ہیں جو کہ ایک سرگرم کارکن اور دستاویزی فلم ساز ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کیا مرد خطرے سے دوچار نہیں ہیں۔کیا ان کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں ہو رہا ہے ۔کیا وہ مظلوم نہیں ہو سکتے ہیں اور اس طرح سے دیپیکا نارائن بھردواج نے اور بھی کئی سوال پوچھے ہیں۔ دیپیکا نارائن بھردواج کا یہ بھی کہنا ہے کہ جس طرح عورتوں کے خلاف آواز بلند کرنے کے لئے صرف عورت کا ہونا لازمی نہیں ہے اسی طرح سے ایک مرد کے لئے اس کی حمایت میں آواز اٹھانے کے لئے صرف مرد ہی ہونا لازمی نہیں ہے۔ دیپیکا نارائن بھردواج کہتی ہیں کہ مجھے عورتوں کے خلاف آواز اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ لاکھوں لوگ عورتوں کی حفاظت اور حق کے لئے روزانہ باتیں کرتے ہیں اور تحریک چلاتے ہیں۔
دیپیکا نارائن بھردواج ان دنوں ہندوستانی پینل کوڈ سیکشن 498A کے غلط استعمال کے خلاف مہم چلا رہی ہیں۔ جو کہ جہیز کے خلاف ایک سخت قانون ہے۔ آج کل دیپیکا نارائن بھردواج ہندوستان کے مختلف علاقوں کا دورہ کر رہی ہیں اور اس مسئلے پر ایک ڈوکومینٹری بھی بنا رہی ہیں۔ جس سے وہ حکّام کو یہ بتانا چاہتی ہیں کہ اس قانون سے لوگ کس طرح غلط فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ وہ اپنی اس ڈوکومینٹری کے ذریعہ حکّام کو یہ بتانا چاہتی ہیں کہ ہندوستانی پینل کوڈ سیکشن 498A کودوبارہ لکھا جائے اور اس میں تبدیلی لائی جائے۔
تاہم دیپیکا نارائن بھردواج اس بات کا اقرار کرتی ہیں کہ یہ قانون ایک اچھا قانون ہے۔لیکن وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ جو قانون زندگی کی حفاظت کے لئے بنا ہو اور اگر وہ جان لینے کی وجہ بن جائے تو اس پر غور و خوض کرنے کی اسد ضرورت ہے۔ویسے دیپیکا نارائن بھردوا ج اس مہم میں اکیلی نہیں ہیں ۔ان کی مہم کو دوسرے لوگوں کی حمایت بھی حاصل ہے۔ کہا جارہا ہے کہ سیکشن 498A ہندوستانی قانون کا ایک افسوس ناک قانون ہے۔
سابق صحافی دیپیکا نارائن بھردواج نے کہا کہ 2012سے وہ اپنے ذاتی تجربہ کی وجہ سے اس حوالے سے اپنی تحقیق کو شروع کیا تھا۔ وہ کہتی ہیں کہ 2011میں ان کے چچا زاد بھائی کی شادی ہوئی تھی جو کہ تین مہینے کہ بعد ختم ہو گئی۔ اس کے بعد اس کی بیوی نے اس پر مارنے پیٹنے اور جہیز مانگنے کا الزام لگایا تھا۔ اس کی بیوی نے اس پر جھوٹا کیس دائر کر دیا۔ اس کے علاوہ اس کی بیوی نے دیپیکا نارائن بھردواج پر بھی الزام لگایا کہ وہ بھی اس کے شوہر کے ساتھ مل کر اسے تشدد کا نشانہ بنارہی ہے۔ دیپیکا نارائن بھردواج کا کہنا ہے کہ اس کے گھر والوں نے ایک کثیر رقم اسے ادا کی تا کہ انہیں لڑکی والوں سے چھٹکارا ملے۔اگرچہ اس کا نتیجہ کوئی خاص نہیں نکلا اور سیکشن 498A قانون ایک طرح سے لڑکی والوں کے لئے دیپیکا نارائن بھردواج کے گھر والوں کو بلیک میل اور بھتہ خوری وصول کرنے کا ذریعہ بن گیا۔
دیپیکا نارائن بھردواج کی تحقیق نے اسے ہزاروں پولیس اسٹیشن اور کورٹ کے چکّر لگوائے اور جس کے ذریعہ انہوں نے مزید یہ دریافت کیا کہ اس قانون کے تحت ہزاروں بے قصورلوگ پریشانِ حال ہیں۔ اس دوران ان کی ملاقات (Save Indian Family)ایک این جی او سے ہوئی جو ان مردوں کے حق میں لڑ رہے ہیں جنہیں اس قانون کے ذریعہ غلط طور پر پھنسایا گیا ہے۔
دیپیکا نارائن بھردواج کو اپنی ڈوکومینٹری بنانے میں لگ بھگ چار سال لگ گئے ۔ جس میں انہوں نے کئی ایسے مردوں کی کہانیاں دکھائی ہیں جو اس قانون کے تحت کئی سال تک جیل کی سزا کاٹ کر یا تو خودکشی کر رہے ہیں یا سماج میں منھ چھپا کر جی رہے ہیں۔ایک شوہر نے اپنا انٹرویو دینے کے فوراً بعد خود کشی کر لی۔تو ایک اور شوہر کا خودکشی کے بعد ایک خط پایا گیا جس میں لکھا تھاکہ یہ قانون ایک طرفہ ہے۔دیپیکا نارائن بھردواج نے اپنی ڈوکومینٹری کو جج، پولیس ، این جی او اور عام آدمی کو دکھایا ہے۔ سبھوں نے ان کی ڈوکومینٹری کو سراہا ہے اور اب دیپیکا نارائن بھردواج اسے پارلیمنٹ لے جانا چاہتی ہیں تاکہ اس قانون میں تبدیلی کی جانے پر غور و خوض ہو۔
دیپیکا نارائن بھردواج پچھلے کچھ مہینوں سے عصمت دری کے جھوٹے کیس کے خلاف بھی مہم شروع کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ 2012میں دلی کے ایک بس میں ہوئے بھیانک عصمت دری کے بعد ہندوستانی حکومت نے ایک سخت قانون سیکشن 376کو متعارف کرایا ہے۔ تب سے عصمت دری کے کیس کی شکایت میں کافی اضافہ ہوا ہے۔ لیکن بہت ساری عورتیں جن کا رشتہ کسی وجہ سے ختم ہو رہا ہے وہ سیکشن 376کے تحت اپنے دوست کے خلاف عصمت دری کا کیس فائل کر دیتی ہیں جس سے وہ اس جھوٹے الزام میں پھنس جاتے ہیں۔
ہندوستان کے بہت سارے جج نے سیکشن 376کو غلط طور پر استعمال کرنے والوں کو وارننگ دی ہے ۔وہیں دلی کمیشن فور وومین نے کہا ہے کہ اپریل 2013سے لے کر جولائی2014تک 53.2%عصمت دری کے کیس کی شکایت جھوٹی ثابت ہوئی ہیں۔
مختلف تنظیموں کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں طلاق کی شرح کافی بڑھ رہی ہے۔ جس کی وجہ سے بے ایمان وکیل لڑکی والوں کو الٹی سیدھی بات سمجھا کر سیکشن 498A کے تحت شوہروں کو پریشان کر رہے ہیں۔ سپریم کورٹ کے ایک جج نے اس قانون اور مسئلے پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک’ قانونی دہشت گردی ‘ ہے۔ ا س کے علاوہ (National Commission for Women)
نیشنل کمیشن فور وومین نے بھی کہا کہ یہ قانون ایک طرح سے بے قصور شوہروں کو بلا وجہ پریشان کرنے والا قانون ہے۔
سیکشن 498A کے تحت کسی بھی مجرم کو جس کا نام شکایت میں درج ہو فوری طور پر گرفتار کر لیا جاتا ہے۔ 1998سے 2015 کے درمیان
دو لاکھ ستّر ہزار لوگوں کو اس قانون کے تحت گرفتار کیا جاچکا ہے۔ جس میں 650,000ہزار عورتیں اور 7,700بچّے بھی شامل ہیں۔ اب تک سب سے کم عمر کے دو سال کے ایک بچّے کو بھی اس کیس میں گرفتار کیا گیاہے ۔ لیکن جو عجیب بات دیکھنے میں آئی ہے وہ یہ ہے ایک جوڑے کی شکایت کے بعد دو ماہ کے بچے کو دو دن تک پولیس اسٹیشن پر رکھ لیا گیا تھا۔
ہندوستان میں ہر سال 8,000سے زیادہ عورتوں کو جہیز نہ دینے کی وجہ سے مار دیا جاتا ہے۔ جو کہ ایک نہایت ہی شرمناک بات ہے۔ لیکن وہیں ہندوستانی پینل کوڈ سیکشن 498A قانون کا غلط طور پر استعمال کرنا بھی ایک افسوس ناک بات ہے۔ میں نے کئی دفعہ اس بات کو کہا ہے کہ جہیز لینے اور دینے والے دونوں بھیڑیے ہوتے ہیں۔ جو ان معصوم انسانوں کی جان لے رہے ہیں جنہیں شادی کے پاک رشتوں میں با ندھ کر انہیں سماج کے جہیز کی سولی پر چڑھا یا جا رہا ہے۔
دیپیکا نارائن بھردواج کی ڈوکومینٹری نے ان بے قصور مردوں کی کہانی کو دکھایا ہے جو ایک عجیب اور حیران کن بات ہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیا قانون بنانے اور بدلنے سے سماج بدل جائے گا۔اور اگر قانون واقعی میں سخت ہے تو پھر آج بھی ہزاروں عورتیں کیوں جہیز کی سولی پر چڑھ رہی ہیں۔تو وہیں شادی کے ٹوٹنے کے بعد کیوں بے قصور مرد جیل میں بند ہیں یا وہ مجبوراً خود کشی کر رہے ہیں۔ ان تمام باتوں کا جواب ہمیں اپنے آپ سے پوچھنا ہوگا ۔ تاکہ ہمارا سماج اس گورکھ دھندے سے آزاد ہو اور ہم جہیز کی لعنت سے ہمیشہ کے لئے پاک ہوں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *