اندھیر نگری اور چوپٹ راجہ

مستنصر حسین تارڑMHT

شاعر مچاڈو نے غرناطہ کا حسن بیان کرنے کے لیے کہا کہ۔۔۔
’’اے عورت، اس اندھے گداگر کو بھیک دو کہ غرناطہ ایسے شہر میں ہونا اور اندھا ہونا اس سے بڑی بدقسمتی اور کوئی نہیں ہے‘‘ یعنی غرناطہ کا حزن آمیز حسن ہو اور انسان آنکھوں سے محروم ہو، اُسے دیکھ نہ سکے اس سے بڑھ کر بدنصیبی اور کیا ہو سکتی ہے۔ کوئی پاکستانی شاعر کہے نہ کہے لیکن میں مچاڈو کے شعر میں تھوڑی سی ترمیم کر کے کہے دیتا ہوں کہ۔۔۔
’’اے عورت، اس اندھے گداگر کو بھیک دو کہ لاہور ایسے شہر میں ہونا اور اندھا ہونا اس سے بڑی بدقسمتی اور کوئی نہیں ہے‘‘ اس لیے نہیں کہ لاہور اتنا خوبصورت ہے کہ ایک اندھا اُسے دیکھ نہیں سکتا بلکہ اس لیے کہ لاہور خود اندھا ہو چکا ہے، ایک اندھیر نگری ہے جس کے چوپٹ راجے اپنے نابیناؤں پر لاٹھی چارج کرتے ہیں، اُنہیں جانوروں کی مانند دھکے دے کر فٹ پاتھوں پر گراتے ہیں اور مسکراتے ہیں۔ میں ہو سے سراماگو کے ناول ’’بلائنڈ نیس‘‘ یا ’’نابینائی‘‘ کا اکثر حوالہ دیتا ہوں کہ یہ میرے پسندیدہ ترین ناولوں میں سے ہے جسے پڑھ کر مجھے اپنی کم مائیگی کا شدت سے احساس ہوا تھا اور میرا جی چاہا تھا کہ میں اپنے تحریر کروہ تمام ناولوں کو جلا ڈالوں کہ ناول تو ’’نابینائی‘‘ جیسا ہوتا ہے۔۔۔ جنوبی امریکہ کے ایک پر رونق بڑے شہر کی صبح ہے۔ لوگ اپنے کاروباروں اور ملازمتوں پر پہنچنے کے لیے شاہراہوں پر ہجوم کرتے ہیں۔۔۔ ایک چوراہے پر ٹریفک سگنل سرخ ہے اور کاروں کی ایک بے چین قطار اُس کے سبز ہونے کے انتظار میں متحرک ہونے کے لیے تیار ہے۔ سگنل سبز ہوتا ہے، کاریں چل پڑتی ہیں، ایک کار ڈرائیور کے آگے جو کار ہے وہ حرکت نہیں کرتی، وہ اُسے غصے میں ہارن دیتا ہے، مسلسل دیتا ہے اور پھر بھی وہ کار کھڑی رہتی ہے تو ڈرائیور طیش میں آ کر اپنی کار سے اتر کر ساکت کار کی جانب لپکتا ہے، سٹیرنگ پر بیٹھے شخص سے کہتا ہے۔۔۔ سگنل سبز ہو چکا ہے، تم اپنی کار کو حرکت کیوں نہیں دیتے؟ وہ شخص اُس کی جانب دیکھے بغیر کہتا ہے ’’اس لیے کہ میں اندھا ہو گیا ہوں‘‘۔۔۔ اُس شخص کو لوگ ہسپتال لے جاتے ہیں اور ڈاکٹر اُس کی آنکھوں کا معائنہ کر کے کہتے ہیں ’’اس کی آنکھوں میں کچھ خرابی نہیں ہے۔۔۔ حیرت ہے کہ بقول اس کے وہ اندھا ہو گیا ہے۔۔۔ دیکھ نہیں سکتا‘‘ اُسی روز ایک اور شخص فٹ پاتھ پر چلتے چلتے ٹھوکر کھا کر گرتا ہے اور جو لوگ اس کی مدد کو آتے ہیں وہ اُنہیں کہتا ہے ’’میں اندھا ہو گیا ہوں‘‘ یوں اُس شہر میں لوگ بغیر کسی بیماری کے اندھے ہونے لگتے ہیں یہاں تک کہ اکثریت نابینا ہو کر بھٹکنے لگتی ہے اور شہر ویران ہونے لگتا ہے۔
شہر لاہور بھی اُس جنوبی امریکہ کے کسی شہر کی مانند اندھا ہونے لگا ہے۔۔۔ ٹیلی ویژن چینلز پر مسلسل جھلکیاں عکس ہو رہی ہیں۔ آج معذوروں کا عالمی دن تھا، میری بیوی میمونہ ابھی معذوروں کے ایک ادارے میں اس خصوصی دن کے حوالے سے منعقد کردہ ایک تقریب میں شرکت کر کے لوٹی ہے جہاں معذور بچوں نے جن میں نابینا بچے بھی شامل تھے لہک لہک کر ’’دل دل پاکستان‘‘ گایا ہے۔۔۔ اگرچہ وطن کا یہ گیت گانے والا شخص جو قومی ترانے سے بھی زیادہ مقبول ہے وہ بھی ایک مصیبت میں مبتلا ہے، معافیاں مانگ رہا ہے۔۔۔ میری بیگم رضا کارانہ طور پر اس ادارے میں پڑھاتی ہے اور اس کے لیے فنڈ جمع کرتی ہے۔۔۔ چنانچہ معذوروں کے اس عالمی دن کے حوالے سے لاہور کے نابینا افراد نے جمع ہو کر پاکستان کے آئین کے مطابق اپنے لیے دو فیصد ملازمتوں کا مطالبہ کیا ہے اور اُن میں سے بیشتر افراد اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے۔ ہماری نابینا کرکٹ ٹیم کے کپتان تھے جو متعدد عالمی مقابلے جیت چکے ہیں، گورنمنٹ کالج لاہور سے فارغ التحصیل ایک نوجوان تھے جنہوں امتیازی حیثیت سے ڈگری حاصل کی اور وہ اندھے، بھٹکتے، ٹٹولتے، اندھیرے میں گم، وقت کے راجوں کے خلاف نہیں، حق میں نعرے لگاتے ہوئے جمع ہوئے تو اندھیر نگری کے چوپٹوں نے اُن پر ایسا تشدد کیا جسے دیکھ کر میری آنکھوں کے سامنے بھی اندھیرا چھا گیا۔۔۔ اور وہ جھلکیاں ابھی تک ایک ڈراؤنے خواب کی مانند مجھے اندھا کرتی ہیں۔۔۔
ایک باریش اندھا، ہاتھ آگے بڑھائے نہیں جانتا کہ وہ کدھر جائے اور دو موٹے حرام خور اُسے دھکا دیتے ہیں اور وہ فٹ پاتھ پر گر جاتا ہے، اٹھنے لگتا ہے تو ایک اور ٹھوکر لگتی ہے اور وہ اوندھا ہو کر پھر گر جاتا ہے اور یہ حرام خور تو قرآن پاک کی تعلیمات سے بھی بے خبر ہیں، کہ کیسی ہستی کو صرف اس لیے سرزنش کی گئی کہ وہ ایک نابینا کی جانب دھیان نہ کر سکے۔۔۔ اور وہ نابینا بعد میں مدینہ منورہ کے گورنر مقرر کیے گئے۔
ایک اور اندھے کو جس کی سفید آنکھوں میں صرف تاریکی ہے، دونوں جانب سے پولیس کے موٹے اہلکاروں نے دبوچ رکھا ہے اور اُسے سمجھ نہیں آتی کہ وہ کیا کرے۔۔۔ لاہور پولیس نابیناؤں پر یلغار کر رہی ہے۔۔۔ اب اُن اندھوں کو کچھ نہیں سوجھتا کہ وہ اپنے آپ کو اُن کی لاٹھیوں سے کیسے بچائیں۔۔۔ لاٹھی آتی ہوئی کو دیکھ سکیں تو اپنا دفاع کر سکیں چنانچہ وہ اپنے ہاتھ کھڑے کر کے کسی اور جانب ’’دیکھ‘‘ رہے ہیں اور لاٹھی کسی اور جانب سے اُن کے بدن کو ادھیڑ دیتی ہے۔ اور وہ حکومت کا تختہ الٹنے نہیں آئے، عمران خان کی مانند ’’گو نواز گو‘‘ کے نعرے لگانے نہیں آئے کہ اُن کے تاریک جہان میں سیاست نہیں صرف پاکستانی آئین کی ایک شق کی شمع روشن ہے کہ معذور افراد کو دو فیصد ملازمتیں اُن کی تعلیمی اہلیت کے مطابق دی جائیں گی، اُن کا یہ حق تسلیم شدہ ہے لیکن اس کے باوجود گلو بٹ اُن پر یلغار کر دیتے ہیں۔۔۔ یہ شہر لاہور جس نے اپنے آپ کو زندہ دلان کا شہر قرار دے رکھا ہے اس میں تو صرف مردہ دل ہیں اور وہ بھی اندھے اور بے شرم۔۔۔ ابھی ابھی مجھے ٹیلی ویژن کے نامور پروڈیوسر اور ادیب بختیار احمد کا ایک پیغام موصول ہوا ہے جو سراسر اُن کی رائے ہے۔۔۔ ’نابینا افراد پر تشدد! لعنت ہے ایسی پولیس اور گورنمنٹ پر۔۔۔ اللہ ان ظالموں کو غارت کرے۔۔۔ کہئے آمین!‘
ایک باریش نابینا مارکھانے کے بعد اپنی سفید چھڑی کو زمین پر پٹخ رہا ہے۔ یہ بے حسی اور حیوانیت آہستہ آہستہ معاشرے میں سرایت کرتی جاتی ہے۔۔۔ جب بستیاں اور عبادت گاہیں نذر آتش کی جاتی ہیں، ایک حافظ قرآن کو گلیوں میں گھسیٹا جاتا ہے۔۔۔ جب لوگوں کو زندہ جلایا جاتا ہے اور کوئی احتجاج نہیں کرتا تب نوبت یہاں تک پہنچتی ہے کہ معذوروں اور اندھوں کو جانور جان کر اُنہیں تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔۔۔ نہ اپنے سلامتی اور امن کے دین کی پروا کی جاتی ہے اور نہ ہی اپنے رسولؐ کے حسن اخلاق سے سبق لیا جاتا ہے جو یہ بھی برداشت نہیں کر سکتے تھے کہ ایک چڑیا کے بچوں کو اُن کی ماں سے جدا کیا جائے۔
جی چاہتا ہے کہ میں بھی ہوسے سراماگو کی مانند ایک اور ناول ’’بلائنڈنیس‘‘ لکھوں کہ کیسے ایک شہر لاہور نام کا نابینا ہو گیا یہاں تک کہ نابینا ؤں پر ہی ظلم کی لاٹھیاں برسانے لگا۔
نابینا وہ نہیں جو اپنے آئینی حق کی مانگ کرتے تھے، نابینا دراصل ہم سب ہیں جو احتجاج نہیں کرتے۔
بلھے شاہ نے کہا تھا۔۔۔ چل بلیا اوتھے چلیے، جتھے سارے انّھیں ۔۔۔
تو یہ وہی نگری ہے جس میں سارے اندھے ہیں
اندھیر نگری ہے اور چوپٹ راجے ہیں

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *