ایک یہودی ہوتے ہوئے بھی میں شمالی امریکہ میں مسلمانوں کے ساتھ یہ برتاو خاموشی سے نہیں دیکھ سکتا

ڈیوڈ میواسیرmuslims in north america

میرے دادا مورس کی عمر ابھی 14 سال بھی نہ ہوئی تھی جب انہیں روس کے ایک گاوں کوزمِن سے بھاگنا پڑا۔ یہ واقعہ 1904 میں پیش آیا۔ جیو پولیٹکس نے ان کی لڑکپن کی زندگی کو بری طرح متاثر کیا۔ سیزر کے سپاہیوں نے میرے دادا اور دوسرے یہودی لڑکوں کو سائیبیریا میں جاپان کے خلاف لڑنے بھیج دیا جو ان کے گھر سے ہزاروں میل دور تھا۔ اگر وہ ساتھ جاتے تو کبھی لوٹ نہ پاتے۔ اگر وہ سائیبیریا میں جاپانی فوجیوں سے بچ کر آ بھی جاتے کو کوزمن کے یہودی انہیں زندہ نہ چھوڑتے۔

جو لوگ لوٹ کر آئے انہیں نازی سپاہی  اور یوکرین کے سپاہیوں نے بہت خوفناک طریقے سے قتل کر دیا۔ میرے دادا کو معلوم تھا کہ اگر وہ بھاگتے نہیں تو ان کا کیا انجام ہوتا اس لیے وہ مخالف سمت میں بھاگ گئے۔ وہ امریکہ پہنچنے تک بھاگتے گئے۔ پچھلی صدی میں مشرقی یورپ کے  یہودیوں کے لیے یہی ایک محفوظ ملک تھا۔ دادا اس کے بعد کبھی اپنے والدین سے نہ مل پائے۔ لیکن اپنی ایک نئی زندگی شروع کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ امریکہ میں پناہ لینے کی وجہ سے ہی میرے والد کی زندگی بچ پائی۔

ایک ایمان رکھنے والے یہودی کی حیثیت سے میں تورات پر پورا یقین رکھتا ہوں جو مجھے بتاتی ہے کہ میں اجنبی لوگوں سے محبت سے پیش آوں۔ سچ تو یہ ہے کہ ہر ملک اور مذلب کے لوگوں کو اجنبی کے دل کی بات کو سمجھنا چاہیے۔ ہم میں سے کسی کو دوسرے کی تکلیف کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ہر کسی کو مظلوم کی مدد کرنے کی کوشش کرنی چاہیے چاہے اس سے ہمیں عدم تحفظ یا محرومی کا خطرہ ہی کیوں نہ ہو۔ لیکن انسان کی طبیعت تھوڑی مختلف ہے۔ ہم میں سے بہت سے لوگ دوسروں کو تکلیف میں دیکھ کر آنکھیں بند کر لیتے ہیں۔ لیکن مجھ سے ایسا نہیں ہوتا۔ میں اپنے خاندان اور لوگوں کے تاریخی تجربات سے واقف ہوں ۔

مجھے اپنے دادا کی 14 سال کی عمر میں کوزمن کے لوگوں کے ہاتھوں پریشانیاں یاد ہیں اور کوبان کے 14 سالہ محمد کے بارے میں بھی جانتا ہوں جس کے گھر پر بم پھینکے گئے اور اب وہ مہاجر کیمپ میں رہ رہا ہے اور امریکہ میں طبعی امداد کی خواہش رکھتا ہے لیکن پابندیوں کی وجہ سے امریکہ میں داخل نہیں ہو پا رہا۔ ایک یہودی ہونے کے باوجود مجھے یہ شرف حاصل ہے کہ میں آج سے 65 سال قبل ایک امریکی شہری کی حیثیت سے پیدا ہوا تھا۔

اس سے مجھے بہت سے مواقع ملے لیکن میرے کچھ فرائض بھی ہیں۔ جب امریکہ الیکٹورل سسٹم اپنا سٹیٹ پاور ایک احمق آدمی کے ہاتھ میں دے دیتا ہے تو میں ایک امریکی ہونے کی حیثیت سے اس پر اعتراض کا حق رکھتا ہوں۔ چونکہ میرے پاس یہ حق ہے تب تک میں اسے استعمال کروں گا جب تک یہ مشکل وقت گزر جائے۔ کئی ملین امریکیوں کے ساتھ میں بھی مزاحمت کی پوری کوشش کر رہا ہوں۔ مختلف طریقے استعمال کرتے ہوئے ہم اس مشکل وقت کو ٹالنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ پچھلے دو ہفتے میں میں نے کئی لوگوں کے ساتھ گلیوں میں مارچ میں حصہ لیا ہے۔ میں نے اپنے تحفظات تحریروں کے ذریعے ظاہر کیے ہیں اور اپنے کانگریس کے ممبران کی میٹنگ بلائی ہے۔

جب uber کے سی ای او نے امریکی ائیر پورٹ پر پھنسے لوگوں کی مخالفت کی تو میں نے یہ ایپ چلانی ہی چھوڑ دی۔ میں نے سٹار بکس کے پراڈکٹس کا آرڈر دینے کی تجویز اس لیے پیش کی کہ اس کمپنی کے سی ای او نے 10 ہزار مہاجرین کو نوکری دینے کا اعلان کیا۔ میں ٹویٹ، تحاریر اور دوسرے ذرائع سے احتجاج کر ر ہا ہوں۔ لیکن احتجاج کافی نہیں ہے۔ میں ڈیموکریٹک پارٹی کو جڑ سے اکھاڑنے کی پلاننگ بھی کر رہا ہوں۔ ہمیں مستقبل میں  ایسے امیدوار کھڑے کرنے ہوں گے جو اپنے ووٹرز کو  آزادی پر قدغن لگانے والوں کو باہر پھینک سکیں۔

میں نے مارچ کے ماہ میں ایک اندرونی ڈیموکریٹک پارٹی چلانے کا فیصلہ کیا ہے تا کہ   اسٹیبلشمنٹ ونگ کو تبدیل کر سکیں جس نے الیکشن کے لیے ہیلری کلنٹن کو نامزد کیا جو الیکشن ہار کر اس مشکل صورتحال کا باعث بنی۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ  فائدہ مند سیاسی ایکشن کی بھی ضرورت ہے کیونکہ موجودہ سیاسی ایکشن کافی نہیں ہے۔  ایک مذہبی شخص کی حیثیت سے میں سیاست سے کہیں آگے اپنی کوشش پیش کر سکتا ہوں۔ چونکہ میں مزید کوشش کر سکتا ہوں اس لیے مجھے کرنی چاہیے۔ میری روح  کا خدا سے تعلق مجھے ہر مذہب کے لوگوں سے جوڑتا ہے۔ جب خدا دوسرے لوگوں کا امتحان لیتا ہے تو میں ان لوگوں کا درد محسوس کرتا ہوں۔

یہی محبت اور درد میں مسلمانوں کے لیے محسوس کرتا ہوں۔ یہ وہ تعلق ہے جو دوسرے امریکیوں اور یہودیوں کو حیران کرتا ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ میں کسی بھی مسجد میں جا سکتا ہوں اور دوسرے مذہب کے لوگوں کے ساتھ  مل  کر دعا کر سکتا ہوں  خاص طور پر ان لوگوں کے ساتھ جن کے دل محبت اور اچھائی سے بھرے ہوئے ہیں۔ میں اپنے گھٹنے جھکا کر زمین پر سجدہ کر سکتا ہوں  اور ساتھیوں کے ساتھ اظہار محبت کر سکتا ہوں، چاہے ان کا تعلق، کراچی  ، کیلیفورنیا، پشاور یا پینسلوانیا کے ساتھ ہی کیوں نہ ہو۔

کچھ دن قبل میں وینکور کینیڈا کی ایک مسجد میں گیا ۔ میں اس علاقے میں 20 سال سے رہ رہا ہوں۔ جب 6 کینیدین مسلمانوں کا قتل ہوا جب وہ کیوبیک سٹی میں مسجد میں عبادت کر رہے تھے  تو ہماری جامعہ مسجد میں ہزاروں لوگ جمع ہوئے۔ یہ مسجد 50 سال قبل پاکستانی مہاجرین نے تعمیر کی تھی۔ ہم نے ایک دوسرے کے لیے اور ان شہدا کے لیے اپنے دل کھول دیے۔ ہم نے ان کے لیے دعائیں مانگیں اور ان سے اظہار ہمدردی کے لیے اکٹھے ہوئے۔

سب سے اہم چیز یہ ہے کہ یہ دبی ہوئی چیخیں ہماری توجہ چاہتی ہے اور دہشت گردوں کے خلاف مزاحمت کا پرچار کرتی ہے۔ ہر اس چیز کے خلاف یہ پکار ہمیں بلاتی ہے جو ہمارے معاشرے کے لیے اندرونی یا بیرونی خطرہ پیدا کر رہی ہو۔اس پکار  کو سنتے ہوئے ہم اپنے اندر کی دھند کو صاف کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ ہمیں دہشت گردوں کا مقابلہ کیسے کرنا ہے؟  یہ پکار ہماری توجہ اس وعدے کی طرف مبذول کراتی ہے  کہ بہت جلد ایسا دن آئے گا جب ہمیں اکٹھا رہنے کے لیے بلایا جائے گا  اور دنیا محبت اور امن کا گہوارہ بن جائے گی۔ اس وقت تک میں ہر وہ کام کروں گا جو میں دوسرے لوگوں کی خاطر کر سکتا ہوں بلکل اسی طرح جیسے سالوں قبل میرے دادا نے کیا تھا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *