نئی سیاست ‘‘، فیصل آباد سے لندن تک

رؤف طاہرrauf

صبح گیارہ بجے فیصل آباد میں بعض صحافی دوستوں سے رابطہ ہواتو اُن کا کہنا تھا، گھنٹہ گھر سے ملحق آٹھوں بازارکھلنا شروع ہوگئے ہیں یہ بازار عام دنوں میں بھی دس ، ساڑھے دس بجے کھلتے ہیں۔ آل پاکستان ٹیکسٹائل مل اونرز ایسوسی ایشن نے ایک روز قبل عمران کی کال مسترد کردی تھی۔ چنانچہ پاکستان کے ’’مانچسٹر‘‘ میں ٹیکسٹائل سے متعلق کام بھی جاری تھا۔ غلہ منڈی میں بھی صورتِ حال یہی تھی۔ شہر میں ٹرانسپورٹ بھی چل رہی تھی۔ تعلیمی ادارے بھی کھل گئے تھے اور انہیں بند کرانے کے لئے عمران کے ٹائیگرز اندر گھس گئے تھے۔ لاری اڈے پر بسیں معمول کے مطابق موجود تھیں البتہ مسافروں کی تعداد (فطری طور پر) کم تھی۔ ادھر بعض علاقوں میں ٹائر جلائے جا رہے تھے، مسلم لیگ(ن) اور تحریک انصاف کے کارکنوں میں تصادم کے واقعات بھی ہوئے۔ عمران کی طرف سے پلان ’’C‘‘ کے اعلان کے اگلے ہی روز شاہ محمود قریشی نے وضاحت کردی تھی کہ لاہور، فیصل آباد، کراچی اور پھر پورے پاکستان کو ’’بند ‘‘ کرنے کا مطلب شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام نہیں بلکہ بڑی بڑی شاہراہوں اور ان شہروں کے انٹری پوائنٹس پر احتجاج ہے لیکن عمران نے پھر شٹر ڈاؤن کی کال دے دی تھی، تاہم اس کا کہنا تھا، یہ فیصل آباد کے عوام پر ہے کہ وہ اس پر لبیک کہیں یا نہ کہیں لیکن اس کے کئی دیگر وعدوں اور دعووں کی طرح یہ اعلان بھی زبانی کلامی تھا۔ عملاً شہر کو زبردستی بند کرنے کی تیاریاں جاری تھیں۔ حسبِ ضرورت قریبی شہروں سے ’’ٹائیگرز‘‘ کی کمک کا بندوبست بھی کر لیا گیا تھا۔ اِدھر مسلم لیگی کارکن بھی مقابلے کے لئے تیار تھے۔ اتوار کو چوک گھنٹہ گھر اور اس کے قرب و جوار میں، دونوں کے درمیان تصادم کے واقعات نے شہر میں خوف اور کشیدگی کی فضا گہری کر دی تھی اور یہی چیز تحریک انصاف کو مطلوب و مقصود تھی کہ ایسے میں کوئی گاڑی سڑک پر نکلے گی، نہ کوئی دکاندار دُکان کھولنے کا رسک لے گااور نہ والدین بچوں اور بچیوں کو اسکول بھیجیں گے۔ اس کے باوجود اگلی صبح شہر میں صورتِ حال، تحریکِ انصاف کی توقعات کے برعکس تھی، چنانچہ شہر کو بند کرنے کے لئے تصادم ناگزیر ہوگیا تھا۔ ناولٹی پل پر نوبت فائرنگ تک پہنچ گئی تھی۔ جب یہ سطور قلمبند کی جارہی تھیں۔ 22سالہ نوجوان اندھی گولی کا شکار ہوگیا تھا، ایک لاش گرگئی تھی۔ فائرنگ کرتے نوجوان کی فوٹیج ’’جیو نیوز‘‘ پرچل رہی تھی۔ عمران کا کہنا ہے کہ 11مئی کو اس کا مینڈیٹ چرایا گیا، عوام کی خواہشات پر ڈاکہ ڈالا گیا لیکن اس کا کوئی ثبوت، کوئی دلیل، کوئی شہادت پیش نہیں کی جاتی لیکن یہ فیصل آباد میں جو کچھ ہورہا تھا، ساری دُنیا دیکھ رہی تھی۔ تشدد کے ذریعے شہریان فیصل آباد پر اپنا فیصلہ مسلط کرنے کی کوشش کی جارہی تھی۔ کیا یہ عوام کی خواہشات پر ڈاکہ نہیں تھا؟ تحریکِ انصاف، اپنے چیئرمین کے اس اعلان پر قائم کیوں نہ رہی کہ یہ فیصل آباد کے عوام پر ہے کہ وہ ہڑتال کی اپیل قبول کریں یا مسترد کردیں؟
ادھر جنوبی پنجاب میں عمران خاں کی ’’فتوحات‘‘ کا سلسلہ جاری ہے۔ 7دسمبر کی شام سیف الدین کھوسہ، نیاز جھکڑ اور بہادر خاں سہیئڑ نے بنی گالہ میں کپتان سے ملاقات کی اور’’نئے پاکستان‘‘ کی تعمیر کے لئے اس کے قافلۂ نو بہار میں شمولیت کا اعلان کردیا۔ کپتان کے لئے یہ مسرت کا موقع تھا لیکن نوازشریف کے ہاتھوں بِکے ہوئے اخبار نویس یہاں بھی شرارت سے باز نہ آئے اوررنگ میں بھنگ ڈال دی۔ انہوں نے یاد دلایا کہ یہ تینوں حضرات سیاسی مسافر ہیں، جناب سیف الدین کھوسہ ، سردار ذوالفقار کھوسہ کے صاحبزادے ہیں۔گزشتہ سال عام انتخابات سے قبل وہ مسلم لیگ(ن) سے پیپلز پارٹی میں چلے گئے تھے۔ جبکہ باقی دونوں حضرات، قاف لیگ سے پیپلز پارٹی میں آئے، تینوں نے 11مئی کا الیکشن ’’تیر‘‘ کے نشان پر لڑااور شکست کھائی۔ اب ’’اینٹی اسٹیٹس کوپالیٹکس ‘‘ کے لئے عمران کے چرنوں میں آبیٹھے تھے۔ اخبار نویس کے سوال پر کپتان خاصا بدمزہ ہوگیا تھا۔ کشیدگی اس کے چہرے سے عیاں تھی۔ اس نے دائیں ہاتھ سے ناک صاف کی، بائیں ہاتھ سے پانی پیااور گویا ہوا’’ دلوں کے حال تو اللہ جانتا ہے۔‘‘
کپتان کے زبردست استدلال نے گستاخ اخبار نویس کو لاجواب کردیا تھا۔ قارئین کو یاد ہوگا، تحریکِ انصاف میں موقع پرستوں، ابن الوقتوں، اسٹیٹس کو اور موروثی سیاست کی علامتوں کی شمولیت کے جوازمیں بھی وہ کیسی زوردار دلیل لایا تھا: کرپٹ معاشرے میں فرشتے کہاں سے لاؤں؟
کپتان نے اندرونِ ملک ہی نہیں، بیرونِ ملک بھی اپنے ٹائیگرز کو نئی راہ پر ڈال دیا ہے۔نوازشریف ستمبر میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے لئے پہنچے تو تحریکِ انصاف کے کارکن ’’گو نوازگو‘‘ کے نعرے کے ساتھ موجود تھے۔ طاہرالقادری کی عوامی تحریک، چوہدریوں کی قاف لیگ اور ڈکٹیٹر کی آل پاکستان مسلم لیگ کے کارکن بھی ان کے ہم آواز اور ہم نشین تھے۔ یہ سب کچھ اس عالم میں ہورہا تھا کہ وزیراعظم پاکستان جنرل اسمبلی کے اندر کشمیر کا مقدمہ پیش کر رہے تھے،(تبصرہ نگاروں اور تجزیہ کاروں کو اعتراف تھا کہ گزشتہ کئی برسوں میں یہ پہلا موقع تھا جب پاکستان کے کسی وزیراعظم نے اس زوردار انداز میں نہ صرف کشمیریوں کے حق خودارادیت کی وکالت اور کشمیریوں پر ہونے والے مظالم کا ذکر کیا بلکہ اس حوالے سے اقوامِ عالم کو ان کی ذمہ داری کی طرف بھی متوجہ کیا)۔ گزشتہ دنوں وزیراعظم لندن میں افغان کانفرنس میں شرکت کے لئے گئے تو عمران ٹائیگرز اسی بدنماں روایت کے اعادے کیلئے موجود تھے۔ بیرسٹر سلطان محمود نے کشمیریوں کے حق میں لندن میں ملین مارچ کا اہتمام کیا تو عمران ٹائیگرزنے بلاول بھٹو کے ساتھ بھی یہی بدتمیزی کی اور اب مولانا فضل الرحمن کو بھی اسی سلوک کا سامنا تھا۔ لندن کے ساؤتھ ہال میں یہ ڈاکٹر خالد محمود سومرو کے لئے تعزیتی ریفرنس تھا۔ مولانا خطاب کے بعد باہر نکلے، تو عمران ٹائیگرز نے انہیں گھیر لیااور بدتمیزی پر اترآئے۔ کپتان کی ’’نئی سیاست‘‘ پاکستان کی حدود سے باہر بھی نئے مناظر دکھا رہی ہے، شرمناک اور المناک مناظر.....

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *