زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کی مہک آور سلطنت

مستنصر حسین تارڑMHT

لائل پور یعنی حال کے فیصل آباد سے سندیسے چلے آ رہے تھے۔۔۔ چلے آیئے کہ سندیسے چلے آ رہے تھے۔۔۔ برصغیر کی پہلی اور سب سے وسیع زرعی یونیورسٹی جہاں صرف زراعت میں ہی نہیں تمام علوم میں انیس ہزار طلباء زیرتعلیم تھے اُن کی جانب سے پچھلے کئی ماہ سے سندیسے چلے آ رہے تھے یہاں تک کہ بھاری بھرکم پروفیسر اسلم پرویز اور اُن کے رفقاء میرے گھر چلے آئے اور رشوت کے طور پر میرے لئے دو شاندار بوٹاجات بھی لے آئے کہ چلے آیئے۔۔۔ اُدھر سے سارہ حیات کے فون چلے آ رہے ہیں کہ تارڑ صاحب آپ کو اصغر ندیم سید نے اطلاع کر دی ہو گی کہ ہم فیصل آباد میں پہلے لٹریری فیسٹیول کا اہتمام کر رہے ہیں اور ادیبوں کا پورا ریوڑ جمع نہیں کر رہے صرف آٹھ دس لوگوں کو مدعو کر رہے ہیں، پلیز آپ چلے آیئے۔۔۔ یا وحشت اب اُس دُھول بھرے شہر کے جولاہوں یعنی ٹیکسٹائل والوں اور دیگر برآمد کنندگان اور کاروباریوں کے دماغ میں کیا خلل آ گیا ہے کہ یکدم ادیبوں کی پذیرائی کرنے پر تُل گئے ہیں۔ اگرچہ لائل پور کبھی اتنا بنجر نہ ہوا کرتا تھا۔۔۔ یہاں ساحر لدھیانوی کا قیام رہا یہاں تک کہ اُن کی والدہ یہاں دفن ہوئیں، حبیب جالب ایک عرصہ یہاں رہے۔۔۔ اُدھر برصغیر کے سب سے بڑے انقلابی اور مارکس دانشور کا گاؤں یہاں سے قریب تر، اور اُس کا گھر ابھی تک محفوظ تھا، پرتھوی راج کپور کے والد بھی لائل پور کے آس پاس ہوا کرتے تھے اور پھر پشاور کو کوچ کر گئے۔۔۔ اردو کا باکمال کہانی کار بھی اسی شہر کا باسی تھا۔۔۔ بلکہ فیضؔ ایک عرصہ یہاں مقیم رہے اگرچہ جیل میں مقیم رہے۔۔۔ اور ہاں سریندر پرکاش بمبئی سے جب کبھی مجھے خط لکھتا، آخر میں ہمیشہ یہ فقرہ لکھتا ’’میرے لیل پور کا کیا حال ہے؟‘‘۔
تب میں نے سوچا کہ ایک تیر میں دو شکار کر لئے جائیں۔۔۔ یونیورسٹی آف ایگری کلچر اور لٹریری فیسٹیول کا ایک ہی سفر میں شکار کر لیا جائے۔
ایک دھندلی سویر میں میرے سیاہ گیٹ کے سامنے ایک سفید گاڑی کھڑی تھی، اور ایک بارعب ڈرائیور باجوہ صاحب مونچھوں کو تاؤدے رہے تھے۔ اُن کے ہمراہ نوجوان منان گھبرایا ہوا کھڑا تھا، وہ مجھے لینے آئے تھے۔۔۔ اس دوران جانے کہاں سے کامران سلیم سیالکوٹی عرف ’’برڈز آف سیالکوٹ‘‘ نمودار ہو گیا۔ ’’سر جی میں نے آپ کے ساتھ چلنا ہے، آپ ایک بابا جی ہو، میں نے آپ کا خیال رکھنا ہے، اورآپ کی تصویریں اُتارنی ہیں، میری ڈیوٹی لگ گئی ہے‘‘۔
’’اور یہ ڈیوٹی کس نے لگائی ہے؟‘‘
’’میں نے خود ہی لگائی ہے سر۔۔۔ اور ڈاکٹر احسن نے لگائی ہے‘‘۔
تو اُس دھند آلود سویر میں ہم لیل پور جاتے تھے۔۔۔ باجوہ صاحب کار اتنی نزاکت سے چلاتے تھے جیسے ہم کسی کار پر نہیں تتلی پر سوار ہوں۔
ہم زرعی یونیورسٹی کی وسیع، مہک آور اور خوشبو والی سلطنت میں داخل ہو گئے۔ منان مجھے یونیورسٹی کی تخلیقی سرگرمیوں سے آگاہ کرتا چلا جاتا تھا۔۔۔ سر۔۔۔ ہم ڈرامے کرتے ہیں، گیت گاتے ہیں یہاں تک کہ ہمارے قوال بھی جو طالب علم ہیں کمال کے قوال ہیں۔۔۔ یونیورسٹی اتنے وسیع رقبے پر پھیلی ہوئی تھی کہ اس کے اندر سفر کرتے کار کا پٹرول کم ہونے لگا۔۔۔ میں نے ایک گہرا سکھ بھرا سانس بھرا اور اُس میں میری مٹی کی مہک تھی، سب گُل بوٹے، شجر اور فصلیں تھیں اور یہاں جو لوگ تھے وہ سب مٹی کی محبت میں مبتلا لوگ تھے، میرے قبیلے کے لئے۔
وائس چانسلر اقرار احمد خان نے اقرار کیا کہ وہ ایک مدت سے میری آمد کے منتظر تھے۔ اُن کے ہمراہ مجھے خوش آمدید کہنے والے پروفیسر حضرات کی ایک فوج ظفر موج تھی۔ آڈیٹوریم بھرا پڑا تھا، وہاں اگرچہ ہزاروں لوگ تھے لیکن اتنا شور کرتے تھے مجھے دیکھ کر کہ لاکھوں سنائی دیتے تھے۔ میں نے اُن سب سے باتیں کیں، صرف زراعت کے حوالے سے باتیں کیں۔۔۔ اُنہیں اپنے ابّا جی چودھری رحمت خان تارڑ کے بارے میں بتایا جو مٹی کی محبت میں فنا تھے۔۔۔ اُنہوں نے اردو میں فن زراعت کے بارے میں دودرجن کتابیں لکھیں۔ تیس برس تک ایک زراعتی جریدہ ’’کاشت کار جدید‘‘ شائع کرتے رہے۔۔۔ اور بتایا کہ میرے دادا ایک کسان تھے، ہل چلا کر زمین سے رزق حاصل کرتے تھے چنانچہ یہ میرے دادا کا ہل ہے جسے میں اب تخلیق کی زمینوں میں چلاتا ہوں۔ اپنے ناول ’’خش و خاشاک زمانے‘‘ کا تذکرہ کیا جو پنجاب کی مٹی کا ایک رزمیہ ہے اور خالد اقبال کو یاد کیا جن کا کہنا تھا کہ دنیا بھرمیں سب سے آرٹسٹک درخت کیکر ہے، اور ہر کیکر کی اپنی جداگانہ ثقافت ہوتی ہے، کوئی ایک کیکر کسی دوسرے کیکر سے مشابہ نہیں ہوتا۔۔۔ ازاں بعد وائس چانسلر صاحب نے بجاطور پر نہایت فخر سے بتایا کہ اس یونیورسٹی کی ایک لڑکی اُس تقریب میں شامل ہونے کے لئے منتخب ہونی ہے جہاں ملالہ یوسف زئی کو نوبل انعام سے نوازا جائے گا۔۔۔ اُنہوں نے ملالہ کی توصیف کی اور مجھے یاد آیا کہ یہ مطعون لڑکی جس کا واحد جرم یہ تھا کہ وہ بہادر طالبان کی بوچھاڑوں سے ہلاک نہ ہوئی۔ اُس نے نوبل انعام کی تقریب میں اپنی دوست کائنات، وہ لڑکی جو اُس کے ہمراہ اُس ویگن میں سوار تھی جس پر جی دار طالبان نے حملہ کیا تھا اور بچ گئی تھی، اُسے بھی مدعو کیا ہے۔
زرعی یونیورسٹی کی اُس تقریب میں مجھ سے بہت سوال ہوئے اور وہ سب کے سب زرخیز ذہنوں میں سے پھوٹتے تھے۔ کامران سلیم نے میری ایک پورٹریٹ، نگر کے قدیم حکمرانوں کے چوغے میں ملبوس وائس چانسلر صاحب کو پیش کی اور اُنہوں نے اسے یونیورسٹی کی آرٹ گیلری میں آویزاں کرنے کا اعلان کیا۔
میں جس مٹی کا بیٹا تھا مجھے اُس مٹی سے محبت کرنے والوں نے اپنی چاہتوں سے سرفراز کر دیا۔۔۔ بہت شکریہ، یونیورسٹی آف ایگری کلچر فیصل آباد، وائس چانسلر صاحب، منان اور اسلم پرویز صاحب۔۔۔ آپ نے مجھے میری اوقات سے بڑھ کر مجھے نواز دیا۔ (جاری)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *